سعودی عرب جنوبی یمنی دھڑوں کے درمیان ’مذاکرات‘ کی میزبانی کرے گا
سعودی عرب نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ جنوبی مسئلے کے حل کا واحد راستہ صرف مذاکرات ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)
سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ نے جنوبی یمن کے دھڑوں کو ’مسئلہ جنوب کے منصفانہ حل پر بات چیت‘ کے لیے ریاض میں مذاکرات کی دعوت دی ہے۔
وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی دارالحکومت میں اس کانفرنس کی درخواست یمنی صدارتی قیادت کونسل کے صدر رشاد العلیمی نے کی تھی۔
’مملکت نے تمام دھڑوں پر زور دیا ہے کہ وہ ’ایک جامع وژن تیار کرنے‘ کے لیے اس میں شرکت کریں جو جنوبی عوام کی امنگوں کو پورا کر سکے۔‘
علیحدگی پسند ’سدرن ٹرانزیشنل کونسل‘ یا ایس ٹی سی نے حال ہی میں حضرموت اور المہرہ کی گورنریوں میں علاقوں پر قبضہ کیا ہے۔
سعودی عرب کا کہنا ہے کہ ایس ٹی سی کی یہ کارروائی مملکت کی قومی سلامتی اور علاقائی استحکام کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔
رواں ہفتے کے آغاز میں یمنی حکومت کی حمایت کرنے والے فوجی اتحاد نے ان ہتھیاروں اور گاڑیوں کی کھیپ کو نشانہ بناتے ہوئے فضائی حملے کیے جو جنوبی علیحدگی پسند قوتوں کے لیے بھیجی جا رہی تھیں۔
یہ کھیپ دو بحری جہازوں کے ذریعے المکلا کی بندرگاہ پر پہنچی تھی۔
سعودی عرب نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ جنوبی مسئلے کے حل کا واحد راستہ صرف مذاکرات ہیں۔
منگل کو خلیجی اور عرب ممالک نے یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کیا تھا۔
