ہنٹا وائرس سے متاثرہ جہاز کے مسافروں کی وطن واپسی شروع، ‘عالمی وبا کا خطرہ نہیں‘
ہنٹا وائرس سے متاثرہ جہاز کے مسافروں کی وطن واپسی شروع، ‘عالمی وبا کا خطرہ نہیں‘
اتوار 10 مئی 2026 18:18
مہلک ہنٹا وائرس کے پھیلاؤ سے متاثرہ کروز جہاز کے مسافروں کی وطن واپسی اتوار کے روز سپین کے کینری جزائر سے شروع ہو گئی، جس کے لیے ایک پیچیدہ بندوبست کیا گیا۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایم وی ہونڈیئس نامی جہاز کے مسافروں میں سے ایک ڈچ جوڑا اور ایک جرمن خاتون ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ دیگر افراد عموماً چوہوں سے پھیلنے والی اس نایاب بیماری سے متاثر ہوئے۔
ہنٹا وائرس کے لیے نہ کوئی ویکسین موجود ہے اور نہ ہی کوئی مخصوص علاج، اور یہ بیماری ارجنٹینا میں عام پائی جاتی ہے، جہاں سے یہ جہاز اپریل میں روانہ ہوا تھا۔
تاہم طبی حکام نے واضح کیا ہے کہ عالمی سطح پر اس بیماری کے پھیلاؤ کا خطرہ کم ہے اور اس کا کووڈ-19 کی وبا سے موازنہ درست نہیں۔
سپین کی وزیر صحت مونیکا گارسیا کے مطابق جہاز پر موجود تقریباً 150 مسافروں اور عملے کی واپسی کا عمل پیر تک جاری رہے گا، جب آخری پرواز آسٹریلیا کے لیے روانہ ہوگی۔
سپین کے شہری تحفظ کے ادارے کی سربراہ ورجینیا بارکونس کے مطابق نیدرلینڈز جانے والی ایک پرواز میں 27 افراد سوار تھے، جن میں بیلجیئم، یونان، جرمنی، گوئٹے مالا اور ارجنٹینا کے شہری شامل تھے۔
کینری جزائر کی انتظامیہ نے خبردار کیا ہے کہ یہ ریسکیو کارروائی پیر تک مکمل کرنا ضروری ہے (فوٹو: شٹرسٹاک)
ترکی، برطانیہ، آئرلینڈ اور امریکا کے شہریوں کے لیے بھی الگ پروازوں کا انتظام کیا گیا۔
وقت کے خلاف دوڑ
کینری جزائر کی انتظامیہ نے خبردار کیا ہے کہ یہ کارروائی پیر تک مکمل کرنا ضروری ہے، کیونکہ خراب موسم کے باعث جہاز کو روانہ ہونا پڑے گا۔
ورجینیا بارکونس کے مطابق اگر سب کچھ منصوبے کے مطابق رہا تو پیر کو شام سات بجے جہاز نیدرلینڈز کے لیے روانہ ہو جائے گا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ کسی مسافر میں ہنٹا وائرس کی علامات نہیں ہیں اور جہاز سے اتارے جانے سے قبل ان کا آخری طبی معائنہ بھی کیا گیا۔
ہسپانوی وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے کہا ہے کہ سپین اس معاملے میں سائنسی بنیادوں، مکمل شفافیت اور بین الاقوامی تعاون کے ساتھ اپنی ذمہ داری ادا کر رہا ہے۔
بین الاقوامی تشویش
انسانوں کے درمیان ممکنہ طور پر پھیلنے والے ہنٹا وائرس کی ممکنہ قسم اینڈیز وائرس کی متاثرہ افراد میں تصدیق ہو چکی ہے، جس سے عالمی تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق آٹھ مشتبہ کیسز میں سے چھ کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ جہاز پر اب کوئی مشتبہ مسافر موجود نہیں۔
یہ جہاز اتوار کی صبح کیپ ورڈے سے ٹینیرائف پہنچا، جہاں سے اس سے قبل تین متاثرہ افراد کو یورپ منتقل کیا جا چکا تھا۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق آٹھ مشتبہ کیسز میں سے چھ کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ جہاز پر اب کوئی مشتبہ کیس باقی نہیں (فوٹو: اے پی)
یکم اپریل کو یہ جہاز ارجنٹینا کے شہر اوشوایا سے بحرِ اوقیانوس کے سفر پر روانہ ہوا تھا۔
تاہم ارجنٹینا کی صوبائی صحت کے ایک اہلکار خوان پیٹرینا نے کہا ہے کہ ’یہ امکانات تقریباً نہ ہونے کے برابر ہیں کہ اس وبا سے منسلک ڈچ شہری اوشوایا میں اس وبا سے متاثر ہوا ہو، کیونکہ اس وائرس کی علامات کے ظاہر ہونے میں کئی ہفتے لگتے ہیں۔‘
متعدد ممالک کے صحت حکام ان مسافروں کا سراغ لگا رہے ہیں جو پہلے ہی جہاز سے اتر چکے تھے یا جن کا ان سے کوئی رابطہ ہوا تھا۔