Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کراچی میں ڈیجیٹل بھتہ خوری، ’بلڈرز اور تاجر ذہنی دباؤ کا شکار‘

سائبر کرائم کے ماہرین کے مطابق کرپٹو کرنسی مکمل طور پر ناقابل سراغ نہیں۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
ڈیجیٹل بھتہ خوری کراچی میں جرائم کی ایک نئی اور خطرناک شکل کے طور پر ابھر رہی ہے جو بظاہر خاموش مگر کہیں زیادہ پیچیدہ اور گہری ہے۔
کراچی وہ شہر ہے جس نے ماضی میں بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ اور منظم جرائم کے سیاہ ادوار دیکھے اور برسوں کی جدوجہد کے بعد نسبتاً امن کی فضا قائم ہوئی۔ تاہم حالیہ مہینوں میں اطلاعات اس بات کی نشاندہی کر رہی ہیں کہ بھتہ مافیا ایک بار پھر سرگرم ہو چکا ہے، مگر اس بار روایتی طریقوں کے بجائے فون کالز، میسجز، بیرون ملک نمبرز اور کرپٹو کرنسی کے ذریعے خوف اور دباؤ پیدا کر کے رقوم وصول کی جا رہی ہیں۔
یہ ڈیجیٹل بھتہ خوری نہ صرف شہریوں کے لیے ایک نیا خطرہ ہے بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے بھی ایک پیچیدہ اور چیلنجنگ مسئلہ بن چکی ہے۔
ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیویلپرز (آباد) کے چیئرمین محمد حسن بخشی کے مطابق کراچی میں بھتہ خور ایک بار پھر سرگرم ہو چکے ہیں، لیکن اس بار صرف دکانوں پر پرچیاں ہی نہیں پھینکی جا رہیں بلکہ مسلح افراد سامنے آ کر نقد رقم کا مطالبہ کرنے کے ساتھ ڈیجیٹل کرنسی میں بھتہ مانگ رہے ہیں۔
ان کے بقول اب دھمکیاں فون کالز، وائس نوٹس اور میسجز کے ذریعے دی جا رہی ہیں جبکہ ادائیگی کے لیے کرپٹو کرنسی، خصوصاً بٹ کوائن کا تقاضا کیا جا رہا ہے۔
محمد حسن بخشی نے اردو نیوز کو بتایا کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران ان سے متعدد بلڈرز، کنٹریکٹرز اور تاجروں نے رابطہ کیا جو خوف اور ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔ ان افراد کو بیرون ملک نمبرز سے کالز موصول ہو رہی ہیں جن میں محتاط مگر دھمکی آمیز انداز اختیار کیا جاتا ہے۔ کال کرنے والے نہ صرف تاجروں کو اُن کے نام سے مخاطب کرتے ہیں بلکہ اُن کے کاروبار، منصوبوں، دفاتر اور بعض صورتوں میں اہلِ خانہ سے متعلق معلومات کا بھی حوالہ دیتے ہیں۔
ان کالز کا ایک غیرمعمولی پہلو یہ ہے کہ بھتہ مافیا اب فوری رقم کے بجائے چار سالہ بھتہ پلان پیش کر رہا ہے۔

سندھ پولیس کی سفارش پر وفاقی وزارت داخلہ نے انٹرپول کو باقاعدہ خط ارسال کیا ہے۔ فائل فوٹو: پکسابے

محمد حسن کے مطابق متاثرہ افراد کو بتایا جاتا ہے کہ اگر وہ مخصوص مدت تک باقاعدگی سے بٹ کوائن میں ادائیگی کرتے رہیں تو انہیں تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ بصورتِ دیگر نتائج کی ذمہ داری خود ان پر ہو گی۔ یہ انداز بظاہر کسی کاروباری معاہدے جیسا ہے مگر اس کی بنیاد خوف، دباؤ اور دھمکی پر قائم ہے۔
کراچی کے ایک بلڈر نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اردو نیوز کو بتایا کہ انہیں ایک غیرملکی نمبر سے واٹس ایپ پر پیغام موصول ہوا جس میں ان کے زیرِتعمیر منصوبے کی لوکیشن، فلیٹس کی تعداد اور سرمایہ کاری کی مالیت تک درج تھی۔ پیغام کے ساتھ ایک والٹ ایڈریس بھیجا گیا اور کہا گیا کہ 72 گھنٹوں میں ادائیگی نہ کیے جانے پر صورتحال بدل سکتی ہے۔
ان کے مطابق یہ پہلا موقع تھا کہ انہیں محسوس ہوا کہ ان کی سرگرمیاں کس حد تک نگرانی میں ہیں۔
تاجر برادری بھی اسی طرح عدم تحفظ کا شکار ہے۔ کراچی کے مختلف تجارتی علاقوں میں دکانداروں کو فون کالز کے ذریعے کہا جا رہا ہے کہ کرپٹو کرنسی میں ادائیگی سب سے محفوظ راستہ ہے، کیونکہ اس میں نہ بینک شامل ہوتے ہیں اور نہ ہی مقامی اداروں کا کوئی براہِ راست ریکارڈ بنتا ہے۔ اسی دلیل کے ذریعے متاثرہ افراد کو پولیس سے رجوع نہ کرنے پر بھی آمادہ کیا جاتا ہے۔ کئی تاجر، ماضی کے تلخ تجربات کے باعث، خاموش رہنے کو ہی بہتر سمجھ رہے ہیں۔
محمد حسن اس صورتحال کو محض بھتہ خوری نہیں بلکہ ڈیجیٹل بھتہ گردی قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق بیرونِ ملک نمبرز کا استعمال اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ یہ نیٹ ورک ممکنہ طور پر پاکستان سے باہر بیٹھ کر کام کر رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ جب دھمکیاں سرحد پار سے دی جا رہی ہوں تو متاثرہ شہری خود کو بے بس محسوس کرتے ہیں۔
اسی تشویش کے پیشِ نظر محمد حسن کے مطابق وہ اس معاملے پر وزیراعلٰی سندھ، وزیر داخلہ سندھ، آئی جی سندھ اور دیگر اعلٰی حکومتی و پولیس حکام سے بھی رابطے میں ہیں۔

ڈاکٹر نائمہ سعید کے مطابق اگر اس رجحان کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات دور رس ہوں گے۔ فائل فوٹو: فری پکس

ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے ان شخصیات کو کراچی میں ڈیجیٹل بھتہ خوری کے بڑھتے ہوئے رجحان، کرپٹو کرنسی کے استعمال اور بیرون ملک نمبرز سے آنے والی دھمکیوں کے شواہد سے آگاہ کیا ہے۔ ان کے بقول حکام نے تشویش کا اظہار تو کیا ہے تاہم اصل امتحان عملی اقدامات کا ہے۔
سائبر کرائم کے ماہرین کے مطابق کرپٹو کرنسی مکمل طور پر ناقابل سراغ نہیں لیکن اس کی ٹریکنگ کے لیے جدید تکنیکی مہارت، خصوصی سافٹ ویئر اور بین الاقوامی تعاون درکار ہوتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ایف آئی اے کا سائبر کرائم ونگ موجود ہے، مگر ڈیجیٹل جرائم کی تیزی سے بدلتی نوعیت کے مقابلے میں وسائل اور تربیت ایک بڑا سوالیہ نشان ہیں۔
ایک اور اہم سوال یہ بھی ہے کہ بھتہ مافیا کو متاثرین کی ذاتی اور کاروباری معلومات کہاں سے حاصل ہو رہی ہیں۔ کیا یہ معلومات سوشل میڈیا، ڈیٹا لیکس یا کسی اندرونی نظام کی کمزوری کا نتیجہ ہیں؟
محمد حسن کے مطابق یہ معاملہ محض اندازوں تک محدود نہیں بلکہ ایک منظم انفارمیشن نیٹ ورک کی نشاندہی کرتا ہے جو طویل عرصے سے خاموشی کے ساتھ کام کر رہا ہے۔

سندھ پولیس کے حکام کے مطابق بھتہ خوری کے بڑھتے واقعات کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔ فائل فوٹو: اے ایف پی

جامعہ کراچی کے شعبہ جُرمیات کی چیئر پرسن ڈاکٹر نائمہ سعید کے مطابق اگر اس رجحان کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف چند افراد تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ کراچی کی مجموعی معیشت، سرمایہ کاری اور کاروباری اعتماد کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ خاص طور پر رئیل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبہ جو پہلے ہی غیریقینی صورتحال کا شکار ہے، مزید دباؤ میں آ سکتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اب بھتہ مافیا کے خلاف صرف روایتی کارروائیوں پر انحصار نہیں کرنا چاہیے، بلکہ ڈیجیٹل محاذ پر واضح اور مربوط حکمتِ عملی اپنانا ہو گی۔ ان کے مطابق اگر اس خاموش مگر خطرناک جرم کا بروقت تدارک نہ کیا گیا تو یہ شہر ایک بار پھر خوف اور عدم تحفظ کی فضا کا شکار ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب سندھ پولیس سپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو/ سی آئی اے) کے ایک سینیئر افسر نے اردو نیوز کو بتایا ہے کہ کراچی میں تاجروں اور بلڈرز سے بھتہ خوری کے بڑھتے ہوئے واقعات کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔
ان کے مطابق سندھ پولیس کی سفارش پر وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے انٹرپول کو باقاعدہ خط ارسال کیا جا رہا ہے جس میں بیرون ملک موجود مبینہ بھتہ خوروں کی فہرست فراہم کی گئی ہے تاکہ ان کی گرفتاری اور پاکستان منتقلی کے لیے کارروائی عمل میں لائی جائے۔

 

شیئر: