Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ٹیکنالوجی کا نیا خطرہ: پاکستان میں مصنوعی ذہانت سے بھتہ خوری کی کوشش میں ملزم گرفتار

پولیس کے مطابق ملزم نے اے آئی کی مدد سے دھمکی آمیز خط تیار کیا (فوٹو: اے ایف پی)
کراچی میں بھتہ خوری کے لیے پہلی بار مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال کا انکشاف ہوا ہے، جس نے شہر میں اس نوعیت کے جرائم کی روایت کو ایک نئی اور حیران کن شکل دے دی ہے۔
پولیس کے مطابق ملزم نے اے آئی کی مدد سے دھمکی آمیز خط تیار کیا اور مالک تک پہنچایا، جس سے معمولی بھتہ خوری کا واقعہ غیر معمولی نوعیت اختیار کر گیا جس نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا ہے کہ اب جرائم پیشہ عناصر صرف ہتھیار یا دھمکیوں تک محدود نہیں رہے، بلکہ جدید ٹیکنالوجی کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر کے شہر میں خوف پیدا کر رہے ہیں۔
ملیر کینٹ سے سامنے آنے والا یہ کیس سوشل میڈیا اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال سے تیار کی گئی نئی قسم کی بھتہ خوری کی مثال ہے، جس نے شہریوں کے ساتھ ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ مستقبل میں جرائم کی نوعیت تبدیل ہو رہی ہے اور ان سے نمٹنے کے لیے کیا حکمتِ عملی اپنائی جائے۔
ملیر کینٹ پولیس نے جس ملزم کو گرفتار کیا، وہ کوئی پیشہ ور بھتہ خور نہیں تھا بلکہ یہ وہ شخص تھا جو گزشتہ دس برس سے اسی گھر میں کام کر رہا تھا اور ان کے اعتماد پر پورا اترتا دکھائی دیتا تھا۔
پولیس کے مطابق گرفتار ملزم داؤد، جو ایک ڈرائیور کی حیثیت سے مالکان کے ساتھ رہتا تھا، نہ صرف گھر کے اندرونی معاملات سے واقف تھا بلکہ اسے خاندان کے مالی حالات اور ذاتی مصروفیات کا بھی علم تھا جس نے گھر کے سربراہ سے بھتہ طلب کرنے کا منصوبہ تیار کیا۔
کراچی پولیس کے مطابق داؤد نے چند ماہ قبل پسند کی شادی کی تھی اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس کی مالی مشکلات یا نئی ذمہ داریاں اس جرم کا بنیادی محرک ہو سکتی ہیں مگر اصل چونکا دینے والی بات یہ نہیں، بلکہ وہ طریقۂ کار ہے جو اس نے اپنے جرم کے لیے اختیار کیا۔
تفتیش کے دوران داؤد نے انکشاف کیا کہ ’وہ سوشل میڈیا پر آئے روز ایسی ویڈیوز دیکھتا تھا جن میں پیشہ ور بھتہ خور لوگوں کو ڈراتے دھمکاتے اور ان سے رقم طلب کرتے دکھائی دیتے تھے۔ ان ویڈیوز نے اسے نہ صرف متاثر کیا بلکہ اس کے ذہن میں یہ خیال بھی پیدا کیا کہ اگر ایسے گروہ محض ایک خط یا کال کے ذریعے بھاری رقم کا مطالبہ کر سکتے ہیں تو وہ بھی یہ طریقہ آزما سکتا ہے۔‘
تاہم داؤد نے یہ کام روایتی انداز میں نہیں کیا بلکہ جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لیتے ہوئے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے انگریزی زبان میں ایک دھمکی آمیز خط تیار کیا، جسے اس نے نہایت مہارت سے پرنٹ کروا کر مالک کے گھر کے باہر پھینک دیا۔ اس خط کے ذریعے اس نے 80 لاکھ روپے کا بھتہ مانگا اور اپنا تعارف ایک خطرناک گینگ کے نمائندے کے طور پر کروایا۔

پولیس کے مطابق داؤد کو مزید تفتیش کے لیے سی آئی اے کے حوالے کر دیا گیا ہے (فوٹو: اے پی پی)

مزید برآں ملزم نے اپنے مالک کو یہ دھوکا بھی دیا کہ اسے ایک انٹرنیٹ نمبر سے کال موصول ہوئی ہے، جس میں نامعلوم شخص نے سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے ہوئے بھتہ دینے کی تاکید کی تھی۔
داؤد کا خیال تھا کہ انٹرنیٹ نمبر کا ذکر بیان کو مزید قابلِ یقین بنا دے گا اور یوں مالک فوری طور پر پولیس سے رابطہ کرنے کے بجائے خوف کے زیرِ اثر رقم دینے پر آمادہ ہو جائے گا۔
داؤد کی توقعات مگر اس وقت الٹ ہو گئیں جب مالک نے معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے پولیس کو اطلاع دی، جس کے بعد تفتیش کا دائرہ وسیع کیا گیا اور بالآخر ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔
پولیس کے مطابق داؤد کو مزید تفتیش کے لیے سی آئی اے کے حوالے کر دیا گیا ہے، جبکہ وہ دکان جہاں سے دھمکی آمیز خط پرنٹ کروایا گیا تھا، اس کے مالک کو بھی تفتیش میں شامل کیا جا رہا ہے۔
پولیس افسران کا کہنا ہے کہ ’یہ پہلا موقع ہے جب ایک ایسے شخص نے، جو نہ کسی جرائم پیشہ گروہ سے تعلق رکھتا ہے اور نہ ہی اس کا کوئی سابقہ مجرمانہ ریکارڈ ہے، نے صرف سوشل میڈیا اور اے آئی ٹولز کے استعمال سے بھتہ خوری جیسا سنگین جرم کرنے کی کوشش کی۔‘

کراچی میں گزشتہ کچھ ماہ کے دوران بھتہ خوری کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ واقعہ نہ صرف ٹیکنالوجی کے غیر ذمہ دارانہ استعمال کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ اس امر کی بھی کہ اب مجرم تربیت یافتہ ہونے کے بجائے ٹیکنالوجی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کر رہے ہیں۔‘
کراچی میں گزشتہ کچھ ماہ کے دوران بھتہ خوری کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں تاجروں، دکان داروں اور صنعت کاروں کو نامعلوم نمبروں سے دھمکیاں موصول ہونے اور بھتہ طلب کیے جانے کے کیسز رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔ کئی تاجر تنظیموں نے بھی اس حوالے سے اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے کہ شہر میں خوف کی ایک نئی لہر اُبھر رہی ہے، جہاں نہ صرف منظم گروہ بلکہ اب معاشی دباؤ یا معاشرتی مسائل کا شکار عام شہری بھی اس جرم کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ جرائم کرنے کے طریقوں میں آنے والی اس تبدیلی کو سمجھنا اب ناگزیر ہو چکا ہے۔ جرائم پیشہ عناصر ہی نہیں بلکہ عام لوگ بھی جدید ٹیکنالوجی کو غلط مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں، اور اس رجحان کو بروقت روکنے کے لیے سخت قوانین، عوامی آگاہی اور تیز رفتار تفتیشی نظام کی ضرورت ہے۔
یہ واقعہ کراچی کے لیے نہ صرف بھتہ خوری کے بڑھتے ہوئے رجحان کے حوالے سے ایک انتباہ ہے بلکہ اس نئے دور کے حوالے سے بھی جہاں ٹیکنالوجی انسان کے ہاتھ میں ایک مفید آلہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک خطرناک ہتھیار بھی بن چکی ہے۔

 

شیئر: