لائن آف کنٹرول پر پاکستان سے ڈرون دراندازی کی متعدد کوششیں، انڈین میڈیا کا دعویٰ
اتوار 11 جنوری 2026 21:43
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اتوار کو ایک ہی دن میں کم از کم پانچ پاکستانی ڈرون دراندازی کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ (فوٹو: فیس بک)
انڈین میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ انڈین فوج کے اتوار کو شام جموں و کشمیر کے نوشہرہ سیکٹر میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے قریب ایک پاکستانی ڈرون پر فائرنگ کی۔
این ڈی ٹی وی نے نامعلوم ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ لائن آف کنٹرول پر اس کے علاوہ مزید کئی ڈرون بھی دیکھے گئے۔
رات کو آسمان کو روشن کرتے ہوئے ٹریسر گولیوں کی ایک ویڈیو سامنے آئی ہے، جس میں نظر نہ آنے والی گولیوں کی بوچھاڑ دکھائی دی۔ رپورٹ کے مطابق یہ مناظر گزشتہ سال کے آپریشن سندور کے دوران دیکھے گئے مناظر سے مشابہ ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فوج اس بات کی جانچ کے لیے علاقے کی تلاشی لے رہی ہے کہ آیا ان ڈرونز کے ذریعے اسلحہ یا منشیات گرائی گئی ہیں یا نہیں۔ رپورٹ کے مطابق کل ایک ڈرون، جو پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی جانب سے آیا تھا، نے سانبہ سیکٹر میں اسلحے کی ایک کھیپ گرائی تھی۔
فوج کے مطابق مشین گنز کے ذریعے ڈرونز کو نشانہ بنایا گیا۔
ایک اور ڈرون راجوری ضلع میں شام 6 بج کر 35 منٹ پر دیکھا گیا۔ حکام کے مطابق ٹمٹماتی روشنی والی یہ فضائی شے کالاکوٹ کے دھرمسال گاؤں کی جانب سے آئی اور بھرک کی سمت بڑھ گئی۔
این ڈی ٹی وی نے حکام کے حوالے سے بتایا کہ سانبہ کے رام گڑھ سیکٹر میں چک ببرال گاؤں کے اوپر شام تقریباً 7 بج کر 15 منٹ پر ایک ڈرون نما شے چند منٹ تک منڈلاتی دیکھی گئی، جس پر ٹمٹماتی روشنی موجود تھی۔
اسی طرح ایک اور ڈرون نما شے پونچھ ضلع کے مانکوٹ سیکٹر میں، جو ایل او سی کے ساتھ واقع ہے، شام 6 بج کر 25 منٹ پر تین سے ٹوپا کی جانب جاتے ہوئے دیکھی گئی۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اتوار کو ایک ہی دن میں کم از کم پانچ پاکستانی ڈرون دراندازی کے واقعات رپورٹ ہوئے۔
انڈیا کا الزام ہے کہ پاکستان ڈرونز کے ذریعے انڈین علاقے میں اسلحہ اور منشیات گراتا ہے۔
انڈین میڈیا کے دعوے کے حوالے سے پاکستان کی فوج یا دفتر خارجہ کی جانب سے ابھی تک کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
