کچھ عرصہ پہلے تک ترک شیف نصرت گوکچے، جنہیں دنیا سالٹ بے کے نام سے جانتی ہے، دنیا کے مشہور ترین شیفس میں شمار ہوتے تھے۔ ان کی شہرت کا سبب صرف کھانے نہیں تھے بلکہ گوشت پر نمک چھڑکنے کا منفرد انداز تھا، جس نے انہیں سوشل میڈیا سٹار بنا دیا۔
ویب سائٹ شوبز ڈیلی کے مطابق 2017 میں ان کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں، جن میں وہ مخصوص انداز سے بازو بلند کر کے اوپر سے نمک چھڑکتے دکھائی دیتے تھے۔ سفید شرٹ، گول چشمے، سیاہ دستانے اور پراعتماد انداز نے انہیں ایک منفرد شخصیت بنا دیا۔
مزید پڑھیں
سالٹ بے شہرت سے پہلے استنبول اور دبئی میں دو ریسٹورنٹس کے مالک تھے، مگر وائرل ہونے کے بعد انہوں نے امریکا سمیت کئی ممالک میں ریسٹورنٹس کھولے۔ ان کے ریسٹورنٹس میں بعض کھانوں کی قیمتیں گاڑیوں سے بھی زیادہ تھیں۔ سونے کے ورق سے ڈھکے سٹیکس ہزاروں یورو میں فروخت کیے جاتے تھے، جبکہ بعض ڈشز کی قیمت 2 ہزار یورو تک پہنچ گئی تھی۔
وقت کے ساتھ سالٹ بے ایک شیف سے بڑھ کر عالمی مشہور شخصیت بن گئے۔ فٹبالرز، ماڈلز، کاروباری شخصیات اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز ان کے ریسٹورنٹس کا رخ کرتے اور ان کے ساتھ تصاویر بنواتے تھے۔
لیکن یہی مقام ان کے زوال کا آغاز بھی ثابت ہوا۔

ان کی شخصیت ہمیشہ سے متنازع رہی۔ کچھ لوگ ان کے انداز کو خود اعتمادی سمجھتے تھے جبکہ بعض کے نزدیک وہ حد سے زیادہ دکھاوا کرتے تھے۔
اس کے باوجود ان کی مقبولیت برقرار رہی اور وہ ہر بڑے ایونٹ میں نظر آنے لگے، جن میں بیلون ڈی اور اور لاریئس ایوارڈز جیسی تقریبات شامل تھیں۔
تاہم ان کے کیریئر کا سب سے متنازع لمحہ 2022 کے فیفا ورلڈ کپ فائنل کے بعد سامنے آیا۔

ارجنٹینا کی فتح کے بعد سالٹ بے بغیر اجازت میدان میں داخل ہو گئے اور کھلاڑیوں کے ساتھ جشن منانے لگے۔ حالانکہ ان کا ٹیم یا انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

انہوں نے ورلڈ کپ ٹرافی ہاتھ میں لی، اسے چوما، سیلفیاں بنائیں اور یہاں تک کہ لیونل میسی کا بازو پکڑ کر تصویر لینے کی کوشش بھی کی۔
اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید تنقید شروع ہو گئی اور سالٹ بے کی مقبولیت تیزی سے کم ہونے لگی۔

لوگوں نے ان کے کھانوں کے معیار اور غیر معمولی قیمتوں پر سوال اٹھانا شروع کر دیے۔ کاروبار متاثر ہوا اور امریکا میں موجود ان کے سات میں سے پانچ ریسٹورنٹس بند کرنا پڑے۔












