فعال سیاست سے کنارہ کش نواز شریف کی اچانک ’سیاسی بیداری‘، وجہ کیا ہے؟
فعال سیاست سے کنارہ کش نواز شریف کی اچانک ’سیاسی بیداری‘، وجہ کیا ہے؟
بدھ 13 مئی 2026 10:16
رائے شاہنواز -اردو نیوز، لاہور
تیل کی بڑھتی قیمتوں پر حکومت کو شدید تنقید کا سامنا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت ان دنوں مہنگائی اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے تنقید کی زد میں ہے۔
دوسری طرف پارٹی اپنی سیاسی ساکھ بچانے کے لیے بھی ہاتھ پاؤں مارتی نظر آ رہی ہے۔ اس کی تازہ مثال پارٹی صدر نواز شریف کی ایک مرتبہ پھر ’سیاسی بیداری‘ ہے اور حالیہ دنوں میں وہ سیاسی معاملات پر متحرک ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔
اس مرتبہ یہ بیداری گلگت بلتستان کے انتخابات کے حوالے سے ہے۔ انہوں نے پارٹی کے پالیمانی بورڈ کی صدارت کی جس میں امیدواروں کو ٹکٹس دینے کا فیصلہ کیا گیا اور پارٹی کے اندر یہ آوازیں بھی آ رہی ہیں کہ وہ آنے والے دنوں میں اس سیاسی دنگل میں خود لیڈ کریں گے اور جلسوں سے خطاب بھی کریں گے۔
جب سے مسلم لیگ ن کی حکومت اقتدار میں آئی ہے نواز شریف منظر عام پے بہت کم دکھائی دیے ہیں۔
وہ یا تو پنجاب حکومت کے ترقیاتی کاموں کی سرپرستی کرتے نظر آئے یا کبھی کبھار وزیر اعظم سے ملاقات کی خبر آ جاتی ہے۔
اہم حال ہی میں خود ان کی پارٹی کے اندر سے خبریں آتی رہی ہیں کہ وہ جلسوں میں شرکت کریں گے۔ نواز شریف ایسے وقت میں جب ان کی جماعت کی حکومت تنقید کی زد میں سیاسی سرگمی سے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟
پی ایم ایل کے اقتدار میں آنے کے بعد سے نواز شریف بہت کم منظر عام پر آئے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
اس کے جواب میں ن لیگ کی سیاست کو دہائیوں سے نظر رکھنے والے سینیئر تجزیہ کار سلمان غنی کہتے ہیں کہ ’مجھے ن لیگ کی سیاست میں آج تک ایسی سیاسی بے بسی دکھائی نہیں دی جو اب ہے اور نہ ہم اس نواز شریف کو جانتے ہیں جو خاموشی سے پیچھے بیٹھا ہے۔ مجھے یاد ہے جب وہ حکومت میں ہوتے تھے تو ان کی صبح ہی دال اور آٹے کی ریٹ لسٹوں سے ہوتی تھی اور ان کی مرضی کے بغیر پالیسی نہیں بنتی تھی۔ میرا تجزیہ اب یہ ہے کہ نواز شریف کی اپنی اپوزیشن کی اپنی پارٹی ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’نواز شریف کو اس وقت پارٹی کی ساکھ کی بہت فکر ہے اور وہ اپنی سیاسی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں اس وقت جیسے ان کی پارٹی حکومت کر رہی ہے پارٹی کے اندر سے اتنی آوازیں اٹھ رہی ہیں جس کی پہلے کوئی مثال نہیں ہے۔ یہاں تک کہا جا رہا ہےکہ فوری بلدیاتی انتخابات کروائے جائیں اور نچلی سطح پر لوگوں سے رابطہ قائم کیا جائے لیکن میرا خیال ہے اس وقت ن لیگ مشکل میں ہے۔‘
سینیئر صحافی عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ ’میرا خیال ہے کہ پارٹی میں نواز شریف کا کردار محدود کر دیا گیا ہے اور وہ صرف انتخابی رول تک محدود ہو رہ گئے ہیں۔ جب کبھی کسی الیکشن کی باز گشت ہوتی ہے تو اچانک وہ کرسی صدارت پر براجمان نظر آتے ہیں۔ آخری دفعہ کشمیر کے الیکشن میں تھوڑی ہلچل ہوئی، عوام سے تو وہ بالکل دور ہیں۔ ہم تو سنا کرتے تھے کہ قیمتیں بڑھانے کی بات پر وہ اجلاس سے اٹھ کر چلے جاتے تھے۔‘
’نواز شریف رکن پارلیمنٹ ہونے کے باوجود قومی اسمبلی بہت کم نظر آتے ہیں‘ (فوٹو: فیس بک، پی ایم ایل این)
ان کے مطابق ’اس وقت جو عوام کا حال ہے وہ اگر صرف اپنی سیاسی تقریروں کے لیے نکلیں گے تو میرا خیال ہے کہ ان کو اور ان کی پارٹی کو سوچنا ہو گا۔‘
عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ ’وہ تو تواتر سے قومی اسمبلی میں بھی نظر نہیں آتے حالانکہ وہ منتخب ممبر ہیں انہوں نے پچھلے کئی سالوں سے میڈیا سے کوئی بات چیت نہیں کی نہ صحافیوں سے ملے۔ اب ان کا رول وہ خود محدود کر رہے ہیں یا ان کی پارٹی کے اندر کیا جا رہا ہے یہ مجھے اندازہ نہیں لیکن یہ سیاسی جلسے اور الیکشن مہمات والی سیاست اب پرانی ہو گئی ہے۔‘