Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’کوہلی کے خلاف بولنے کے لیے رقم کی پیشکش کی گئی‘، کرکٹر و جرمن خاتون کے تنازع میں نیا موڑ

وراٹ کوہلی نے لز لاز کی پوسٹ کو لائیک اور پھر ان لائیک کر دیا تھا (فوٹو: اے ایف پی)
انڈیا کے کرکٹ سٹار وراٹ کوہلی کی جانب سے ایک جرمن انفلوئنسر اور گلوکارہ کی پوسٹ لائیک اور پھر اَن لائیک کرنے سے جو تنازع ہوا اس میں ایک نیا موڑ آ گیا ہے۔
ٹریبیون انڈیا کے مطابق جرمن خاتون لِزلاز نے کہا ہے کہ انہیں کچھ صحافیوں نے وراٹ کوہلی کو عوامی سطح پر نشانہ بنانے اور جھوٹے الزامات لگانے کے لیے رقم کی پیشکش کی تھی۔
رپورٹ کے مطابق فلمی منترا میڈیا کے ساتھ انٹرویو کے کچھ کلپس سامنے آتے ہی وائرل ہو گئے ہیں اور ان میں لز لاز کہہ رہی ہیں کہ انہوں نے ذاتی فائدے یا کرکٹر کو نقصان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کا حصہ بننے سے انکار کیا۔
ان کے مطابق ’کچھ صحافیوں اور میڈیا ہاؤسز نے رقم کی پیشکش کی تاکہ میں کوہلی کے خلاف بات کروں اور ان پر ان چیزوں کا الزام لگاؤں جو انہوں نے کبھی کی ہی نہیں۔‘
جرمن انفلوئنسر نے واضح کیا کہ وہ وراٹ کوہلی کے خلاف بولنے کا ارادہ نہیں رکھتیں اور ان کو اپنے پسندیدہ کرکٹرز میں سے ایک قرار دیا۔
’میں کبھی بھی پیسے یا تشہیر کے لیے ایسا کوئی قدم نہیں اٹھاؤں گی۔‘
لِز لاز کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہیں وراٹ کوہلی کی جانب سے لائیک کیے جانے کے بعد سر اٹھانے والے تنازع کے بارے میں معلوم نہیں تھا کیونکہ انہوں نے نوٹیفیکیشن نہیں دیکھا تھا اور بعدازاں میڈیا سے معلوم ہوا۔
انہوں نے واقعے کے بعد آن لائن ٹرولنگ پر وراٹ کوہلی کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔

خیال رہے یہ تنازع اس وقت شروع ہوا تھا جب 18 اپریل کو وراٹ کوہلی نے جرمن انفلوئنسر اور موسیقار لِز لاز کی ایک پوسٹ کو لائیک کیا۔
بظاہر ایک سادہ سا لائیک دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا اور مختلف پلیٹ فارمز پر تیزی سے وائرل ہوا۔
صورتحال اُس وقت مزید دلچسپ ہو گئی جب کوہلی نے بعد میں یہ لائیک ہٹا دیا جس کے بعد قیاس آرائیاں اور بحث مزید بڑھ گئی۔
لِز لاز نے کا کہنا تھا کہ انہیں کرکٹ میں دلچسپی گزشتہ سال بھارت کے دورے کے دوران ہوئی، جہاں وہ کافی عرصہ قیام پذیر رہیں۔ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ وہ ’رائل چیلنجرز بنگلور‘ کی مداح بنتی جا رہی ہیں۔

شیئر: