یمن کے مسئلے کا حل سفارتکاری، اس کے لیے سعودی عرب کے ساتھ ہیں: پاکستان
یمن کے مسئلے کا حل سفارتکاری، اس کے لیے سعودی عرب کے ساتھ ہیں: پاکستان
جمعرات 1 جنوری 2026 14:42
پاکستان نے یمن کے مسئلے کے حل کے لیے سفارت کاری کی حمایت کرتے ہوئے اس حوالے سے سعودی عرب سے یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔
جمعرات کو اسلام آباد میں پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا کہ یمن کی وحدت اور خودمختاری کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔
’اس ضمن میں پاکستان کسی بھی یمنی فریق کی جانب سے ایسے یکطرفہ اقدامات کی سخت مخالفت کرتا ہے جو صورتِ حال کو مزید بگاڑ سکتے ہوں، امن کی کوششوں کو نقصان پہنچائیں، اور یمن نیز پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ بنیں۔‘
ترجمان نے کہا کہ پاکستان یمن میں کشیدگی میں کمی اور امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے کی جانے والی علاقائی کوششوں کا خیرمقدم کرتا ہے۔
’پاکستان مملکتِ سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور مملکت کی سلامتی کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔ پاکستان یمن کے مسئلے کے حل کے لیے مکالمے اور سفارت کاری کے ذریعے کوششوں کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور امید کرتا ہے کہ یمن کے عوام اور علاقائی طاقتیں مل کر اس مسئلے کے جامع اور دیرپا حل کے لیے کام کریں گی، تاکہ علاقائی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔‘
ترجمان نے مزید بتایا کہ گزشتہ شام وزیرِ اعظمِ پاکستان محمد شہباز شریف نے سعودی ولی عہد اور وزیرِ اعظم شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فون پر گفتگو کی۔
’دونوں رہنماؤں نے علاقائی صورتِ حال اور موجودہ پیش رفت پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔ وزیرِ اعظم نے موجودہ چیلنجز کے تناظر میں امتِ مسلمہ کے درمیان اتحاد اور ہم آہنگی برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ مملکتِ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ مکالمے اور سفارت کاری کے ذریعے علاقائی امن و استحکام کو برقرار رکھنا ناگزیر ہے۔‘
ترجمان کے مطابق وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سعودی وزیر خارجہ سے رابطہ کیا۔ ’متحدہ عرب امارات کی لیڈر شپ اس ہفتے پاکستانی قیادت کے ساتھ رابطے میں رہی۔ وزیراعظم نے زاید النہیان سے اسلام آباد اور رحیم یار خان میں ملاقاتیں کیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو تبوک کے گورنر نے بھی ٹیلیفون کال کی۔
یہ پیشرفت یمن میں اُس واقعے کے بعد ہوئی جس میں سعودی قیادت میں اتحاد نے کہا کہ اس نے 30 دسمبر کو ایک ’محدود‘ فضائی حملے میں سمگل کیے گئے ہتھیاروں اور فوجی ساز و سامان کی دو شپمنٹس کو نشانہ بنایا جو متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ فجیرہ سے جنوبی یمن میں مکلا بھیجی گئی تھیں۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں یمن کی صورتحال پر گفتگو کی۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو تسلیم کیے جانے کو مسترد کرتے ہیں۔
’صومالیہ کی خودمختاری کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں، اسحاق ڈار نے صومالیہ کے معاملے پر مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ اور او آئی سی کے ہمراہ ایک اعلامیہ جاری کیا جس میں صومالی لینڈ کو تسلیم کیے جانے کی مذمت کی گئی۔‘
ترجمان نے بتایا کہ صومالیہ کے وزیر خارجہ نے اسحاق ڈار کو ٹیلفون کال کی اور اُن کا شکریہ ادا کیا۔