انڈیا امریکہ کے بھاری ٹیرف کے اثرات کم کرنے اور اپنے برآمد کنندگان کے لیے نئی منڈیاں کھولنے کے مقصد سے جارحانہ انداز میں تجارتی معاہدوں کی تلاش میں ہے، کیونکہ واشنگٹن کے ساتھ کسی سمجھوتے تک پہنچنے کی کوششیں تاحال ناکام رہی ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق گذشتہ برس اگست میں واشنگٹن اور نئی دہلی کے تعلقات اس وقت شدید تناؤ کا شکار ہو گئے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹیرف بڑھا کر 50 فیصد کر دیے۔ اس اقدام سے روزگار کے مواقع کو خطرہ لاحق ہوا اور انڈیا کے ایک بڑی مینوفیکچرنگ اور برآمدی طاقت بننے کے عزائم کو دھچکا پہنچا۔
ماہرین کے مطابق اسی دباؤ نے نئی دہلی کو اپنی سب سے بڑی منڈی سے آگے تیزی سے تنوع کی حکمتِ عملی اپنانے پر مجبور کیا ہے۔
مزید پڑھیں
گذشتہ برس انڈیا نے چار تجارتی معاہدوں پر دستخط کیے یا انہیں عملی شکل دی، جن میں برطانیہ کے ساتھ ایک بڑا معاہدہ بھی شامل ہے، اور اب وہ نئے معاہدوں کی طرف بھی دیکھ رہا ہے۔
یورپی یونین، یوریشین اکنامک یونین، میکسیکو، چلی اور جنوبی امریکی مرکوسور تجارتی بلاک کے ساتھ بات چیت جاری ہے، چاہے وہ نئے معاہدے ہوں یا موجودہ سمجھوتوں کی توسیع۔
نئی دہلی میں قائم گلوبل ٹریڈ ریسرچ انیشی ایٹو (جی ٹی آر آئی) کے اجے سریواستو نے کہا کہ اگر یہ کوششیں کامیاب ہو گئیں تو انڈیا کے پاس ’تقریباً ہر بڑی معیشت‘ کے ساتھ تجارتی انتظامات ہوں گے،
ان کے مطابق سنہ 2025 تجارت کے معاہدوں کے حوالے سے ’سب سے زیادہ سرگرم برسوں میں سے ایک‘ ہے، اور ان معاہدوں کا مقصد واشنگٹن سے رخ موڑنا نہیں بلکہ ’خطرات کو پھیلانا‘ ہے۔
’منڈیوں کی توسیع‘
امریکہ کی جانب سے سخت ٹیرف، جن کا مقصد انڈیا کی روسی تیل کی خریداری روکنا ہے، جسے امریکہ یوکرین پر ماسکو کے حملے کی مالی معاونت قرار دیتا ہے، نے نئی دہلی کو دیگر منڈیوں کی تلاش پر مجبور کیا ہے۔
تجارتی ماہرِ معاشیات بسواجیت دھار نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’میری نظر میں یہ حکمتِ عملی ٹرمپ کے اقدامات کے ردِعمل کے طور پر اپنائی گئی۔ اب یہ انڈیا کے لیے ایک ناگزیر ضرورت بن چکی ہے کہ وہ اپنی برآمدی منڈیوں کو وسعت دے۔‘
بڑے معاہدے محنت طلب شعبوں کے لیے مددگار ثابت ہوں گے جو ٹیرف سے متاثر ہوئے ہیں۔

انڈین ملبوسات کی برآمدی ترقی کونسل کے مطابق برطانیہ کے ساتھ تجارتی معاہدہ آئندہ تین برسوں میں برطانیہ کو ملبوسات کی برآمدات دگنی کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
یورپی یونین کے ساتھ ممکنہ معاہدے سے حاصل ہونے والے فوائد اس سے بھی کہیں زیادہ ہو سکتے ہیں۔
یورپی کمیشن کی صدر ارسولا فان ڈیر لیئن، جن کے جنوری کے اوآخر میں انڈیا کے دورے کی توقع ہے، کہہ چکی ہیں کہ یہ ’دنیا میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑا معاہدہ‘ ہو گا۔
اگرچہ دونوں فریق سنہ 2025 کے اختتام تک مذاکرات مکمل کرنے کی ڈیڈ لائن پوری نہ کر سکے، جس کی وجہ سٹیل اور آٹو ایکسپورٹس سے متعلق تنازعات تھے، تاہم انڈین مذاکرات کار پرامید ہیں۔
فنانشل ایڈوائزری گروپ نومورا کے تجزیہ کاروں کے مطابق گزشتہ مالی سال میں عمان اور انڈیا کے درمیان تجارت 11 ارب ڈالر سے کم رہی، تاہم دسمبر میں مسقط کے ساتھ ہونے والا معاہدہ ’مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ کی وسیع منڈیوں تک رسائی کا دروازہ‘ فراہم کرتا ہے اور ایک وسیع تر ’خلیجی شراکتِ حکمتِ عملی‘ کے لیے نمونہ ہے۔

اسی طرح نیوزی لینڈ کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) سے انڈین برآمدات میں زیادہ اضافہ تو نہیں ہوا، مگر اس سے 20 ارب ڈالر کی غیرملکی سرمایہ کاری حاصل ہوئی، ویزا تک رسائی بڑھی اور واشنگٹن کو یہ پیغام گیا کہ نئی دہلی سمجھوتے کے لیے تیار ہے۔
انڈین وزارتِ تجارت کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ’نیوزی لینڈ کے ساتھ ایف ٹی اے میں سیب جیسی زرعی مصنوعات پر رعایتیں دی گئیں، حالانکہ یہاں کے کسانوں کو خدشات ہو سکتے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’کون کہتا ہے کہ ہم لچک نہیں دکھاتے؟‘
’تمام انڈے ایک ٹوکری میں نہیں‘
نومبر 2025 میں انڈیا کی اشیائے صرف کی برآمدات میں غیرمتوقع طور پر 19 فیصد اضافہ ہوا، جس سے اکتوبر کی کمی کا ازالہ ہوا۔
اس اضافے میں الیکٹرانکس کی ترسیلات نے اہم کردار ادا کیا جو اب بھی امریکی ٹیرف سے مستثنیٰ ہیں، جبکہ سمندری مصنوعات کی برآمدات میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔
تاہم برآمد کنندگان خبردار کرتے ہیں کہ متبادل منڈیاں مکمل طور پر امریکہ کی جگہ نہیں لے سکتیں۔

کلپر کے تجارتی اعداد و شمار کے مطابق دسمبر میں انڈیا کی روسی تیل کی درآمدات تیزی سے کم ہو کر روزانہ 12 لاکھ بیرل رہ گئیں، جو نومبر میں 18 لاکھ بیرل تھیں۔
یہ واضح نہیں کہ آیا یہ کمی ٹرمپ کے لیے کافی ہو گی یا نہیں۔
انجینیئرنگ ایکسپورٹ پروموشن کونسل کے چیئرمین پنکج چڈھا نے کہا کہ سب سے ’بڑی اور منافع بخش‘ منڈی پر انحصار کم کرنے کے لیے تنوع ایک ضرورت بن چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’تمام انڈے ایک ہی ٹوکری میں رکھنا بہتر نہیں ہوتا۔‘












