Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

استنبول میں ہزاروں افراد کی غزہ کے لیے ریلی، ’ہم فلسطین کو نہیں بھولیں گے‘

مظاہرین نے استنبول کے گلاٹا پل کی جانب مارچ کیا۔ (فوٹو: اے ایف پی)
استنبول میں نئے سال کے پہلے دن غزہ کے لیے منعقدہ ایک ریلی میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ مظاہرین نے فلسطینی اور ترک جھنڈے لہرائے اور جنگ سے تباہ حال غزہ کی پٹی میں تشدد کے خاتمے کا مطالبہ بھی کیا۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے موقع پر موجود نامہ نگار کے مطابق جمعرات کو مظاہرین سخت سردی اور صاف نیلے آسمان کے نیچے جمع ہوئے اور ’ہم خاموش نہیں رہیں گے، ہم فلسطین کو نہیں بھولیں گے‘ کے نعرے کے تحت شہر کے گلاٹا پل کی جانب مارچ کیا۔
ریلی میں 400 سے زائد سول سوسائٹی تنظیموں نے شرکت کی، جن میں سے ایک کے منتظم ترک صدر رجب طیب اردوغان کے سب سے چھوٹے بیٹے بلال اردوغان تھے۔
پولیس ذرائع اور سرکاری خبر رساں ایجنسی اناطولو کے مطابق مارچ میں تقریباً پانچ لاکھ افراد نے شرکت کی، جہاں تقاریر ہوئیں اور لبنانی نژاد گلوکار ماہر زین نے اپنا گانا ’فری فلسطین‘ گایا۔
علم یایما فاؤنڈیشن، جو ایک تعلیمی فلاحی ادارہ ہے اور مارچ کے منتظمین میں شامل تھا، کے چیئرمین بلال اردوغان نے کہا کہ ’ہم دعا کرتے ہیں کہ سنہ 2026 ہمارے پورے ملک اور مظلوم فلسطینیوں کے لیے خیر و برکت لے کر آئے۔‘
ترکیہ غزہ کی جنگ پر سب سے زیادہ آواز اٹھانے والے ممالک میں شامل رہا ہے اور اس نے حالیہ جنگ بندی کرانے میں بھی کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں اسرائیل اور حماس کے درمیان سات اکتوبر 2023 کے غیرمعمولی حملے کے بعد شروع ہونے والی خونریز جنگ عارضی طور پر رکی تھی۔
تاہم 10 اکتوبر کو ہونے والی یہ نازک جنگ بندی بھی تشدد کو مکمل طور پر روکنے میں ناکام رہی ہے، اور اس کے نافذ ہونے کے بعد سے اب تک 400 سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔

 
 
 
 

شیئر: