Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کراچی میں کار لفٹنگ، جدید لاک ہیک کر کے گاڑیاں چوری کرنے والا گروہ کیسے گرفتار ہوا؟

اب گاڑی چوری کرنے کے لیے نہ شیشہ توڑنے کی ضرورت ہے اور نہ ہی تالہ توڑنے کی۔ کراچی کے علاقے شاہ لطیف میں پولیس نے ایک ایسے ہائی ٹیک کار لفٹر گروہ کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو الیکٹرانک ڈیوائس کے ذریعے جدید گاڑیوں کے لاک اور سٹارٹ سسٹم کو ہیک کر کے چند لمحوں میں واردات مکمل کر لیتا تھا۔
پولیس کے مطابق یہ ملزم روایتی طریقوں کے بجائے ایک الیکٹرانک ڈیوائس کے ذریعے گاڑی کے لاک سسٹم کو کنٹرول کرنے کے بعد اُسے ہیک کرتے اور پھر اپنی ریموٹ کنٹرول چابی سے گاڑی سٹارٹ کر کے چند ہی لمحوں میں موقع سے رفوچکر ہو جاتے تھے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ’یہ طریقہ واردات اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کراچی میں کار لفٹنگ اب صرف زبردستی چھیننے تک محدود نہیں رہی بلکہ ڈیجیٹل جرائم کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ جدید گاڑیوں میں لگے حفاظتی نظام، جنہیں عام طور پر محفوظ سمجھا جاتا ہے، اب جرائم پیشہ عناصر کے لیے کوئی مشکل پیدا نہیں کرتے۔ اسی وجہ سے پولیس اس کارروائی کو حالیہ برسوں کی ایک غیر معمولی اور اہم پیش رفت قرار دے رہی ہے۔‘
شاہ لطیف تھانے کے سٹیشن ہائوس افسر ممتاز خان مروت نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ’ گرفتار ملزموں میں شمشاد، مجیب، عبدالزاق اور رمیض شامل ہیں۔ کارروائی کے دوران ان کے قبضے سے دو پستول، چار موٹر سائیکلیں، ایک کار اور دیگر سامان کے علاوہ وہ جدید ڈیوائس بھی برآمد کی گئی جو گاڑیوں کے الیکٹرانک لاک اور سٹارٹ سسٹم کو متاثر کرنے کے لیے استعمال ہوتی تھی۔ اس ڈیوائس کا ان وارداتوں میں بنیادی کردار تھا۔‘
ابتدائی تفتیش کے مطابق یہ گروہ کراچی کے مختلف علاقوں میں سرگرم تھا اور خاص طور پر مہنگی اور جدید ماڈل کی گاڑیوں کو نشانہ بناتا تھا۔
ملزم ایسی گاڑیوں کا انتخاب کرتے جن میں کی لیس انٹری اور جدید سکیورٹی فیچرز موجود ہوتے، تاکہ کم وقت میں اور بغیر شور شرابے کے واردات مکمل کی جا سکے۔
واضح رہے کہ پولیس کی جانب سے جاری کردہ اعداد شمار کے مطابق رواں سال کے 11 ماہ میں جرائم کی شرح میں 32 فیصد کمی ہوئی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ شہر میں جرائم پیشہ افراد آئے روز نت نئے طریقوں سے مجرمانہ سرگرمیوں کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ واقعہ اس بات کی علامت ہے کہ شہری علاقوں میں جرائم کا انداز تیزی سے بدل رہا ہے۔ اب چور صرف تالے یا شیشے توڑنے پر انحصار نہیں کرتے بلکہ وہ الیکٹرانک سسٹمز کو ہیک کرنے جیسے طریقے اپنا رہے ہیں، جس سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے چیلنجز بھی بڑھ رہے ہیں۔

شہریوں کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی گاڑیوں کی حفاظت کے لیے اضافی سکیورٹی اقدامات کریں (فوٹو: سندھ پولیس)

پولیس کا کہنا ہے کہ ’گرفتار ملزموں کے خلاف مقدمات درج کر لیے گئے ہیں اور تفتیش کا دائرہ وسیع کیا جا رہا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ ڈیوائس کہاں سے حاصل کی گئی، کیا اس کے پس پردہ کوئی بڑا نیٹ ورک موجود ہے اور کیا شہر میں اس نوعیت کے دیگر گروہ بھی سرگرم ہیں۔‘
شاہ لطیف پولیس کے مطابق اس کارروائی کا مقصد صرف چند افراد کو گرفتار کرنا نہیں بلکہ یہ پیغام دینا بھی ہے کہ پولیس بدلتے ہوئے جرائم کے طریقوں سے نمٹنے کے لیے خود بھی ٹیکنالوجی اور انٹیلی جنس کا استعمال بڑھا رہی ہے۔
تاہم شہریوں کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی گاڑیوں کی حفاظت کے لیے اضافی سکیورٹی اقدامات کریں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی پولیس کو فوری اطلاع دیں۔

 

شیئر: