Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ہنٹا وائرس کا کیس، برطانوی پیراٹروپرز کی دنیا کے دور افتادہ ترین جزیرے پر لینڈنگ

رپورٹ کے مطابق متاثرہ شخص نے ایم وی ہونڈیئس پر سفر کیا تھا (فوٹو: بیرنز)
برطانیہ کے پیرا ٹروپرز طبی ٹیم کے ساتھ اس دورافتادہ جزیرے پر پیراشوٹس کے ذریعے اترے ہیں جہاں ہنٹا وائرس سے متاثر ہونے والے کروز شپ پر سفر کرنے والا ایک شخص موجود ہے اور وہ وائرس سے متاثر ہے۔
 برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق وہ متاثرہ دنیا کے سب سے دور افتادہ جزیرے ٹریسٹن ڈا کیونا کے علاقے میں موجود ہے۔
چھ پیراٹروپرز اور دو فوجی طبی ماہرین آر اے ایف اے 400 ایم جہاز کے ذریعے چھ ہزار سات سو 88 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے آکسفوڈ شائر پہنچے جہاں سے مزید تین ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد ٹریسٹن ڈا کیونا کے اوپر جہاز پہنچا جہاں سے آٹھ افراد پر مشتمل افراد نے پیراشوٹس کے ذریعے چھلانگ لگائی اور متاثرہ شخص تک آکسیجن پہنچانے کے علاوہ دوسرا ضروری طبی سامان پہنچایا۔
وزارت دفاع کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ برطانیہ کی فوجی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ برطانوی فوج نے ایسی ٹیم کو تعینات کیا ہے جو پیراشوٹس کے ذریعے چھلانگ لگا کر مدد فراہم کر رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق جس شخص کو یہ سامان بھجوایا گیا ہے اس کے بارے میں برطانیہ کے شعبہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ اسی کروز شپ پر سوار تھا جہاں ہنٹا وائرس کے کیس سامنے آئے اور وہ 13 سے 15 اپریل تک اس جزیرے پر رکا تھا۔

چھلانگ لگانے والی ٹیم آٹھ افراد پر مشتمل ہے (فوٹو: روئٹرز)

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ اس شخص میں ہنٹا وائرس کی علامات ظاہر ہوئیں تاہم اس کی حالت بہتر ہے اور اس کو لوگوں سے الگ تھلک رکھا گیا ہے۔
وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ ’جزیرے پر آکسیجن کی سپلائی تشویشناک حد تک کم ہو چکی ہے اس لیے متاثرہ شخص تک بروقت ضروری امداد پہنچانے کا واحد راستہ ایئر ڈراپ ہی تھا۔‘
ٹریسٹن ڈا کیونا ایک ایسا جزیرہ ہے جہاں صرف 200 افراد رہائش پذیر ہیں اور یہ جنوبی افریقہ اور جنوبی امریکہ کے درمیان واقع ہے یہ دنیا کا سب سے زیادہ دور افتادہ ایسا جزیرہ ہے جہاں انسانی آبادی موجود ہے اور یہ اپنے قریب ترین جزیرے سینٹ ہیلینا سے دو ہزار چار سو کلومیٹر سے زائد کے فاصلے پر واقع ہے جہاں کشتی پر چھ روز کے سفر کے بعد پہنچنا ہی ممکن ہے۔
جزیرے پر صرف دو افراد پر مشتمل میڈیکل موجود ہوتی ہے اور وہاں صرف کشتی کے ذریعے ہی جایا جا سکتا ہے کیونکہ وہاں ہوائی سفر کے بعد لینڈنگ ممکن نہیں۔

یہ برطانیہ کی فوجی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ پیرا ٹروپرز کو طبی امداد کے لیے تعینات کیا گیا ہے (فوٹو: روئٹرز)

اس سے قبل سات مئی کو فوجی جہاز کے ذریعے جزیرے پر پولیمریز چین ری ایکشن (پی سی آر) ٹیسٹ پہنچائے گئے تھے، جہاں مذکورہ کروز شپ پر سوار ایک اور برطانوی شہری بھی اترا تھا جس کو بعدازا طبی بنیادوں پر جنوبی افریقہ منتقل کر دیا گیا تھا۔
خیال رہے ہنٹا وائرس سے متاثرہ کروز شپ کے مسافروں کی وطن واپسی اتوار کو شروع ہوئی تھی۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایم وی ہونڈیئس نامی جہاز کے مسافروں میں سے ایک ڈچ جوڑا اور ایک جرمن خاتون ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ دیگر افراد عموماً چوہوں سے پھیلنے والی اس نایاب بیماری سے متاثر ہوئے۔
ہنٹا وائرس کے لیے نہ کوئی ویکسین موجود ہے اور نہ ہی کوئی مخصوص علاج، اور یہ بیماری ارجنٹینا میں عام پائی جاتی ہے، جہاں سے یہ جہاز اپریل میں روانہ ہوا تھا۔

شیئر: