گیس بردار جہاز آبنائے ہرمز عبور کرکے پاکستان روانہ، امریکہ کو ایران کے جواب کا بدستور انتظار
تہران نے بڑی حد تک غیر ایرانی جہازوں کی آمدورفت کو آبنائے ہرمز میں محدود کر دیا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
قطر کا قدرتی گیس لے جانے والا ایک ٹینکر اتوار کو آبنائے ہرمز عبور کر کے پاکستان کی جانب روانہ ہوگیا۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایران جنگ شروع ہونے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ کسی قطری ایل این جی بردار جہاز نے اس راستے کو عبور کیا، جبکہ واشنگٹن اب بھی تہران کے امن مذاکرات سے متعلق تازہ تجاویز پر جواب کا منتظر ہے۔
گزشتہ ہفتے وقفے وقفے سے ہونے والی جھڑپوں کے بعد تقریباً 48 گھنٹے نسبتاً پرسکون گزرے، تاہم حکام کے مطابق اتوار کی صبح کویت کی فضائی حدود میں کئی دشمن ڈرونز کا پتا چلا۔
شپنگ کے تجزیاتی ادارے کپلر کے اعداد و شمار کے مطابق قطرانرجی کے زیرِ انتظام جہاز ’الخرائطیات‘ بحفاظت آبنائے ہرمز سے گزرا اور کراچی میں واقع بندرگاہ پورٹ قاسم کی جانب روانہ ہوگیا۔
28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے جنگ شروع ہونے کے بعد یہ پہلا قطری ایل این جی جہاز ہے جس نے آبنائے عبور کی۔
ذرائع کے مطابق اس ترسیل کی منظوری ایران نے قطر اور پاکستان کے ساتھ اعتماد سازی کے لیے دی، کیونکہ دونوں ممالک جنگ میں ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ پاکستان میں حالیہ بجلی بلیک آؤٹس کی ایک وجہ گیس درآمدات میں تعطل بھی بتایا گیا تھا۔
تاہم ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ وہ ممالک جو ایران کے خلاف امریکی پابندیوں پر عمل کرتے ہیں، ان کے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
امریکہ اب بھی تہران سے اس تجویز پر جواب کا منتظر ہے جس کے تحت متنازع امور، خصوصاً ایران کے جوہری پروگرام، پر مذاکرات شروع ہونے سے پہلے جنگ کو باضابطہ طور پر ختم کیا جانا ہے۔
فرانسیسی نشریاتی ادارے ایل سی آئی کی مارگوٹ حداد نے ہفتے کو کہا تھا کہ صدر ٹرمپ نے مختصر انٹرویو میں بتایا کہ انہیں ایران کے جواب کی بہت جلد توقع ہے۔
چین کے دورے سے قبل جنگ ختم کرنے کے لیے دباؤ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس ہفتے چین کے دورے پر روانہ ہونے والے ہیں، اور اس سے قبل جنگ ختم کرنے کے لیے دباؤ بڑھ گیا ہے، کیونکہ اس تنازع نے عالمی توانائی بحران کو جنم دیا ہے اور عالمی معیشت کے لیے خطرات میں اضافہ کیا ہے۔
تہران نے بڑی حد تک غیر ایرانی جہازوں کی آمدورفت کو آبنائے ہرمز میں محدود کر دیا ہے۔ جنگ سے قبل یہ آبی گزرگاہ دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل سپلائی کی ترسیل کا راستہ تھی اور اب یہ جنگ کا ایک اہم دباؤ کا مرکز بن چکی ہے۔
ایرانی ارکانِ پارلیمنٹ نے کہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق ایک بل تیار کر رہے ہیں، جس میں ’دشمن ریاستوں‘ کے جہازوں کے گزرنے پر پابندی جیسی شقیں شامل ہوں گی۔
مارکو روبیو نے ہفتے کو میامی میں قطر کے وزیرِاعظم سے ملاقات کی۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے مشرقِ وسطیٰ میں خطرات کو روکنے اور استحکام و سلامتی کے فروغ کے لیے تعاون جاری رکھنے پر بات چیت کی، تاہم بیان میں ایران کا ذکر نہیں کیا گیا۔
حالیہ دنوں میں جنگ بندی شروع ہونے کے بعد آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف میں سب سے شدید کشیدگی دیکھی گئی۔ جمعے کو متحدہ عرب امارات پر دوبارہ حملے ہوئے جبکہ آبنائے میں ایرانی افواج اور امریکی جہازوں کے درمیان وقفے وقفے سے جھڑپوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
