امریکہ اور ایران کے درمیان جاری حالیہ تناؤ میں اس وقت ایک شدید موڑ دیکھنے میں آیا جب جمعرات کو دونوں ممالک کی افواج نے ایک دوسرے پر گولہ باری کی۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ان جھڑپوں گزشتہ ایک ماہ سے جاری جنگ بندی کے لیے اب تک کا سب سے بڑا امتحان قرار دیا جا رہا ہے۔
تاہم اس کشیدگی کے باوجود تہران کا کہنا ہے کہ صورتحال معمول پر آ گئی ہے جبکہ واشنگٹن نے واضح کیا ہے کہ وہ معاملات کو طول دینے کا خواہاں نہیں ہے۔
مزید پڑھیں
-
امریکہ اور ایران کے درمیان جلد معاہدے کی توقع ہے: پاکستانNode ID: 903960
خلیج فارس میں ہونے والی یہ تازہ جھڑپیں ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب وائٹ ہاؤس ایران کی جانب سے اس امریکی تجویز کے جواب کا منتظر ہے جس کا مقصد لڑائی کو مستقل طور پر روکنا ہے۔
اگرچہ اس تجویز میں جوہری پروگرام جیسے متنازع مسائل کو فی الحال حل طلب چھوڑ دیا گیا ہے۔
ایرانی فوج کے مطابق امریکی فورسز نے آبنائے ہرمز میں داخل ہونے والے دو بحری جہازوں کو نشانہ بنایا اور ایرانی سرزمین پر حملے کیے۔
دوسری جانب امریکی فوج نے موقف اختیار کیا ہے کہ اس نے یہ کارروائی ایرانی حملوں کے جواب میں دفاعی طور پر کی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن میں لنکن میموریل کے ریفلیکٹنگ پول کی تزئین و آرائش کے معائنے کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان جھڑپوں کی اہمیت کو کم ظاہر کرنے کی کوشش کی۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے مخصوص انداز میں کہا کہ جنگ بندی اب بھی برقرار ہے اور ایرانیوں نے آج ہمیں چھیڑنے کی کوشش کی تھی جس کا ہم نے بھرپور جواب دیا اور انہیں پیچھے دھکیل دیا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بقول یہ ایک عارضی واقعہ تھا جس سے وسیع تر مذاکراتی عمل پر فرق نہیں پڑے گا۔
ایران کی اعلیٰ فوجی کمان نے امریکہ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ امریکی حملوں میں ایک تیل بردار ٹینکر اور ایک دوسرے جہاز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
تہران کا دعویٰ ہے کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز میں واقع قشم جزیرے اور مین لینڈ پر بندر خمیر اور سیریک کے شہری علاقوں پر فضائی حملے کیے۔
ایرانی فوج کے بیان کے مطابق اس نے جوابی کارروائی میں آبنائے کے مشرق اور چاہ بہار کی بندرگاہ کے جنوب میں موجود امریکی فوجی جہازوں کو نشانہ بنایا۔

ایران کے خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈ کوارٹر کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ ایرانی حملوں سے امریکی اثاثوں کو ’نمایاں نقصان‘ پہنچا ہے، تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا کوئی نقصان نہیں ہوا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ایران نے اس حملے میں میزائلوں، ڈرونز اور چھوٹی کشتیوں کا استعمال کیا جن کا ہدف امریکی بحریہ کے تین تباہ کن جہاز (ڈسٹرائرز) تھے۔
امریکہ نے جواب میں ان مقامات کو نشانہ بنایا جہاں سے میزائل اور ڈرون داغے جا رہے تھے۔
سینٹ کام نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ وہ کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتے لیکن امریکی افواج کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر تیار اور چوکس ہیں۔
ایرانی سرکاری ٹیلی وژن پر ایک فوجی ترجمان نے متنبہ کیا کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ایران کسی بھی جارحیت کا جواب بغیر کسی ہچکچاہٹ کے پوری طاقت سے دے گا۔
گزشتہ چند گھنٹوں کی شدید فائرنگ کے بعد ایران کے ’پریس ٹی وی‘ نے رپورٹ دی کہ اب آبنائے ہرمز کے قریب واقع جزائر اور ساحلی شہروں میں صورتحال معمول پر آ گئی ہے۔ یاد رہے کہ سات اپریل کو ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان وقفے وقفے سے جھڑپیں ہوتی رہی ہیں۔ رواں ہفتے پیر کو بھی امریکی فوج نے چھ ایرانی کشتیوں کو تباہ کرنے اور کروز میزائلوں کو فضا میں ناکارہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔













