سعودی عرب کے علاقے حدود الشمالیہ سے دُور دراز کا سفر کرکے ہم تک پہنچنے والی یہ کہانی فخر کی ایک ایسی داستان ہے جس کا رشتہ سعودی میراث سے ان مِٹ ہے۔
یہ کہانی ایک ایسی خاتون کی ہے جنھوں نے فالکنری میں نام پیدا کیا اور نہ صرف بازوں کی پرورش کی بلکہ انھیں تربیت بھی دی کہ شکار کے داؤ پیچ کیا ہیں۔
مزید پڑھیں
-
مدینہ ریجن میں فالکنری کی روایت جو نسل در نسل منتقل ہو رہی ہےNode ID: 895930
-
کنگ عبدالعزیز فالکنری فیسٹیول میں خواتین کے لیے خصوصی راؤنڈزNode ID: 898686
یہ سعودی خاتون اب ایک فیسٹیول میں اپنے ہنر کو لوگوں کے سامنے لانے کی بھی تیاری کر رہی ہیں۔
یہ کہانی امینہ العنزی کی ہے جنھوں نے ایک ایسا کام کیا جسے مملکت کے قومی ورثے میں دوام حاصل ہے۔
فالکنری ان کے بچپن کا شوق تھا جسے انھوں نے باقاعدہ تربیت لے کر پُورا کیا۔ جس میں انھیں صبر کے ساتھ بہت کچھ سیکھنا پڑا اور جس میں ترقی بھی ہوئی لیکن امینہ نے اسے اپنے عزم و استقلال سے حاصل کیا۔

سعودی پریس ایجنسی ایس پی اے کے ساتھ اپنے سفر کی داستان شیئر کرتے ہوئے امینہ العنزی نے بتایا کہ ’بازوں کے ساتھ میری رغبت کچھ برس پہلے شروع ہوئی جب انھیں مختلف فیسٹیولز میں دیکھا۔، پھر وہ وقت آیا جب میں نے پہلی مرتبہ باز حاصل کیا اور مرحلہ وار فالکنری کے بارے میں سیکھتی رہی۔‘
انہوں نے تسلیم کیا کہ فالکنری سیکھنے کا ابتدائی زمانہ ایک چیلنج سے کم نہیں تھا۔
’کبھی یہ ڈر رہتا تھا کہ میرا باز کہیں کھو نہ جائے۔ کبھی یہ خوف دامن گیر ہوتا تھا کہ ایسا نہ ہو کہ باز اڑے اور پھر واپس نہ آئے۔ لیکن اس شوق کو پوری لگن کے ساتھ وقت دینے اور مستقل مزاجی کے ساتھ باز کی تربیت نے میرے خوف و ڈر آہستہ آہستہ ختم کر دیے۔‘

امینہ العنزی نے زور دے کر کہا کہ ’فالکنری پر مہارت حاصل کرنا نہ آسان ہے اور نہ یہ ایسا کام ہے جو چٹکی بجاتے ہی ہو جائے۔‘
ان کے مطابق ’اس میں صبر چاہیے اور مستقل مشق بھی جس سے فالکنر اور فالکن کے درمیان ایک رشتہ جنم لے لیتا ہے جو وقت کے ساتھ مضبوط ہوتا جاتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ’ فالکنری کے فن کے لیے ان کے دل میں بہت محبت ہے اور ان کی خواہش ہے کہ وہ اپنی مہارتوں کو بڑھاتی رہیں۔‘
وہ طریف گورنریٹ میں کچھ عرصے بعد شروع ہونے والے فیسٹیول میں حصہ لے رہی ہیں۔ یہ ایسا ایونٹ ہے جو فالکنروں کے دِل کے قریب بسنے والے ایک شوق کو محفوظ رکھنے اور اسے لوگوں کے سامنے لانے میں مستقبل کی نسلوں کی مدد کرے گا۔











