Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کراچی: مختلف مقدمات میں مطلوب ’پِنکی‘ بغیر ہتھکڑی عدالت میں پیش، ملزمہ کون ہے؟

کراچی میں منشیات کے مقدمات میں مطلوب ملزمہ انمول عرف پنکی ایک مرتبہ پھر اس وقت خبروں کی زینت بن گئیں جب انہیں منگل کو جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ 
انمول عرف پنکی کا نام گذشتہ کچھ عرصے سے شہر میں منشیات کے کاروبار سے متعلق خبروں میں سامنے آتا رہا ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق اُن کے خلاف تھانہ گارڈن میں متعدد مقدمات درج ہیں۔ 
پولیس کا مؤقف ہے کہ ملزمہ منشیات کی خرید و فروخت کے منظم نیٹ ورک سے وابستہ ہے اور اس کی سرگرمیوں کے حوالے سے کافی عرصے سے نگرانی کی جا رہی تھی۔ 
حالیہ کارروائی کے دوران پولیس نے اسے گرفتار کیا اور اس کے قبضے سے چرس سمیت دیگر منشیات برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمہ کے قبضے سے برآمد ہونے والی منشیات کی مجموعی مالیت لاکھوں روپے سے زائد ہے۔ پولیس کے مطابق برآمد شدہ مواد ابتدائی طور پر منشیات کے کاروبار میں استعمال ہونے والا سامان معلوم ہوتا ہے اور اس سلسلے میں مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔ 
تفتیشی افسر نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزمہ کا 14 روزہ جسمانی ریمانڈ دیا جائے تاکہ اس سے مزید پوچھ گچھ کی جا سکے اور اس کے ممکنہ ساتھیوں، سپلائی چین اور منشیات کے کاروبار سے وابستہ دیگر افراد تک رسائی حاصل کی جا سکے۔
جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں سماعت کے دوران ملزمہ کو پیش کیا گیا تو وہاں موجود افراد کی توجہ اس بات نے حاصل کی کہ انمول عرف پنکی کو بغیر ہتھکڑی عدالت میں لایا گیا۔ 
عدالت نے پولیس کی جانب سے جسمانی ریمانڈ کی استدعا پر غور کرنے کے بعد ملزمہ کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا۔ 
اس فیصلے کے بعد ملزمہ کو مزید کارروائی تک جیل منتقل کر دیا گیا۔ عدالتی کارروائی کے دوران پولیس حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ مقدمے کی تفتیش جاری ہے اور مزید شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔

تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ’ملزمہ کے قبضے سے لاکھوں روپے کی منشیات برآمد ہوئی‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

ملزمہ کی بغیر ہتھکڑی پیشی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر سامنے آنے کے بعد اس معاملے نے نیا رُخ اختیار کر لیا ہے۔ ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان نے فوری طور پر اس واقعے کا سخت نوٹس لیا۔ 
انہوں نے ڈی آئی جی ساؤتھ سے فوری رپورٹ طلب کر لی اور متعلقہ افسران کے کردار کے تعین کے لیے باضابطہ انکوائری کا حکم دے دیا۔ 
پولیس حکام کے مطابق یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ملزمہ کو بغیر ہتھکڑی عدالت میں پیش کرنے کا فیصلہ کس کی ہدایت پر کیا گیا اور آیا اس عمل میں قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی ہوئی یا نہیں۔
ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ قانون اور ایس او پیز کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ 
ان کا کہنا تھا کہ کراچی پولیس کے تمام افسران اور اہلکار قواعد و ضوابط کے پابند ہیں اور ہر اہلکار پر لازم ہے کہ وہ گرفتار ملزمان کو عدالت میں پیش کرتے وقت طے شدہ طریقہ کار پر عمل کرے۔ 
آزاد خان نے کہا کہ اگر تحقیقات میں کسی افسر یا اہلکار کی غفلت یا جان بوجھ کر خلاف ورزی ثابت ہوئی تو اس کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

سوشل میڈیا پر ملزمہ کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد بعض صارفین نے بغیر ہتھکڑی پیشی پر سوالات اٹھائے (فائل فوٹو: پِکسابے)

پولیس ذرائع کے مطابق ملزمہ انمول عرف پنکی کے خلاف درج مقدمات میں منشیات کی خرید و فروخت، ممنوعہ اشیا کی نقل و حمل اور دیگر متعلقہ دفعات شامل ہیں۔ 
حکام کا کہنا ہے کہ اس کیس کی تفتیش کے دوران یہ بھی جانچا جائے گا کہ آیا ملزمہ کسی بڑے گروہ کا حصہ ہے یا انفرادی طور پر سرگرم ہے۔ 
اس ضمن میں اس کے موبائل فون، رابطوں اور مالی معاملات کا بھی جائزہ لیا جا سکتا ہے تاکہ منشیات کے کاروبار کے وسیع تر نیٹ ورک تک پہنچا جا سکے۔
قانونی ماہرین کے مطابق گرفتار ملزمہ کو عدالت میں پیش کرتے وقت حفاظتی اقدامات اختیار کرنا پولیس کی ذمہ داری ہوتی ہے، تاہم بعض حالات میں سکیورٹی صورت حال، عدالتی احکامات یا دیگر انتظامی وجوہات کی بنیاد پر مختلف طریقہ کار اختیار کیا جا سکتا ہے۔ 
اس کے باوجود اگر ایس او پیز کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو اس کی مکمل تحقیقات ضروری ہیں تاکہ آئندہ ایسے واقعات سے بچا جا سکے اور عوام کا اعتماد برقرار رکھا جا سکے۔
قانون دان محمد فاروق نے اردو نیوز کو بتایا کہ عام طور پر کسی خاتون ملزمہ کو عدالت میں ہتھکڑی لگا کر پیش نہیں کیا جاتا بلکہ لیڈی پولیس اہلکار اسے عدالت میں پیش کرتی ہیں۔ 
ان کے مطابق پاکستانی قانون میں کسی خاتون کو ہتھکڑی لگانا بذات خود غیر قانونی نہیں تاہم یہ صرف غیر معمولی حالات میں کیا جا سکتا ہے۔ اگر پولیس کے پاس یہ معقول خدشہ ہو کہ ملزمہ فرار ہو سکتی ہے، مزاحمت کرے گی یا سکیورٹی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے تو ہتھکڑی لگانے کی اجازت ہو سکتی ہے۔
’تاہم اگر ملزمہ تعاون کر رہی ہو اور فرار کا خطرہ نہ ہو تو غیر ضروری ہتھکڑی کو عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔‘
سوشل میڈیا پر اس واقعے کے بعد مختلف تبصرے سامنے آئے، جہاں بعض صارفین نے بغیر ہتھکڑی پیشی پر سوالات اٹھائے جبکہ کچھ نے اس معاملے میں مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ 
عوامی ردعمل کے بعد پولیس حکام نے واضح کیا کہ واقعے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کی جائیں گی اور ذمہ داروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہوگی۔
دوسری جانب منشیات کے خلاف کارروائیوں کو کراچی پولیس کی ترجیحات میں شامل قرار دیا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ شہر میں منشیات کے کاروبار کے خلاف آپریشن جاری رہے گا اور ایسے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ 
انمول عرف پنکی کا کیس بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی قرار دیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے پولیس نہ صرف ایک ملزمہ کے خلاف کارروائی کر رہی ہے بلکہ اس سے جُڑے ممکنہ نیٹ ورک کو بھی بے نقاب کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

شیئر: