پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی میں پیر کو وزیراعلٰی بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کی بگٹی قبائل کے نئے ’چیف آف بگٹی‘ کی حیثیت سے دستار بندی کی گئی۔
مبصرین اس انتخاب کو غیرروایتی قرار دیتے ہیں جس سے اُن کے قبائلی اور سیاسی اثر و رسوخ میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ اس پیش رفت نے بلوچستان کی سیاست، قبائلی ساخت، سرداری نظام اور ریاستی حکمتِ عملی پر نئی بحث کو بھی جنم دیا ہے۔
دستار بندی کی تقریب ڈیرہ بگٹی میں وزیراعلیٰ کے آبائی علاقے بیکڑ میں ہوئی جہاں قبیلے کی روایات کے مطابق سب سے پہلے پیر سوری دربار کے پیر نے سرفراز بگٹی کو دستار پہنائی پھر بگٹی قبائل کی بڑی شاخوں کلپر، پیروزانی، نوتھانی، شمبانی، مندرانی اور ڈومب کے وڈیروں نے یکے بعد دیگرے پگڑی باندھی۔ ان میں وڈیرہ جلال خان کلپر، میر گل پیروزانی، بہار خان نوتھانی، غلام نبی شمبانی، محمد بخش مندرانی اور وڈیرہ منظور احمد شامل تھے۔
مزید پڑھیں
-
’جبری گمشدگی‘ سے وزارتِ اعلٰی تک، میر سرفراز بگٹی کون ہیں؟Node ID: 840911
تقریب میں بلوچستان کابینہ و اسمبلی کے ارکان کے علاوہ ڈیرہ غازی خان سے رکن پنجاب اسمبلی حنیف پتافی اور بگٹی، مری، کھیتران، بزدار، گورچانی سمیت بلوچستان، سندھ اور پنجاب کے ہمسایہ بلوچ قبائل کے عمائدین نے شرکت کی۔
نواب اکبر بگٹی کے خاندان کے افراد موجودہ نواب میر عالی بگٹی کے سوتیلے بھائیوں نوابزادہ زامران سلیم اور نوابزادہ کوہ میر بگٹی کی شرکت توجہ کا مرکز رہی جسے مبصرین نے تقریب کی سیاسی و قبائلی اہمیت میں اضافہ قرار دیا۔
تاہم موجودہ نواب میر عالی بگٹی کی عدم شرکت اور خاندان کے بعض افراد کی مخالفت نے کئی سوالات بھی اٹھائے۔
روایتی طور پر بگٹی قبائل میں نواب کا تعلق راہیجہ شاخ سے ہوتا ہے جبکہ ’چیف آف بگٹی‘ کا منصب مسوری شاخ کے سربراہ کے پاس رہتا آیا ہے۔ سرفراز بگٹی کا تعلق بھی مسوری شاخ سے ہے۔ اس سے قبل اس شاخ کے سربراہ ان کے چچا زاد بھائی محمد شریف بگٹی تھے جو چند روز قبل وفات پا گئے۔ قبیلے کی موروثی روایت کے مطابق اُن کے بیٹے کو جانشین ہونا چاہیے تھا مگر اس کے برعکس سرفراز بگٹی کو سربراہ نامزد کیا گیا جسے مبصرین غیرروایتی اور غیرمعمولی فیصلہ قرار دے رہے ہیں۔
عمومی تاثر یہی ہے کہ اُن کی طاقتور ریاستی اداروں سے قربت اور وزیراعلیٰ جیسے مضبوط منصب پر موجودگی نے قبائلی صف بندی پر اثر ڈالا ہے۔
بلوچستان کے قبائلی و سیاسی معاملات پر گہری نظر رکھنے والے سینیئر صحافی شہزادہ ذوالفقار نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’سرفراز بگٹی کا انتخاب غیرروایتی ہے۔ پہلے زمانے میں سرداری نظام میں قبیلے کی اجتماعی مرضی ہوتی تھی مگر پھر موروثیت آئی جس کے تحت نواب یا سردار کا بڑا بیٹا جانشین ہوتا ہے، اگر بیٹا نہ ہو تو بھائیوں میں سب سے بڑا منصب لیتا ہے۔ اس بار روایت ٹوٹی ہے اور ایسی مثالیں ماضی قریب میں کم دیکھنے کو ملی ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ اگرچہ طارق مسوری (سابق رکن اسمبلی، شریف بگٹی کے بھائی) نے تقریب میں شرکت کی اور دستار بھی پہنائی مگر شریف بگٹی کے بیٹوں اور اہلِ خانہ کی جانب سے ابھی تک واضح موقف سامنے نہیں آیا۔

سینیئر صحافی اور کوئٹہ پریس کلب کے صدر عرفان سعید کے مطابق بگٹی قبیلے میں ’چیف آف بگٹی’ نواب کے بعد دوسرا اہم منصب ہے اور نواب کی غیر موجودگی میں اسے قائم مقام سمجھا جاتا ہے۔
دوسری جانب بگٹی قبیلے کے نواب میر عالی بگٹی کے ترجمان اور نواب اکبر بگٹی کے بیٹے نوابزادہ جمیل بگٹی سے منسوب سوشل میڈیا بیان میں کہا گیا کہ ’چیف آف بگٹی‘ کا منصب سنہ 2003 میں قبیلے کے وڈیروں کی مشاورت سے نواب اکبر بگٹی نے ختم کر دیا تھا ۔
عرفان سعید کے مطابق ’نواب خاندان کے افراد کا موقف ہے کہ یہ ٹائٹل ماضی میں صرف جنگی حالات میں دیا جاتا تھا تاکہ نواب کی غیرموجودگی میں وہ ان کی نمائندگی کر سکے تاہم اب ایسی کوئی صورتحال نہیں۔ مسوریوں کے سربراہ کو یہ ٹائٹل نواب اکبر بگٹی کے والد نواب محراب نے خان آف قلات کی مہم کے دوران قربانیوں کے اعتراف میں دیا تھا جب نواب کی غیرموجودگی میں جنگ میں مسوریوں نے قبیلے کا دفاع کیا تھا۔‘
سوشل میڈیا پر شریف بگٹی کے بیٹے سے منسوب بلوچی زبان میں ایک آڈیو گردش بھی کر رہی ہے جس میں الزام عائد کیا گیا کہ سرفراز بگٹی نے مبینہ طور پر ’خاندان کے افراد کو یرغمال بنا کر‘ یہ منصب حاصل کیا تاہم اس الزام کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
تاہم سرفراز بگٹی کے حامی کہتے ہیں کہ قبیلے کے عمائدین کے مشترکہ اور بااختیار جرگے نے باہمی رضا مندی سے یہ انتخاب کیا ہے جو قبائلی روایات کے مطابق ہے-
عرفان سعید بھی کہتے ہیں کہ تمام اعتراضات کے باوجود بگٹی قبیلے کی اہم شاخوں کے سربراہوں اور خود نواب خاندان کے دو افراد کی جانب سے دستار بندی نے 'چیف آف بگٹی' کے منصب کو اہمیت دے دی ہے-
سرداری نظام کی مخالفت سے خود سرداری نظام کا حصہ بننے تک کا سفر
سرفراز بگٹی اور اُن کے والد برسوں سرداری نظام کے سخت ناقد رہے اور اسے غلامی سے تشبیہ دیتے رہے۔ سنہ 2018 میں جریدہ ’میگ دی ویکلی ‘کو دیے گئے انٹرویو میں سرفراز بگٹی نے کہاکہ ’میرے والد نے 30 سے 40 برس تک سرداری نظام کے خلاف جدوجہد کی جو میرے خیال میں ہماری پسماندگی اور عوام کی ذہنی و جسمانی غلامی کی بڑی وجہ تھا۔‘

ان کے الفاظ تھے کہ ’آج اس صدی میں بھی لوگ سرداروں اور نوابوں کے سامنے ایسے پیش آتے ہیں جیسے دیوتاؤں کے سامنے ہوں۔ انہی حالات میں میرے والد نے سنہ 1988 میں نواب اکبر خان بگٹی کے خلاف الیکشن لڑنے کی ہمت کی۔ اس جدوجہد میں مظالم کا سامنا کرنا پڑا مگر ہم ثابت قدم رہے۔‘
اگست 2006 میں اکبر بگٹی کی موت سے دو روز قبل ڈیرہ بگٹی کے جناح سٹیڈیم میں حکومتی حمایت سے نواب کے مخالفین نے ایک اجتماع منعقد کر کے نوابی اور سرداری نظام اور سرداری ٹیکس ’پوڑی‘ کے خاتمے کا اعلان کیا۔ اس اجتماع کی سرفراز بگٹی کے خاندان نے حمایت کی تھی تاہم اب دو دہائیوں کے بعد خود سرفراز بگٹی سرداری نظام کا اہم حصہ بن گئے ہیں۔
دستار بندی کے بعد جب اُن سے ماضی کے خیالات پر سوال ہوا تو انہوں نے قبائلی نظام کو ’خوبصورت نظام‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’اس نظام میں اچھی اور بری دونوں چیزیں ہیں اصل سوال یہ ہے کہ اسے کیسے چلایا جاتا ہے۔‘
انہوں نے خواتین کی تعلیم اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو اپنی ترجیحات بتایا۔
دستار بندی کی تقریب سے بلوچی اور اردو زبان میں اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ بگٹی قوم تعلیمی لحاظ سے پیچھے ہے، اچھے اداروں تک رسائی دی جائے گی اور ضلع میں نئے تعلیمی ادارے قائم کیے جا رہے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’یہ دستار قبیلے کی امانت ہے جو انصاف، بہادری اور بھائی چارے کا تقاضا کرتی ہے۔ قوم کی توقعات پر پورا اترنے کے لیے دن رات ایک کروں گا۔‘
سرفراز بگٹی نے بلوچ عسکریت پسندوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’بندوق اور تشدد سے کبھی منزل نہیں ملتی، یہ لاحاصل جنگ ہے۔ آج نہیں تو 40 برس بعد آخرکار بیٹھنا ہی ہوگا۔ کسی کو بندوق کے زور پر نظریے مسلط کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ریاست کی رٹ ہر صورت قائم رہے گی۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’نہتے شہریوں، ڈاکٹروں اور انجینیئروں پر حملے بلوچ روایت کے منافی ہیں۔ میں ظالم کے ساتھ نہیں بلکہ اس مظلوم عورت کے ساتھ کھڑا ہوں گا جس کے سامنے اس کے شوہر اور بیٹے کو بس سے اتار کر قتل کیا گیا۔‘
نواب اکبر بگٹی کے پوتے نوابزادہ زامران سلیم بگٹی نے تقریب اور میڈیا سے گفتگو میں سرفراز بگٹی کی حمایت کا اعلان کیا اور اپنے چچا زاد براہمداغ بگٹی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’بگٹی قوم لاشیں اٹھا اٹھا کر تھگ گئی ہے۔ جنگ ختم کریں، آئین مان کر واپس آئیں اور قوم کی خدمت کریں۔‘
سرفراز بگٹی: سیاسی و قبائلی پس منظر
45 سالہ میر سرفراز احمد بگٹی ایک ایسے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جس نے سابق گورنر اور سابق وزیراعلیٰ نواب اکبر بگٹی کی سیاسی و قبائلی اجارہ داری کو اُن کے عروج کے دور میں چیلنج کیا۔ اُن کے والد وڈیرہ غلام قادر مسوری ضیا الحق کے دور میں مجلسِ شوریٰ کے رکن رہے اور بعد میں پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے۔ ابتدا میں وہ نواب کے سیاسی و قبائلی اتحادی تھے مگر سنہ 1980 کی دہائی کے آخر میں انہوں نے کلپر شاخ کے سربراہ کے بیٹے امیر حمزہ اور راہیجہ شاخ کے میر احمدان کے ساتھ مل کر نواب اکبر بگٹی کو انتخابی میدان میں چیلنج کیا۔
اس دور میں نواب بگٹی اپنے ضلع کے بے تاج بادشاہ سمجھے جاتے تھے اور ان کا اثر و رسوخ صوبے بھر میں تھا۔ وہ بلامقابلہ منتخب ہونا پسند کرتے تھے، اس لیے اس عمل نے انہیں ناراض کیا اور اس سے کشیدگی بڑھی۔ امیر حمزہ سنہ 1991 میں قتل ہوئے تو الزام نواب اکبر بگٹی پر لگا۔ سنہ 1992 میں نواب کے بیٹے سلال بگٹی قتل ہوئے جس کے بعد نواب بگٹی نے اپنے مخالفین خصوصاً کلپر قبیلے کو علاقے سے بے دخل کر دیا۔
اس دوران سرفراز بگٹی کا خاندان بھی زیرِعتاب رہا۔ پرویز مشرف دور میں حکومت اور نواب اکبر بگٹی کے درمیان گیس رائلٹی، چھاؤنیوں کے قیام سمیت دیگر معاملات پر تنازع شدید ہوا تو کلپر اور مسوری شاخوں نے حکومت کا ساتھ دیا۔ نواب اکبر بگٹی نے حکومت کی حمایت اور کلپروں کو پناہ دینے کے الزام میں قبائلی لشکر بھیج کر سرفراز بگٹی کے والد، بھائی اور چچا کو پکڑ کر نجی جیل میں قید رکھا، جنہیں سنہ 2005 میں فوجی کارروائی کے بعد رہائی ملی۔

اس کے بعد مشرف حکومت نے سرفراز بگٹی کے خاندان سمیت مخالف قبائل کو واپس لا کر ڈیرہ بگٹی میں آباد کیا جو ڈیرہ غازی خان اور ملتان منتقل ہوئے تھے۔
سنہ 2008 کے انتخابات میں ریاستی اداروں نے نواب بگٹی کے مخالفین کی حمایت کی۔ میر احمدان قومی اسمبلی اور سرفراز بگٹی کے چچا زاد بھائی طارق مسوری بلوچستان اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔
تاہم اس عرصے میں سرفراز بگٹی کا اسٹیبلشمنٹ سے تعلق اتار چڑھاؤ کا شکار رہا۔ انتخابات میں اپنے چچا زاد طارق مسوری کی مخالفت کے دوران اُنہیں اور والد کو ایک چوکی پر روکا اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ شہزادہ ذوالفقار کے مطابق اس تشدد سے سرفراز بگٹی کے ہاتھ کی ہڈی فریکچر ہوئی۔
خود سرفراز بگٹی کے مطابق پرویز مشرف دور میں انہیں اور ان کے والد کو سکیورٹی فورسز نے حراست میں لیا اور نامعلوم مقام پر رکھا جس کی بنا پر انہوں نے قائداعظم یونیورسٹی میں ڈیفنس اینڈ سٹریٹجک سٹڈیز کی تعلیم دو سمسٹرز کے بعد چھوڑ دی۔ یہاں انہوں نے لارنس کالج مری سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد داخلہ لیا تھا۔
سنہ 2012 میں وہ طارق مسوری کے مبینہ طور پر 13 کم عمر لڑکیوں کو ’ونی‘ کرنے کے فیصلے کے خلاف عدالت سے رجوع کر کے پہلی مرتبہ میڈیا کے سامنے آئے۔ بعدازاں وہ اسٹیبلشمنٹ کے قریب آئے اور سنہ 2013 میں اپنے چچا زاد بھائی طارق مسوری کو شکست دے کر آزاد حیثیت سے پہلی بار بلوچستان اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے پھر ن لیگ میں شامل ہو کر صوبائی وزیر داخلہ بنے۔ باقی صوبائی وزرا اور حکومتی حکام کے برعکس وہ لاپتہ افراد و عسکریت پسند گروہوں پر اسٹیبلشمنٹ کے حامی بیانیے اور سخت گیر موقف کے ساتھ قومی میڈیا میں نمایاں رہے۔

صحافی عرفان سعید نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’اس دور میں ریاستی بیانیے کی حمایت میں کھل کر بولنے والے کم تھے مگر سرفراز بگٹی نے قومی میڈیا میں سرکاری بیانیہ مضبوطی سے پیش کیا۔ اسی وجہ سے انہیں اسٹیبلشمنٹ کی مزید قربت اور حمایت ملی جس نے اُن کا سیاسی اثر و رسوخ بڑھایا۔‘
سنہ 2018 میں انہوں نے ن لیگ سے بغاوت کرکے ثنا اللہ زہری کی حکومت گرانے اور بلوچستان عوامی پارٹی کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی برس وہ نواب بگٹی کے پوتے گہرام بگٹی سے صوبائی نشست پر شکست کھا گئے مگر بعد میں دو مرتبہ سینیٹر رہے۔
سرفراز بگٹی سنہ 2023 میں نگراں وفاقی وزیر داخلہ بنے۔ انتخابات کے اعلان سے چند گھنٹے پہلے استعفیٰ دے کر پیپلز پارٹی میں شامل ہوئےاور سنہ 2024 میں ڈیرہ بگٹی سے دوسری بار رکن بلوچستان اسمبلی منتخب ہوئے اور مارچ 2024 میں بلامقابلہ وزیراعلیٰ بن گئے۔
بعدازاں انہوں نے اپنے چچا زاد طارق مسوری سے مفاہمت کی ۔اُنہیں پاکستان ہاکی فیڈریشن کا صدر بنایا اور سنہ 2013 میں اپنے خلاف اتحاد بنانے والے مخالفین کو بھی ہمنوا بنایا، تاہم سیاست اور قبائلی دونوں میدانوں میں آج بھی اُن کا بنیادی مقابلہ نواب اکبر بگٹی کے خاندان سے ہے۔
عرفان سعید کے مطابق سرفراز بگٹی نے اپنی ذہانت اور حکمتِ عملی سے نچلی سطح سے عروج حاصل کیا۔ وہ سیاست کے ساتھ ریاستی طاقت کے مراکز اور قبائلی نظام کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ قبائلی مشکلات کا سامنا کرنے کے بعد انہوں نے پہلے سیاسی بنیاد مضبوط کی، اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات استوار کیے، پھر قبائلی مخالفین کو ساتھ ملایا اور آخرکار قبائلی نظام کا اہم جزو بن گئے۔ اپنے مخالفین کی نسبت کمزور سیاسی پس منظر کے باوجود انہوں نے خود کو ایک مضبوط حیثیت میں منوایا ہے۔

نواب بگٹی خاندان کی تقسیم، قبائلی جنگ اور عسکریت پسندی
سنہ 2006 میں نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد ان کے خاندان اور قبیلے میں گہری تقسیم پیدا ہوئی۔ نواب بگٹی کے بیٹے طلال بگٹی نے سرداری کا اعلان کیا مگر انہیں قبولیت حاصل نہیں ہوئی۔ طلال بگٹی کے بیٹوں شاہ زین بگٹی اور گہرام بگٹی نے پارلیمانی سیاست پر توجہ دی اور قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ارکان منتخب ہوئے۔
نواب اکبر بگٹی کی موت کے بعد تین برس تک نوابی کا منصب خالی رہا اور پھر سنہ 2009 میں نواب کے پوتے میر عالی کو سرکاری سرپرستی میں واپس لا کر نواب کی دستار پہنائی گئی۔ قبائلی روایت کے مطابق وہ نواب کے بڑے بیٹے سلیم بگٹی کے بڑے بیٹے ہونے کی بنا پر حقدار تھے، تاہم نواب اکبر بگٹی کے دوسرے پوتے براہمداغ بگٹی نے انہیں بحیثیت نواب قبول نہیں کیا اور خود کو دادا کا جانشین کہتے رہے جس سے خاندانی تنازعات مزید شدت اختیار کر گئے۔
نواب عالی عملاً غیر فعال رہے۔ نہ ڈیرہ بگٹی میں مستقل رہائش اور نہ سیاسی و قبائلی سرگرمیاں سرانجام دیں۔ براہمداغ بگٹی نے بیرون ملک جا کر عسکریت پسندی کا راستہ اپنایا اور بلوچ ری پبلکن آرمی (بی آر اے) کے نام سے تنظیم بنائی۔ اُن پر سکیورٹی فورسز اور ریاستی اہداف کے ساتھ قبائلی مخالفین پر حملوں کے الزامات لگتے رہے۔
اسی خلا میں سرفراز بگٹی اور اُن کے اتحادی قبائل نے ریاستی تعاون سے قبائلی امن لشکر بنائے اور براہمداغ کے حامیوں کا مقابلہ کیا۔ سرفراز بگٹی کا دعویٰ ہے کہ اس جنگ میں اُن کے 300 سے زائد حمایتی قتل ہوئے۔
مخالفین سرفراز بگٹی پر ریاستی و حکومتی حمایت سے نجی ملیشیا چلانے کا الزام لگاتے ہیں۔ سنہ 2013 میں نواب عالی بگٹی نے بلوچستان ہائی کورٹ میں ان کے خلاف درخواست بھی دائر کی۔

ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے دور میں براہمداغ بگٹی کے حکومت کے ساتھ مذاکرات ناکام رہے تاہم سنہ 2022 میں ایسی اطلاعات آئیں کہ حکومت نے براہمداغ سے غیراعلانیہ مذاکرات کیے جس کے بعد اُن سے وابستہ مسلح تنظیم بی آر اے کی عسکری سرگرمیاں محدود نظر آئیں۔ بعض مقامی لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ بدلے میں انہیں قبائلی معاملات میں کچھ چھوٹ ملی جس کے بعد ان کے حامیوں نے سرداری ٹیکس ’پوڑی‘ کھلے عام وصول کرنا شروع کیا۔ مقامی انتظامیہ اسے بھتہ خوری قرار دیتی ہے تاہم براہمداغ بگٹی اور اُن کے حامیوں کی جانب سے اس معاملے پر واضح موقف سامنے نہیں آیا۔
مقامی لوگوں کے مطابق نواب خاندان میں آج بھی براہمداغ بگٹی سب سے زیادہ اثر و رسوخ رکھتے ہیں اور سرفراز بگٹی کو قبائلی طور پر سب سے بڑی مخالفت انہی کے حامیوں سے ہے۔
اصلاحات یا طاقت کا کھیل؟
سرفراز بگٹی جو کبھی سرداری نظام کے سخت ناقد تھے اب اسی نظام کے اہم ستون بن گئے ہیں۔ ان کی ’چیف آف بگٹی‘ کے طور پر دستار بندی سے قبائلی طاقت کا توازن بدلنے کی بحث جاری ہے۔ یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا وہ قبائلی نظام کو اصلاحات کے ذریعے بدلیں گے یا طاقت بڑھانے کے لیے استعمال کریں گے؟
مبصرین کے مطابق نواب عالی بگٹی کی غیرفعالیت اور براہمداغ کی بیرونِ ملک موجودگی کے باعث یہ منصب سرفراز بگٹی کو قبائلی و سیاسی طاقت دے گا خاص طور پر جب وہ وزیراعلیٰ بھی ہیں۔
عرفان سعید کا کہنا ہے کہ اس سے ان کا اثر و رسوخ یقیناً بڑھے گا مگر مخالفین سے تنازعات بھی شدت اختیار کر سکتے ہیں خاص طور پر گیس رائلٹی اور سرداری ٹیکس جیسے معاملات پر۔

بعض حلقے یہ بھی سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا ان کا اگلا قدم نوابی کے ٹائٹل کی طرف ہو گا؟ تاریخ میں برطانوی راج کے دوران نو آبادیاتی قوت سے اختلافات کی صورت میں قبیلے کے اندر ہی دوسرے سردار منتخب کیے جانے کی مثالیں ملتی ہیں لیکن اس سے مزید قبائلی تنازعات بھی جنم لیتے رہے۔
عرفان سعید کے مطابق ’نوابی کا حق اب بھی نواب اکبر بگٹی کے خاندان کے پاس ہے لیکن انہوں نے آپسی اختلافات ختم نہ کیے تو انہیں مزید مشکلات پیش آسکتی ہیں۔‘
ان کے مطابق نواب خاندان کے اندرونی اختلافات نے سرفراز بگٹی کو مرکزیت حاصل کرنے کا موقع دیا ہے۔
صحافی شہزادہ ذوالفقار کہتے ہیں کہ سب سے اہم یہ ہے کہ سرفراز بگٹی کے قبائلی منصب سنبھالنے کے بعد ان کے مخالفین کا ردعمل کیا ہو گا؟
مبصرین کا خیال ہے کہ نواب خاندان کی تقسیم، سرداری ٹیکس، عسکریت پسندی اور ریاستی تعلقات جیسے معاملات پر سرفراز بگٹی کی حکمتِ عملی صرف ڈیرہ بگٹی ہی نہیں بلکہ بلوچستان کی مجموعی سیاست پر گہرے اثرات ڈالے گی۔
ڈیرہ بگٹی اور بگٹی قبائل: تاریخ اور موجودہ صورت حال
برطانوی دور کے مورخ رائے بہادر لالہ ہتو رام لکھتے ہیں کہ ’بگٹی خود کو خاندان رند عالی کی اولاد پہلوان زئی عالیانی لغاری سے ملحقہ سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ حلب (مغربی شام )سے ہجرت کے وقت چونکہ وہ بگ نامی علاقے میں رہتے تھے اس لیے اُن کا نام بگٹی پڑ گیا۔‘
تاہم بلوچ مورخ گل خان نصیر کا خیال ہے کہ ’بگٹی دراصل کردستانی کردوں کی ’بگتائی‘ شاخ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ابتدا میں یہ قبیلہ بولان کے پہاڑوں میں رہا، بعد میں نقل مکانی کر کے سیاہ آف کے پہاڑوں کی طرف آیا جو آج ڈیرہ بگٹی کہلاتا ہے۔‘

بگٹی قبیلہ جنگجو رہا ہے جس کی اپنے ہمسایہ مری قبائل سے بھی شدید لڑائیوں کے علاوہ انگریز فوج کے ساتھ بھی جنگیں رہی ہیں۔ سنہ 1840 میں افغانستان پر پہلے حملے کے دوران انہوں نے انگریز افواج کو سخت پریشان رکھا۔ لالہ ہتو رام کتاب ’تاریخ بلوچستان‘ میں لکھتے ہیں کہ ’اس قبیلے کے کئی سردار اور معتبرین جنگوں میں مرے اور کم ہی لوگ ہوں گے جو طبعی موت مرے۔‘
وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’سنہ 1878 میں افغانستان کے خلاف دوسری جنگ کے دوران انگریز افواج کی مدد اور محفوظ راستہ دینے کے عوض انگریز حکومت نے سردار شہباز خان کو ’نواب‘ کا ٹائٹل دیا۔‘
یاد رہے کہ سردار شہباز نواب اکبر بگٹی کے دادا تھے۔
ڈیرہ بگٹی سندھ و پنجاب سرحد کے قریب کوہ سلیمان کے پہاڑی سلسلے میں واقع قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود بلوچستان کے پسماندہ ترین اضلاع میں شمار ہوتا ہے۔ اسے 80 کی دہائی میں سبی سے الگ کر کے ضلع کا درجہ دیا گیا۔ سنہ 1952 میں دریافت ہونے والی سوئی گیس ملکی توانائی کی ضروریات پورا کرنے کا اہم ذریعہ ہے لیکن آمدن میں جائز حصہ اور قدرتی وسائل سے مقامی لوگوں کو فائدہ نہ پہنچنے سے متعلق اعتراضات نے مسلسل تنازعات کو بھی جنم دیا ہے۔
لگ بھگ 10 ہزار مربع کلومیٹر رقبے والے اس ضلع کی آبادی تقریباً ساڑھے تین لاکھ ہے جس میں اکثریت بگٹی قبائل کی ہے ۔ یہ خطہ پہاڑی و خشک ہے ۔ گلہ بانی، زراعت اور قدرتی وسائل پر دار و مدار ہے۔ جبکہ کچھی کینال کی توسیع سے زراعت کو فروغ ملا ہے۔
تعلیم و صحت کے اشاریوں میں یہ پسماندہ ترین اضلاع میں شمار ہوتا ہے۔ بلوچستان میں دوران زچگی ماؤں کی اموات کی سب سے زیادہ خبریں اسی ضلع سے آتی ہیں۔

خواندگی صوبے کی مجموعی شرح سے کم ہے اور سکولوں کی بڑی تعداد غیرفعال ہے۔ صاف پانی و غذائیت کی کمی یہاں کے نمایاں مسائل ہیں جبکہ قبائلی تنازعات، بدامنی اور عسکریت پسندی مسلسل اور سب سے بڑے چیلنجز ہیں۔












