کراچی میں مصنوعی ذہانت کی مدد سے بھتہ خوری کی کوشش کرنے والا ملزم گرفتار
کراچی میں مصنوعی ذہانت کی مدد سے بھتہ خوری کی کوشش کرنے والا ملزم گرفتار
جمعہ 28 نومبر 2025 16:13
زین علی -اردو نیوز، کراچی
پولیس کے مطابق ملزم نے اے آئی کی مدد سے دھمکی آمیز خط تیار کیا (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان کے شہر کراچی میں بھتہ خوری کے لیے پہلی مرتبہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال کا انکشاف ہوا ہے جس نے شہر میں اس نوعیت کے جرائم کی روایت کو ایک نئی اور حیران کن شکل دی ہے۔
پولیس کے مطابق ملزم نے اے آئی کی مدد سے دھمکی آمیز خط تیار کیا اور مالک تک پہنچایا، جس سے معمولی بھتہ خوری کا واقعہ غیرمعمولی نوعیت اختیار کر گیا۔
کراچی کے علاقے ملیر کینٹ سے سامنے آنے والا یہ کیس سوشل میڈیا اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال سے تیار کی گئی نئی قسم کی بھتہ خوری کی مثال ہے۔
ملیر کینٹ پولیس نے جس ملزم کو گرفتار کیا، وہ کوئی پیشہ ور بھتہ خور نہیں تھا بلکہ یہ وہ شخص تھا جو گزشتہ 10 برس سے اسی گھر میں کام کر رہا تھا اور ان کے اعتماد پر پورا اترتا دکھائی دیتا تھا۔
پولیس کے مطابق گرفتار ملزم داؤد ایک ڈرائیور کی حیثیت سے مالکان کے ساتھ رہتا تھا۔ وہ نہ صرف گھر کے اندرونی معاملات سے واقف تھا بلکہ اسے خاندان کے مالی حالات اور ذاتی مصروفیات کا بھی علم تھا۔ اس نے گھر کے سربراہ سے بھتہ طلب کرنے کا منصوبہ تیار کیا۔
کراچی پولیس کے مطابق داؤد نے چند ماہ قبل پسند کی شادی کی تھی اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس کی مالی مشکلات یا نئی ذمہ داریاں اس جرم کا بنیادی محرک ہو سکتی ہیں مگر اصل چونکا دینے والی بات یہ نہیں بلکہ وہ طریقۂ کار ہے جو اس نے اپنے جرم کے لیے اختیار کیا۔
تفتیش کے دوران داؤد نے انکشاف کیا کہ وہ سوشل میڈیا پر آئے روز ایسی ویڈیوز دیکھتا تھا جن میں پیشہ ور بھتہ خور لوگوں کو ڈراتے دھمکاتے اور ان سے رقم طلب کرتے دکھائی دیتے تھے۔ پھر اس کے ذہن میں یہ خیال پیدا ہوا کہ اگر ایسے گروہ محض ایک خط یا کال کے ذریعے بھاری رقم کا مطالبہ کر سکتے ہیں تو وہ بھی یہ طریقہ آزما سکتا ہے۔
داؤد نے جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لیتے ہوئے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے انگریزی زبان میں ایک دھمکی آمیز خط تیار کیا اور اسے پرنٹ کروا کے مالک کے گھر کے باہر پھینک دیا۔
اس خط کے ذریعے اس نے 80 لاکھ روپے کا بھتہ مانگا اور اپنا تعارف ایک خطرناک گینگ کے نمائندے کے طور پر کروایا۔
پولیس کے مطابق داؤد کو مزید تفتیش کے لیے سی آئی اے کے حوالے کر دیا گیا ہے (فوٹو: اے پی پی)
اس کے علاوہ ملزم نے اپنے مالک کو یہ دھوکہ بھی دیا کہ اسے ایک انٹرنیٹ نمبر سے کال موصول ہوئی ہے، جس میں نامعلوم شخص نے سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے ہوئے بھتہ دینے کی تاکید کی تھی۔
داؤد کا خیال تھا کہ انٹرنیٹ نمبر کا ذکر بیان کو مزید قابلِ یقین بنا دے گا اور یوں مالک فوری طور پر پولیس سے رابطہ کرنے کے بجائے خوف کے زیرِاثر رقم دینے پر آمادہ ہو جائے گا۔
داؤد کی توقعات مگر اس وقت ماند پڑ گئیں جب مالک نے پولیس کو اطلاع دیا۔ اس کے بعد تفتیش کا دائرہ وسیع کیا گیا اور بالآخر ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔
پولیس کے مطابق داؤد کو مزید تفتیش کے لیے سی آئی اے کے حوالے کر دیا گیا ہے جبکہ وہ دکان جہاں سے دھمکی آمیز خط پرنٹ کروایا گیا تھا، اس کے مالک کو بھی تفتیش میں شامل کیا جا رہا ہے۔
پولیس افسران کا کہنا ہے کہ ’یہ پہلا موقع ہے جب ایک ایسے شخص نے جو کسی جرائم پیشہ گروہ سے تعلق رکھتا ہے اور نہ ہی اس کا کوئی سابقہ مجرمانہ ریکارڈ ہے، نے صرف سوشل میڈیا اور اے آئی ٹولز کے استعمال سے بھتہ خوری جیسا سنگین جرم کرنے کی کوشش کی۔‘
کراچی میں گزشتہ کچھ ماہ کے دوران بھتہ خوری کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ واقعہ نہ صرف ٹیکنالوجی کے غیر ذمہ دارانہ استعمال کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ اس امر کی بھی کہ اب مجرم تربیت یافتہ ہونے کے بجائے ٹیکنالوجی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کر رہے ہیں۔‘
کراچی میں گزشتہ کچھ ماہ کے دوران بھتہ خوری کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں تاجروں، دکان داروں اور صنعت کاروں کو نامعلوم نمبروں سے دھمکیاں موصول ہونے اور بھتہ طلب کیے جانے کے کیسز رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔
کئی تاجر تنظیموں نے بھی اس حوالے سے اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے کہ شہر میں خوف کی ایک نئی لہر اُبھر رہی ہے جہاں نہ صرف منظم گروہ بلکہ اب معاشی دباؤ یا معاشرتی مسائل کا شکار عام شہری بھی اس جرم کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔