بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے ذریعے بھیجی جانے والی رقوم میں گزشتہ ایک سال کے دوران نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2024 میں ان اکاؤنٹس کے ذریعے صرف 16 کروڑ ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئی تھیں، جو اپریل 2026 میں بڑھ کر 32 کروڑ ڈالر ماہانہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔
81 فیصد کا یہ نمایاں اضافہ غیر معمولی سمجھا جا رہا ہے۔ اس پروگرام کے تحت اب تک 12 بلین ڈالر کی خطیر رقم پاکستان آ چکی ہے اور لگ بھگ 10 لاکھ کے قریب اکاؤنٹس کھولے جا چکے ہیں۔
مزید پڑھیں
روشن ڈیجیٹل اکاونٹس کھلوانے کا رجحان کیوں بڑھا؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کی کامیابی کا سب سے بڑا راز اس کی پالیسی کا تسلسل اور مراعات کا بتدریج ارتقا ہے۔
حکومت نے تمام سہولیات اور پرکشش پیکیجز کا اعلان ایک ہی دن میں نہیں کیا بلکہ تارکینِ وطن کی روزمرہ ضروریات اور مارکیٹ کے رجحانات کو مدنظر رکھتے ہوئے وقتاً فوقتاً نئے اور جدت پر مبنی منصوبے متعارف کروائے گئے۔

حال ہی میں شروع کیے گئے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ 2 نے اس دائرہ کار کو مزید وسعت دی ہے جس کے تحت اب غیر ملکی شہری اور سرمایہ کار بھی اس پروگرام کا حصہ بن سکتے ہیں۔
ماہر معیشت ڈاکٹر حسیب خان کہتے ہیں کہ ’اس اکاؤنٹ کے ذریعے سب سے زیادہ سرمایہ کاری نیا پاکستان سرٹیفکیٹس میں کی جا رہی ہے۔ یہ سرٹیفکیٹس حکومت پاکستان کی براہِ راست اور خودمختار ضمانت کے ساتھ جاری کیے جاتے ہیں، اور ان میں روایتی اور شریعہ کمپلائنٹ دونوں طرح کے آپشنز موجود ہیں۔‘
’ان سرٹیفکیٹس پر ملنے والا منافع عالمی مارکیٹ کے مقابلے میں انتہائی پرکشش اور مسابقتی ہے۔ مثال کے طور پر امریکی ڈالر میں 12 ماہ کی مدت کے لیے کی گئی سرمایہ کاری پر 7.25 فیصد تک سالانہ منافع دیا جا رہا ہے۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ ’ہم اگر اس کا موازنہ امریکی ٹریژری بلز سے کریں تو وہاں یہ شرح 3.76 فیصد کے لگ بھگ ہے۔ اس منافع پر صرف 10 فیصد فلیٹ ود ہولڈنگ ٹیکس لاگو ہوتا ہے، جس کی کٹوتی کے بعد بھی خالص منافع 6.53 فیصد بنتا ہے جو کہ بین الاقوامی بینچ مارک سے بہت زیادہ ہے۔‘
ڈاکٹر حسیب خان کے مطابق پاکستانی روپے میں کی گئی سرمایہ کاری پر اسی طرح 11.50 فیصد تک، اور برطانوی پاؤنڈ اور یورو پر بھی غیرمعمولی منافع دیا جا رہا ہے۔

’شریعہ کمپلائنٹ آپشن میں مضاربہ کی بنیاد پر منافع کا حساب لگایا جاتا ہے جس نے مذہبی رجحان رکھنے والے سرمایہ کاروں کو بھی بھرپور طریقے سے اپنی جانب متوجہ کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سرمایہ کار اپنا پیسہ محض وقتی طور پر محفوظ کرنے کی بجائے اسے پاکستانی معیشت میں لگا رہے ہیں۔‘
تارکینِ وطن کو عام طور پر پاکستان میں سرمایہ کاری کرتے وقت سب سے بڑا خوف فیڈرل بورڈ آف ریونیو یعنی ایف بی آر کے ٹیکس نظام کا ہوتا ہے۔ تاہم روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے صارفین کو ٹیکس چھوٹ اور قانونی آسانیاں فراہم کی گئی ہیں۔ اس اکاؤنٹ میں رکھی گئی رقوم اور نیا پاکستان سرٹیفکیٹس پر ملنے والے منافع پر کوئی سالانہ ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
سٹیٹ بینک نے روشن اکاونٹ ہولڈرز کے لیے روشن اپنی کار کا منصوبہ بھی متعارف کروا رکھا ہے۔ اس سکیم کے تحت روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ ہولڈرز عام مارکیٹ سے انتہائی کم اور رعایتی شرح سود پر کار فنانسنگ حاصل کر سکتے ہیں۔ بینکوں کی جانب سے کائبور کے ساتھ صرف ایک فیصد اضافی مارک اَپ لیا جاتا ہے جو کہ مقامی شہریوں کے لیے دستیاب شرح سے کہیں کم ہے۔
علاوہ ازیں، گاڑیوں کی انشورنس کی شرح بھی انتہائی کم کر کے ایک اعشاریہ 4 فیصد تک کر دی گئی ہے۔ اس منصوبے کی سب سے بڑی کشش یہ بھی ہے کہ عام مارکیٹ کے مقابلے میں ان صارفین کو گاڑیوں کی ڈلیوری میں 50 فیصد تک کم وقت لگتا ہے یعنی انہیں ترجیحی بنیادوں پر گاڑیاں فراہم کی جاتی ہیں۔ ایک صارف اس سکیم کے تحت ایک ہی وقت میں 3 گاڑیاں تک فنانس کروا سکتا ہے۔
روشن ڈیجیٹل اکاونٹ رکھنے والے تارکینِ وطن اپنے اکاؤنٹ سے براہ راست پاکستان میں پلاٹ، مکان یا زیر تعمیر منظور شدہ پراجیکٹس میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔ وہ چاہیں تو اپنی ذاتی رقم استعمال کریں یا پھر بینکوں سے 3 سے لے کر 25 سال تک کی مدت کے لیے انتہائی کم شرح پر ہاؤس فنانسنگ کی سہولت حاصل کریں۔

بیرونِ ملک پاکستانی کوئی پاکستانی جب اس ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے ذریعے خریدی گئی جائیداد کو فروخت کرتا ہے تو اسے کیپیٹل گینز پر صرف ایک فیصد حتمی ٹیکس ادا کرنا ہوتا ہے اور اس پر کسی قسم کا ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کی شرط عائد نہیں کی گئی۔
بینکوں کی شمولیت نے پراپرٹی کی تصدیق کے عمل کو بھی محفوظ بنا دیا ہے جس کی وجہ سے لوگ پورے اعتماد کے ساتھ اس سہولت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
ڈاکٹر حسیب خان کہتے ہیں کہ ’ان اکائونٹس سے سب سے بڑا فائدہ لوگ یہ اُٹھا رہے ہیں کہ اب کوئی بھی صارف جب چاہے، سٹیٹ بینک آف پاکستان یا کسی بھی مقامی بینک کی پیشگی اجازت کے بغیر، محض چند کلکس کے ذریعے اپنا اصل سرمایہ اور اس پر کمایا گیا منافع مکمل طور پر اپنے غیر ملکی اکاؤنٹ میں واپس منتقل کر سکتا ہے۔اب تک موصول ہونے والے 12.75 بلین ڈالر میں سے صرف 16 فیصد رقوم ہی واپس بھیجی گئی ہیں، جب کہ 64 فیصد رقوم پاکستان کی معیشت میں مستقل بنیادوں پر گردش کر رہی ہیں۔‘
یہ کہانی شروع کب ہوئی؟
پاکستان میں روشنل ٹیجیٹل اکاونٹس کا اجرا ستمبر 2020 میں ہوا جب ملک میں تحریک انصاف کی حکومت تھی۔ اس وقت ملک کو زرِمبادلہ کے ذخائر کے حوالے سے شدید دباؤ کا سامنا تھا اور سمندر پار پاکستانیوں کے لیے پاکستان کے روایتی بینکنگ نظام کا حصہ بننا ایک انتہائی پیچیدہ اور صبر آزما عمل تصور کیا جاتا تھا۔
ماضی میں کسی بھی تارکِ وطن کو پاکستان میں بینک اکاؤنٹ کھلوانے کے لیے ذاتی حیثیت میں بینک کی برانچ کا دورہ کرنا پڑتا تھا، سفارت خانوں سے دستاویزات کی تصدیق کروانی پڑتی تھی اور کاغذی کارروائی کا ایک طویل سلسلہ درکار ہوتا تھا۔

ان مسائل کو ختم کرنے کے لیے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ متعارف کروایا گیا تاکہ دنیا کے کسی بھی کونے میں مقیم پاکستانی محض 48 گھنٹوں کے اندر مکمل طور پر ڈیجیٹل طریقے سے اپنا بینک اکاؤنٹ کھول سکے۔ اکاؤنٹ کھولنے کا عمل اس قدر آسان کر دیا گیا کہ اب صرف کمپیوٹر یا موبائل کی سکرین پر شناختی کارڈ، پاسپورٹ، اور آمدنی کے ثبوت کی ڈیجیٹل کاپیاں اَپ لوڈ کرنا ہوتی ہیں اور ایک لائیو تصویر کے ذریعے تصدیق کا عمل مکمل ہو جاتا ہے۔
اس منصوبے کا مقصد ابتدائی طور پر صرف بینکنگ کی بنیادی سہولیات فراہم کرنا اور ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو عارضی سہارا دینا تھا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ حکومت نے محسوس کیا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو مستقل بنیادوں پر سرمایہ کاری کی طرف راغب کرنے کے لیے مزید پرکشش اور طویل مدتی مراعات دینا ناگزیر ہیں۔ یوں روشن ڈیجیٹل اکاونٹ اب مرکزی معاشی دھارے کا حصہ بن چکا ہے۔












