Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جنوبی یمن کے دھڑوں کے درمیان مذاکرات کی میزبانی، سعودی عرب کے اقدام کا خیرمقدم

مملکت نے اعادہ کیا جنوبی مسئلے کے حل کا واحد راستہ صرف مذاکرات ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
سعودی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جنوبی یمن کے دھڑوں کو ’مسئلہ جنوب کے منصفانہ حل پر بات چیت‘ کے لیے ریاض میں مذاکرات کی دعوت دینے کا اقدام کا بڑے پیمانے پر خیرمقدم کیا گیا ہے۔
عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد ابو الغیظ نے جنوبی مسئلے کے منصفانہ حل پر بات چیت کےلیے یمنی صدارتی قیادت کونسل کے صدر رشاد العلیمی کی جانب سے جامع کانفرنس بلانے کی درخواست کا خیرمقدم کیا۔
انہوں نے یمنی صدر کی درخواست پر سعودی عرب کے فوری جواب، جنوبی یمن کے دھڑوں کی شرکت کے ساتھ کانفرنس کی میزبانی کرنے پرمملکت کی تعریف کی۔
انہوں نے عرب لیگ کے دیرینہ موقف کا اعادہ کیا جو یمن کے اتحاد اور اس کی علاقائی سالمیت کے تحفظ کے عزم پر مبنی ہے۔ یمنی بحران سے متعلق موقف کا اظہار عرب لیگ کی قراردادوں میں بھی کیا جا چکا ہے۔
رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل شیخ ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم العیسی نے بھی سعودی عرب کے اعلان کی تعریف کی۔
انہپوں نے مزید کہا ’سعودی عرب یمن  میں امن اور استحکام برقرار رکھنے کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔ جنوبی مسئلے کو تمام فریقین کے درمیان جامع مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘
علاوہ ازیں قطر نے جنوبی یمن کے مسئلے کے منصفانہ حل کے لیے جامع کانفرنس کی میزبانی پر سعودی عرب کی ستائش کی ہے۔
ایک بیان میں قطری وزارت خارجہ نے ریاض میں متوقع کانفرنس میں تمام جنوبی سٹیک ہولڈرز کی تعمیری شرکت کی اہمیت پر زور دیا، یمنی عوام کے مفادات کو اولین ترجیح قرار دیا۔
قطر نے سیاسی عمل کو آگے بڑھانے، مذاکرات اور پرامن ذرائع سے یمنی بحران کے خاتمے کے لیے تمام علاقائی اور بین الاقوامی کوششوں کی سپورٹ کا اعادہ کیا۔

سعودی وزارت خارجہ کے مطابق ’اس کانفرنس کی درخواست یمنی صدارتی قیادت کونسل کے صدر رشاد العلیمی نے کی تھی‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

اسلامی تعاون تنظیم ( او آئی سی) نے یمن سے متعلق  کانفرنس کی میزبانی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ’یہ اقدام اتحاد کو فروغ دینے، تشدد کو مسترد کرنے اور پرامن سیاسی حل کو آگے بڑھانے کےلیے مملکت کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔‘
او آئی سی کے سیکرٹیی جنرل حسین ابراہیم طحہ نے کہا’ یمنی صدارتی کونسل کی درخواست پر منعقد ہونے والے جامع مذاکرات ہی یمن میں پائیدار امن اور استحکام کے حصول کے لیے واحد قابل عمل راستہ ہے۔‘
دریں اثنا اردن نے سنیچر کو یمن کی قیادت کونسل کے چیئرمین کی جانب سے جنوبی دھڑوں کی جامع کانفرنس بلانے کی اپیل کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے کشیدگی میں کمی اور مکالمے کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا۔

رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل  نے مملکت کے اعلان کی تعریف کی۔ (فوٹو: اے ایف پی )

اردنی وزارتِ خارجہ نے مذاکرات کی میزبانی کے سعودی فیصلے کو سراہا اور یمن کی سلامتی، استحکام اور قومی اتفاقِ رائے پر مبنی سیاسی حل کو فروغ دینے والی سفارتی کوششوں کی حمایت کا اعادہ کیا۔
اس سے قبل سعودی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا تھا کہ سعودی دارالحکومت میں اس کانفرنس کی درخواست یمنی صدارتی قیادت کونسل کے صدر رشاد العلیمی نے کی تھی۔
’مملکت نے تمام دھڑوں پر زور دیا کہ وہ ’ایک جامع وژن تیار کرنے‘ کے لیے اس میں شرکت کریں جو جنوبی عوام کی امنگوں کو پورا کر سکے۔‘
علیحدگی پسند ’سدرن ٹرانزیشنل کونسل‘ یا ایس ٹی سی نے حال ہی میں حضرموت اور المہرہ کی گورنریوں میں علاقوں پر قبضہ کیا ہے۔
سعودی عرب کا کہنا ہے ایس ٹی سی کی یہ کارروائی مملکت کی قومی سلامتی اور علاقائی استحکام کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔
مملکت نے اس بات کا اعادہ کیا کہ جنوبی مسئلے کے حل کا واحد راستہ صرف مذاکرات ہیں۔

 

شیئر: