پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سنیچر کو جدہ میں پاکستان قونصلیٹ کی نئی عمارت کا افتتاح کیا ہے۔
نئی عمارت جدہ کے رحاب ڈسٹرکٹ میں ایک سال کی مختصر مدت میں تعمیر کی گئی، جس کا ڈیزائن پاکستانی، اسلامی اور سعودی فن تعمیر کا امتزاج ہے۔
اس پُروقار تقریب میں مملکت میں پاکستان کے سفیر احمد فاروق، سعودی معززین، قونصل جنرل سید مصطفی ربانی، پاکستانی کمیونٹی کی شخصیات اور قونصلیٹ کے حکام شریک تھے۔

اسحاق ڈار نے نئی قونصلیٹ بلڈنگ کے احاطے میں پاکستانی پرچم لہرایا، پودا لگایا اور تختی کی نقاب کشائی کی۔ اس موقعے پر سعودی عرب اور پاکستان کی ترقی کے لیے دعا بھی کی گئی۔
تقریب میں قونصلیٹ بلڈنگ پروجیکٹ کی خصوصیات کو اُجاگر کرنے کے لیے ایک ویڈیو رپورٹ بھی دکھائی گئی۔
واضح رہے کہ جدہ قونصلیٹ مملکت میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے لیے اہم رہا ہے۔ 1985 میں پاکستانی سفارت خانہ جب جدہ سے ریاض منتقل ہوا تو قونصلیٹ نے کام شروع کیا۔
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اس موقعے پر خطاب میں قونصلیٹ جنرل آف پاکستان کی کوششوں اور سعودی حکام کی جانب سے اس منصوبے کو حقیقت بنانے کے لیے فراہم کی جانے والی معاونت کو سراہا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’حکومت بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے موثر قونصلر خدمات کی فراہمی کے لیے پُرعزم ہے۔‘
بعد ازاں اسحاق ڈار نے قونصلیٹ کے افسران کے ہمراہ نئی عمارت اور یہاں موجود سہولتوں کا جائزہ لیا۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے منصوبے کی تکمیل پر اطمینان کا اظہار کیا اور جلد سے جلد آپریشنز اور قونصلر خدمات کو نئی عمارت میں منتقل کرنے کی اجازت دی۔
یاد رہے کہ جدہ قونصلیٹ، وزارت خارجہ کا بیرون ملک سب سے بڑا مِشن ہے اور یہ مملکت کے ویسٹرن ریجن میں قریباً 18 لاکھ پاکستانیوں کی خدمت کرتا ہے۔

نئی قونصلیٹ بلڈنگ اور یہاں موجود سہولتیں کمیونٹی کے لیے خدمات کو آسان بنانے میں معاون ہوں گی۔
قونصلیٹ کی نئی عمارت کا کل رقبہ 18 ہزار 400 مربع میٹر ہے جبکہ عمارت 5 ہزار 200 مربع میٹر پر تعمیر کی گئی ہے۔ اس کی چار منزلیں ہیں۔ یہ ایریا 8 ہزار 770 مربع میٹر ہے۔
پہلی دو منزلیں قونصل خدمات کے لیے مختص ہیں، دو بڑے ہال اور پبلک ویٹنگ ایریا ہوں گے۔ تیسری منزل آفس ایریا کے لیے جبکہ چوتھی منزل حج مشن کے لیے ہے۔ یہاں آرکائیوز بھی محفوظ کیے جائیں گے۔
یہ پروجیکٹ گرین بلڈنگ اور انوائرنمنٹ فرینڈلی ہے۔ ہوا اور روشنی کا اہتمام ہے۔ سمارٹ کنٹرول سسٹم اور سعودی قوانین کے مطابق تمام بنیادی سہولتیں اس میں موجود ہیں۔









