بلند و بالا قلعوں اور موٹی فصیلوں کو دیکھ کر ماضی کے فنِ تعمیر کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس دور کے معماروں نے کتنی مشقتوں سے انہیں بلند کیا ہوگا۔
سعودی خبررساں ایجنسی ’ایس پی اے‘ کے مطابق جازان کے علاقے کی قدیم ثقافت آج یہاں کی منفرد شناخت ہے جو برسوں سے قائم ہے۔
واچ ٹاورز دشمن سے تحفظ کے لیے اہم ہوتے تھے (فوٹو، ایس پی اے)
ان قلعوں میں قابل ذکر ’الدوسریہ‘ قلعہ بھی ہے جہاں سے جیزان شہر کا نظارہ بخوبی کیا جاسکتا ہے۔ بنی مالک فصیل ، جزیرہ فرسان کے تاریخی قلعے ان نمایاں نشانیوں میں شامل ہیں جو ماضی میں فخر اور طاقت کی علامت مانے جاتے تھے۔
یہ قلعے مشکل حالات میں شہری آبادی کے لیے دشمن کے سامنے ڈھال کا کام کرتے اور بہترین پناہ گاہ ثابت ہوتے تھے جبکہ ان کی فصیل پر بنے عسکری مورچے بھی راہداریوں کے تحفظ کےلیے اہم تھے۔
پتھروں کے قلعے آج بھی ماضی کی داستانیں بہ زبان خاموشی سناتے ہیں(فوٹو ، ایس پی اے)
یہ قلعے موٹی پتھریلی دیواروں کی وجہ سے منفرد ہیں جن کے بلند و بالا واچ ٹاورز جازانیوں کے فنِ تعمیر اور دفاعی منصوبہ بندی کی منہ بولتی تصویر ہیں ۔
ماضی کے یہ اہم قلعے آج سیاحوں اور تاریخ سے دلچسپی رکھنے والوں کےلیے غیرمعمولی طور پر اہمیت اختیار کرچکے ہیں ۔