Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

دنیا بھر میں فوجی کارروائی کرنے سے مجھے صرف میری اخلاقیات روکتی ہے، صدر ٹرمپ

چند روز قبل ہی ٹرمپ کے حکم پر وینزویلا میں فوجی کارروائی کی گئی تھی (فوٹو: نیویارک ٹائمز)
امریکی صدر دونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں فوجی کارروائی کے احکامات سے انہیں اگر کوئی چیز روکتی ہے تو وہ خود ان کی ’اپنی اخلاقیات‘ ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اخبار نیو یارک ٹائمز کو دیا گیا انٹرویو وینزویلا میں کی گئی اس فوجی کارروائی کے چند روز سامنے آیا ہے جس میں وہاں کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کیا گیا اور خود مختار ریاست گرین لینڈ کے علاوہ دوسرے ممالک کو بھی دھمکی دی گئی تھی۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ عالمی سطح پر اثر و رسوخ حاصل کرنے کے حوالے سے ان کی کوئی حد ہے؟ تو اس کے جواب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’ہاں صرف ایک چیز ہے، میری اپنی اخلاقیات اور دماغ، صرف یہ چیزیں مجھے کسی کام سے روک سکتی ہیں۔‘
ان کے مطابق ’مجھے بین الاقوامی قوانین نہیں چاہییں، میں لوگوں کو تکلیف نہیں دینا چاہتا۔‘
ریپبلکن صدر نے بات جاری رکھتے ہوئے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ’مجھے بین الاقوامی قانون کی پابندی کرنی چاہیے مگر اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ اس قانون کی تعریف کیا ہے۔‘
امریکہ بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کا رکن نہیں جو جنگی جرائم میں ملوث لوگوں پر مقدمہ چلاتی ہے اور اس نے بارہا اقوام متحدہ کی اعلیٰ عدالت انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس (آئی سی جے) کے فیصلوں کو مسترد کیا ہے۔
ٹرمپ خود اپنے ملک کے قوانین کے ساتھ بھی ٹکراتے رہے ہیں اور دو بار ان کا مواخذہ بھی ہوا۔
ان کو 2020 کے انتخابات کے نتائج کو الٹنے کی سازش سمیت متعدد الزامات کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم دوبارہ منتخب ہونے پر وہ سلسلہ بند ہوا جبکہ اس سے قبل ایک پورن سٹار کو دی گئی رقم کو چھپانے کے الزام میں انہیں مجرم بھی قرار دیا گیا تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ خود کو’امن کا صدر‘ قرار دیتے ہوئے نوبیل انعام کے خواہاں ہیں جبکہ ان کے دوسرے دور صدارت میں فوجی کارروائیوں کا سلسلہ شروع کیا ہے۔
انہوں نے جون میں ایران کے جوہری پروگرام پر حملے کے احکامات جاری کیے جبکہ پچھلے برس کے دوران عراق، نائیجیریا، صومایہ، شام، یمن کے علاوہ حالیہ دنوں میں وینزویلا پر حملے کیے۔
نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد انہوں نے کولمبیا سمیت دیگر ممالک کو بھی دھمکی دی ہے جن میں گرین لینڈ بھی شامل ہے جو نیٹو کے رکن ملک ڈنمارک کے زیرانتظام ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا ان کی ترجیح نیٹو کے فوجی اتحاد کا تحفظ ہے یا پھر گرین لینڈ کا حصول، تو اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’ان میں سے کوئی ایک ہو سکتا ہے۔‘
ارب پتی ٹرمپ جنہوں نے ایک پراپرٹی ڈویلپر کے طور پر بہت ترقی حاصل کی ہے، کا مزید کہنا تھا کہ ’گرین لینڈ کی ملکیت ایسی چیز ہے جو مجھے لگتا ہے کہ نفسیاتی طور پر کامیابی کے لیے ضروری ہے۔‘

شیئر: