افغانستان انڈیا کی پراکسی، اس وقت دہلی اور کابل میں کوئی فرق نہیں: خواجہ آصف
پاکستان اور افغانستان کے تعلقات چند ماہ سے کشیدہ ہیں اور افواج کے درمیان کئی جھڑپیں بھی ہو چکی ہیں (فوٹو: اے پی)
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ کابل حکومت انڈیا کی پراکسی بنی ہوئی ہے اور دہشت گردوں کی پشت پناہی کے خاتمے کی ضمانت دینے کو تیار نہیں۔
بدھ کو قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ کابل اس وقت پاکستان کے خلاف انڈیا ہی نہیں ہندوتوا کی جنگ لڑ رہا ہے۔
ان کے مطابق ’اس وقت دہلی اور کابل میں کوئی فرق نہیں، مشرقی اور مغربی سرحد پر ایک ہی دشمن بیٹھا ہوا ہے۔‘
وزیر دفاع کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ہم نے کئی بار دیانتداری کے ساتھ کوشش کی، ان کی منت کی کہ دہشت گردوں کی پشت پناہی چھوڑ دیں اور ان کے کیمپس کو ختم کریں، مگر وہ اس طرف آتے ہی نہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ایک نہیں تین ممالک کو بیچ میں ڈالا، سعودی عرب، ترکی قطر کی وساطت سے بات چیت کی لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔
خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ہماری خواہش ہے کہ دہلی اور کابل کے درمیان فرق ہو، وہ ہمارے ساتھ بات چیت کرے، معاملات کو حل کرے تاکہ دہشت گردی کا خاتمہ ہو سکے، مگر وہ اس پر تیار نہیں۔
ان کے مطابق ’اس کا تو پھر ایک ہی حل ہے کہ تنگ آمد بجنگ آمد، پھر تو جنگ ہو گی جو ہم نے دہلی کے ساتھ کیا وہی کابل کے ساتھ کریں گے۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ لمبے عرصے تک دہشت گردی کے معاملے پر خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے مدد نہیں تھی، مگر اب ہے جو اچھی بات ہے اور ہم سب ایک پیج پر ہیں۔
خیال رہے پچھلے کچھ عرصے سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کشیدگی کا شکار ہیں جبکہ سرحدی علاقوں میں دونوں کی افواج کے درمیان جھڑپیں بھی ہو چکی ہیں۔
پاکستان افغانستان پر دہشت گردوں کو پناہ دینے کا الزام لگاتا ہے کہ وہ پاکستان آ کر دہشت گردی کی کارروائیاں کرتے ہیں جبکہ افغانستان ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔