مارشل لا لگانے کا الزام، جنوبی کوریا کے سابق صدر یون سُک کو پانچ برس کی سزا
مارشل لا لگانے کا الزام، جنوبی کوریا کے سابق صدر یون سُک کو پانچ برس کی سزا
جمعہ 16 جنوری 2026 11:37
یون سوک یول نے دسمبر 2024 میں ملک میں ’مختصر مدت‘ کے لیے مارشل لا لگایا تھا (فوٹو: روئٹرز)
جنوبی کوریا کی عدالت نے سابق صدر یون سُک یول کو ملک میں مارشل لا لگانے کے الزام میں پانچ برس کی قید سنا دی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق یہ یون سُک یول کے خلاف درج آٹھ فوجداری مقدمات میں سے سامنے آنے والا پہلا فیصلہ ہے جو ان پر 2024 کے اواخر میں ایک حکم نامہ جاری کرنے اور دیگر الزامات سے متعلق ہیں۔
ان کے خلاف سب سے بڑا الزام یہ ہے کہ انہوں نے مارشل لا کے نفاذ کے لیے بغاوت کو تحریک دی، جس کی ممکنہ سزا سزائے موت ہے۔
سیول کی سینٹرل ڈسٹرکٹ کورٹ نے جمعے کو فیصلہ سنایا اور اس میں دیگر الزامات بھی شامل ہیں جیسا کہ انہوں نے حراست میں لیے جانے سے متعلق حکام کے احکامات ماننے سے انکار کیا۔
یون سُک یول کی جانب سے ابھی تک فیصلے کے حوالے سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا مگر جب ایک آزاد کونسل نے اس سے قبل ان کو 10 سال کی سزا دیے جانے کا مطالبہ کیا تو ان کی قانونی ٹیم نے ان پر الزام لگایا کہ یہ سیاسی طور پر عائد کیے گئے الزامات ہیں اور ان میں ’ضرورت سے زیادہ‘ سزا کے مطالبے کی قانونی بنیادیں موجود نہیں ہیں۔
دسمبر 2024 میں سابق صدر کے حکم نامے کے بعد ملک میں چند گھنٹے کے لیے مارشل لا نافذ رہا تھا، جس پر عوامی سطح پر بہت احتجاج سامنے آیا تھا اور انہیں معزول کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس کے بعد یون سُک یول کے مواخذے کی تحریک لائی گئی جو بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئی تھی اور ان کو عہدے سے ہٹا کر گرفتار کر لیا گیا تھا۔
سابق صدر کے اقدام پر جنوبی کوریا میں عوامی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا تھا (فوٹو: روئٹرز)
دوسری جانب سابق صدر کا کہنا ہے کہ وہ ملک کو طویل مدت کے لیے فوجی حکمرانی کے تحت لانے کا ارادہ نہیں رکھتے تھے۔
ان کے مطابق اس حکم نامے کا مقصد لبرلز کے کنٹرول میں چلنے والی پارلیمان کے خطرے سے آگاہ کرنا تھا جو ان کے ایجنڈے کی راہ میں رکاوٹ تھی۔
تاہم دوسری جانب تحقیق کرنے والوں کا خیال ہے کہ یون کے حکم نامے کا مقصد اپنی حکمرانی کو طول دینے کی کوشش تھی اور ان پر بغاوت، اختیار کے غلط استعمال اور دیگر مجرمانہ سرگرمیوں کے الزامات ہیں۔