سعودی عرب کا منفرد سیاحتی مقام الباحہ ’پائیدار ترقی کی مثال‘
سعودی عرب کے الباحہ ریجن کے ترقیاتی منصوبوں سے علاقے کے مختلف شعبوں میں غیرمعمولی تبدیلیوں کا مشاہدہ کیا جا رہا ہے۔ یہاں سیاحت کے علاوہ زرعی شعبوں میں بھی تیز رفتار ترقی دیکھنے میں آئی ہے۔
سعودی خبررساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق مملکت کا یہ منفرد سیاحتی مقام پائیدار ترقی کی ایک مثال ہے۔
باحہ ریجن کے سیکریٹری ڈاکٹرعلی بن محمد السواط کا کہنا ہے کہ ’میونسپلٹی اور ریجنل بلدیاتی اداروں نے گزشتہ پانچ برسوں کے دوران 125 بلدیاتی ترقیاتی منصوبوں پر کام کیا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ترقیاتی منصوبوں میں 73 شاہراہوں کی کارپیٹنگ اور فٹھ پاتھوں کی تزئین و آرائش جبکہ 21 منصوبے بلدیہ کی عمارتوں اور 11 منصوبے سیلابی پانی کی گزرگاہوں کی مینٹینس جبکہ 13 منصوبے انسانی ترقیاتی امور سے متعلق تھے۔‘
میونسپلٹی نے ریجن کے مختلف علاقوں میں پارکوں اور واکنگ ٹریکس پر خصوصی توجہ دی جس کے تحت الباحہ میں واکنگ ٹریکس کی تعداد 43 ہو گئی جن کی مجموعی لمبائی 53083 میٹر ہے جبکہ 143 پارک اور تفریحی مقامات شامل ہیں۔

واکنگ ٹریکس پر سائیکلنگ کے راستے جدا بنائے گئے جبکہ مخصوص افراد کے لیے بھی مقامات بنائے گئے۔
وزارت ماحولیات، پانی اور زراعت کے ریجنل ڈائریکٹر انجینیئر فہد الزھرانی نے بتایا کہ ’الباحہ ریجن کا شمار مملکت کے ممتاز زرعی علاقوں میں ہوتا ہے جہاں موسمی فصلوں کی کاشت اور زرعی سرمایہ کاری کے مواقع میں بھی اضافہ ہوا۔ زرعی کمرشل رجسٹریشنز کی تعداد 6342 تک پہنچ گئی جبکہ سیاحتی فارم ہاؤسز بھی 28 سے تجاوز کر گئے۔

ریجنل ڈائریکٹر انجینیئر فہد الزھرانی کا کہنا تھا کہ’علاقے میں انار کی کاشت میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو آٹھ ہزار ٹن سالانہ تک پہنچ گئی ہے جبکہ شہد کی سالانہ کشید 1250 ٹن ریکارڈ کی گئی۔‘
گزشتہ عرصے میں زرعی سٹیز کے قیام کے حوالے سے 9 سرمایہ کاری معاہدے ہوئے جن کے تحت دو ملین مربع میٹر اراضی پر انار، بادام اور کافی کے باغات لگائے جائیں گے۔

علاقے کی ترقیاتی امور کے ادارے کے سی ای او انجینیئرعبدالعزیز بن محمد النعیم کا کہنا تھا کہ ’علاقے میں زرعی سیاحت کو فروغ دینے کے لیے ترقیاتی و سرمایہ کاری منصوبوں پر جامع انداز میں کام کیا گیا۔ اس حوالے سے 110 سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کیے گئے جس کے تحت علاقے کی ترقی کو یقینی بنایا گیا۔‘
