پاکستان میں ٹیموں پر حملوں کے باوجود پولیو کیسز میں نمایاں کمی
’رواں برس 30 کیس سامنے آئے جبکہ پچھلے برس یہ تعداد 74 تھی‘ (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان میں پولیو ٹیموں پر حملوں کے باوجود 2025 کے دوران کیسز کی تعداد میں نصف سے زیادہ کمی آئی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے اے پی نے بدھ کو انسداد پولیو کے لیے کام کرنے والے سرکاری ادارے کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ 2025 کے دوران نصف سے بھی کم کیسز رپورٹ ہوئے جو موذی وائرس کے خاتمے کی نشاندہی کرتا ہے۔
رواں برس کے دوران ویکسین سینٹرز اور ورکرز کو بار بار شدت پسندوں کے حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ بیان حکومت کی جانب سے شروع کی گئی ملک گیر مہم کے دو ہفتے بعد سامنے آیا جس میں ساڑھے چار کروڑ بچوں کو قطرے پلانے کا ہدف رکھا گیا تھا۔
پولیو کے خاتمے کے لیے کام کرنے والے نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے کوآرڈینیٹر انوارالحق نے اے پی کو بتایا کہ 2025 کے دوران 30 کیسز سامنے آئے جبکہ پچھلے برس یہ تعداد 74 تھی۔
انوارالحق کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملک میں نئے سال کی پہلی پولیو مہم فروری کے دوران شروع کی جائے گی۔
ان کے مطابق ستمبر کے بعد سے ملک میں کوئی بھی نئی انفیکشن رپورٹ نہیں ہوئی اور اس کی وجہ وہ پولیو مہمات ہیں جو سال کے دوران چلتی رہیں۔
انہوں نے کہا کہ زیادہ تر پولیو مہموں کے دوران 98 فیصد تک ٹارگٹڈ آبادی تک رسائی حاصل کی گئی تاہم اس کے باوجود بھی بعض علاقوں تک رسائی میں مشکلات رہیں۔
انہوں نے خاص طور پر خیبر پختونخوا کے بعض حصوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ جہاں صحت کے کارکنوں کو شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔
ممکنہ حملوں کی انٹیلی جنس وارننگ کے بعد حکام ہر ویکسینیشن مہم کے دوران ہزاروں پولیس افسران کو تعینات کرتے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ سنہ 90 سے اب تک 200 سے زیادہ پولیو ورکرز اور ان کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکار مختلف حملوں میں مارے جا چکے ہیں۔