’الیکشن نہیں لڑوں گا‘، اینکر اقرار الحسن کا ’عوام راج پارٹی‘ کے نام سے سیاسی جماعت بنانے کا اعلان
’الیکشن نہیں لڑوں گا‘، اینکر اقرار الحسن کا ’عوام راج پارٹی‘ کے نام سے سیاسی جماعت بنانے کا اعلان
جمعرات 15 جنوری 2026 16:02
رائے شاہنواز - اردو نیوز، لاہور
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے پریس کلب میں جمعرات کی سہ پہر معروف ٹی وی اینکر اقرار الحسن نے باضابطہ طور میں سیاست میں قدم رکھتے ہوئے اپنی نئی سیاسی جماعت بنانے کا اعلان کر دیا ہے۔
انہوں نے اپنی پارٹی کا اعلان کرنے کے لیے لاہور پریس کلب کا انتخاب کیا۔ دن دو بجے وہ پریس کلب کی حدود میں پہنچے تو ان کے ساتھ دو درجن کے قریب نوجوان لڑکے لڑکیاں بھی تھے جو شناسا چہرے نہیں تھے۔ پوچھنے پر ان کا کہنا تھا کہ وہ ’والنٹیئرز‘ ہیں۔
پریس کانفرنس کی ابتدا میں انہوں نے اپنی پارٹی کا نام اور پرچم دکھایا۔ ان کی پارٹی کا نام ’عوام راج‘ تحریک ہے۔ ان کی پارٹی کا پرچم سرخ اور اس میں چاند پیلا ہے۔
اقرار الحسن نے موجودہ سیاسی جماعتوں جیسے پی ٹی آئی، پی پی پی اور پی ایم ایل این پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ جماعتیں خاندانی وراثت کی طرح چلائی جا رہی ہیں اور عوام کی حقیقی نمائندگی نہیں کرتیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’عوام راج‘ ایک ایسی تحریک اور جمہوری پلیٹ فارم ہو گا جو کسی فرد یا خاندان کی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی مشترکہ ملکیت ہو گی۔ ’جماعت میں انٹرا پارٹی الیکشن کے ذریعے عہدیداران کا انتخاب کیا جائے گا، اور فیصلے مشاورت سے کیے جائیں گے۔ مقصد یہ ہے کہ پاکستان کو شخصیت پرستی سے آزاد کر کے میرٹ اور شفافیت کی بنیاد پر آگے بڑھایا جائے تاکہ حقیقی ’نیا پاکستان‘ بنایا جا سکے۔
اقرار الحسن کی پریس کانفرنس دیکھنے کے لیے پریس کلب کا ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ اور نوجوان صحافی، یوٹیوبرز اور سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس ان سے سوال کرنے کو بے تاب نظر آئے۔
اُن سے تابڑ توڑ سوال کیے گئے۔ جو سوال سب سے زیادہ پوچھے گئے وہ یہ تھے کہ ’کیا آپ کے پیچھے پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ میں ہے؟ کیا پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ کی مرضی کے بغیر کوئی ایسے تحریک چلا سکتا ہے؟ آپ پر کریک ڈاؤن کیوں نہیں ہو رہا۔‘
اقرارالحسن نے کہا ’عوام راج‘ کو بطور پارٹی الیکشن کمیشن میں رجسٹر کیا جائے گا۔ فوٹو: اردو نیوز
معلوم ہوتا تھا کہ اقرار الحسن کو ان سوالوں کا اندازہ تھا اس لیے وہ ان کی بھر پور تیاری کر کے آئے تھے۔ ان کا جواب بڑا دلچسپ تھا ’اسٹیبلشمنٹ کسی ایک شخص کو لانے کے لیے تیار کرتی ہے ۔ جبکہ میرا وعدہ ہے میں نہ تو کوئی الیکشن لڑوں گا اور نہ کوئی عہدہ لوں گا۔ میں صرف نوجوانوں کو پلیٹ فورم مہیا کر رہا ہوں اس سے اسٹیبلیشمنٹ کو کیا دلچسپی ہو سکتی ہے؟‘
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ وہ صحافت نہیں چھوڑ رہے۔ ’میں صحافی ہوں اور صحافی رہوں گا اور اپنا کام جاری رکھوں گا۔‘
ان کی پریس کانفرنس میں جین زی، جین ایلفا اور اے آئی جی اصطلاحات بہت زیادہ تھیں۔ اور وہ بار بار کہہ رہے تھے کہ ’اب بومرز کا وقت گزر گیا وہ نوجوان نسل سے رابطہ قائم رکھنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں اس لیے یہ پلیٹ فارم ضروری ہے۔‘
اقرارالحسن کے مطابق ’عوام راج‘ کو بطور پارٹی الیکشن کمیشن آف پاکستان میں رجسٹر کرانے کا عمل جلد شروع کیا جائے گا۔
ایک سوال کے جواب میں اقرار الحسن نے کہا کہ وہ صحافت نہیں چھوڑ رہے۔ فوٹو: اردو نیوز
خیال رہے کہ الیکشن کمیشن کے قوانین کے مطابق کسی بھی نئی سیاسی جماعت کو اپنا منشور، ارکان کی فہرست اور انتخابی نشان کی درخواست پیش کرنا ہوتی ہے۔ دوسری طرف ای سی پی کے پرانے ریکارڈز میں ’پاکستان عوامی راج‘ نامی ایک جماعت پہلے سے موجود ہے۔
پریس کانفرنس میں ایک اور سوال جو تواتر سے پوچھا گیا وہ تھا کہ اس پارٹی کی فنڈنگ کیسے کریں گے تو اقرار الحسن کا جواب تھا کہ ’پارٹی فنڈنگ کے دنیا میں ایک ہزار طریقے آ گئے ہیں، اب یہ مسلہ نہیں رہا اور ابھی میری جماعت کو فنڈنگ کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمارا پارٹی کے اندر نظم ونسق، تنظم سازی، پارٹی چلانے کے ’معاملات اے آئی کے ذریعے ترتیب دیے جائیں گے۔‘