Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

العلا میں 465 ملین سال پرانے ’کریب‘ فوسلز کی دریافت

فوسلز کے بارے میں ایک مطالعہ جرنل گونڈوانا ریسرچ میں شائع ہوا۔ (فوٹو: ایس پی اے)
رائل کمیشن فار العلا نے جمعرات کو ایک نایاب ’ہارس شو کریب‘ فوسلز کی دریافت کا اعلان کیا ہے، جو 465 ملین سال پرانے  بتائے جاتے ہیں۔
سعودی خبررساں ایجنسی ’ایس پی اے‘ کے مطابق دریافت ہونے والے فوسلز کے بارے میں ایک مطالعہ جرنل گونڈوانا ریسرچ میں شائع ہوا۔
اس میں کہا گیا کہ یہ دریافت تجویز کرتی ہے کہ ماضی میں العلا ساحل کے بہت قریب تھا جبکہ آج یہ ساحل سے سو کلو میٹر سے زیادہ دور خشکی پر ہے۔
فوسلز کا  مطالعہ اور ان کی خصوصیات جانچنے کے لیے کام کیا جا رہا ہے۔ دریافت ہونے والے فوسلز ارڈویشین کے درمیانی دور کے ہو سکتے ہیں جس کا زمانہ 485 سے 444 ملین برس پر محیط ہے۔
یہ دریافت اس لحاظ سے بھی قابل ذکر ہے کہ یہ فوسلز اسی دور کے عام طور پر ملنے  والے دیگر انواع کے مقابلے میں بڑے تھے۔
 دریافت ہونے والے فوسلز عالمی سطح پر انتہائی منفرد ہیں جن کی تفصیلات پہلی مرتبہ منظرعام پرآئی ہیں جس کے باعث عالمی سطح پر ارضیاتی و سائنسی تحقیق کے حوالے سے العلا کمشنری کی پوزیشن مستحکم ہوتی ہے۔

ارضیاتی تہوں کے مطالعے سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اس وقت یہ خطہ مسلسل موسمی طوفانوں کی زد میں رہا ہوگا جس سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے اس وقت کے جاندار ساحلی ماحول میں رہتے تھے جو ان طوفانوں سے متاثرہ تھے جس کی وجہ سے جمع ہونے والے کیچڑ میں یہ فوسلز محفوظ ہو گئے۔
مطالعاتی رپورٹ میں  قدیم العلا کے ماحول کے حوالے سے بھی اہم شواہد کا نشاندہی ہوتی ہے جس سے علاقے کی تاریخ کو سمجھنے کے لیے آسانی ہوگی۔
یاد رہے حالیہ برسوں میں سعودی عرب میں قدیم نوادرات سے وسیع ذخائر سامنے آئے ہیں۔
اکتوبر 2025 میں ہیریٹج کمیشن نے الیمامہ آثار قدیمہ سروے پروجیکٹ کے تحت 338 نئے آثار قدیمہ کے مقامات کا انکشاف کیا جس میں پتھر کے اوزار بنانے کے مقامات، آبی نظامات اور اشکال کے دائرہ نما پتھریلے ڈھانچے شامل ہیں۔
ستمبر میں تبوک کے قریب قدیم  ترین انسانی بستی کے آثار دریافت ہوئے جو آثار 10300 سے 11000 ہزار برس پرانے ہوسکتے ہیں جب انسانیت نے مٹی کے دور کے بعد ’نوولتھک‘ دور میں قدم رکھا تھا۔

 

شیئر: