کراچی میں منشیات کے مقدمات میں مطلوب ملزمہ انمول عرف پنکی ایک مرتبہ پھر اس وقت خبروں کی زینت بن گئیں جب انہیں منگل کو جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں پیش کیا گیا۔
انمول عرف پنکی کا نام گذشتہ کچھ عرصے سے شہر میں منشیات کے کاروبار سے متعلق خبروں میں سامنے آتا رہا ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق اُن کے خلاف تھانہ گارڈن میں متعدد مقدمات درج ہیں۔
مزید پڑھیں
-
منشیات کا استعمال: اب میڈیکل طلبہ کے خون کا ٹیسٹ ہو گاNode ID: 444431
پولیس کا مؤقف ہے کہ ملزمہ منشیات کی خرید و فروخت کے منظم نیٹ ورک سے وابستہ ہے اور اس کی سرگرمیوں کے حوالے سے کافی عرصے سے نگرانی کی جا رہی تھی۔
حالیہ کارروائی کے دوران پولیس نے اسے گرفتار کیا اور اس کے قبضے سے چرس سمیت دیگر منشیات برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمہ کے قبضے سے برآمد ہونے والی منشیات کی مجموعی مالیت لاکھوں روپے سے زائد ہے۔ پولیس کے مطابق برآمد شدہ مواد ابتدائی طور پر منشیات کے کاروبار میں استعمال ہونے والا سامان معلوم ہوتا ہے اور اس سلسلے میں مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔
تفتیشی افسر نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزمہ کا 14 روزہ جسمانی ریمانڈ دیا جائے تاکہ اس سے مزید پوچھ گچھ کی جا سکے اور اس کے ممکنہ ساتھیوں، سپلائی چین اور منشیات کے کاروبار سے وابستہ دیگر افراد تک رسائی حاصل کی جا سکے۔
جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں سماعت کے دوران ملزمہ کو پیش کیا گیا تو وہاں موجود افراد کی توجہ اس بات نے حاصل کی کہ انمول عرف پنکی کو بغیر ہتھکڑی عدالت میں لایا گیا۔
عدالت نے پولیس کی جانب سے جسمانی ریمانڈ کی استدعا پر غور کرنے کے بعد ملزمہ کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا۔
اس فیصلے کے بعد ملزمہ کو مزید کارروائی تک جیل منتقل کر دیا گیا۔ عدالتی کارروائی کے دوران پولیس حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ مقدمے کی تفتیش جاری ہے اور مزید شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔

ملزمہ کی بغیر ہتھکڑی پیشی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر سامنے آنے کے بعد اس معاملے نے نیا رُخ اختیار کر لیا ہے۔ ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان نے فوری طور پر اس واقعے کا سخت نوٹس لیا۔
انہوں نے ڈی آئی جی ساؤتھ سے فوری رپورٹ طلب کر لی اور متعلقہ افسران کے کردار کے تعین کے لیے باضابطہ انکوائری کا حکم دے دیا۔
پولیس حکام کے مطابق یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ملزمہ کو بغیر ہتھکڑی عدالت میں پیش کرنے کا فیصلہ کس کی ہدایت پر کیا گیا اور آیا اس عمل میں قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی ہوئی یا نہیں۔
ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ قانون اور ایس او پیز کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ کراچی پولیس کے تمام افسران اور اہلکار قواعد و ضوابط کے پابند ہیں اور ہر اہلکار پر لازم ہے کہ وہ گرفتار ملزمان کو عدالت میں پیش کرتے وقت طے شدہ طریقہ کار پر عمل کرے۔
آزاد خان نے کہا کہ اگر تحقیقات میں کسی افسر یا اہلکار کی غفلت یا جان بوجھ کر خلاف ورزی ثابت ہوئی تو اس کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔













