کے ایس ریلیف کی جانب سے یمن میں ملیریا سے بچاؤ کے لیے مچھر دانیاں تقسیم
مہاجرین نے اپنے وطن محفوظ واپسی کی سہولت فراہم کرنے پر سعودی عرب اور کے ایس ریلیف کا شکریہ ادا کیا (فوٹو: ایس پی اے)
سعودی امدادی ایجنسی شاہ سلمان ہیومینٹیرین ایڈ اینڈ ریلیف سینٹر (کے ایس ریلیف سینٹر) نے یمن بھر میں 10 لاکھ کیڑے مار ادویات سے والی مچھر دانیاں تقسیم کرنے کی ایک ملک گیر مہم کا آغاز کیا ہے اور اس کے ساتھ ہی 155 صومالی مہاجرین کو رضاکارانہ طور پر وطن واپسی کی سہولت بھی فراہم کی ہے۔
سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق کے ایس ریلیف کا کہنا ہے کہ مچھر دانیوں کی مہم کو عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور یمنز نیشنل ملیریا کنٹرول پروگرام کے تعاون سے عدن میں شروع کیا گیا ہے جس کا مقصد ملیریا سے متاثر 20 لاکھ افراد کو بچانا ہے۔
اس مہم میں حاملہ خواتین، بچوں اور یمنی گورنریٹس میں رہائش پذیر اندرون ملک بے گھر ہونے والے افراد کو ترجیح دی جائے گی۔
یمن کے وزیرِ برائے صحت عامہ و آبادی، ڈاکٹر قاسم نے اس اقدام کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ حفاظتی امداد متاثرہ اور ضرورت مند کمیونٹیز میں ملیریا، مچھروں اور دیگر حشرات سے پھیلنے والی بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنے میں انتہائی مددگار ثابت ہوگی۔
انہوں نے کے ایس ریلیف کے ذریعے یمن کے شعبۂ صحت کے لیے مسلسل تعاون پر سعودی عرب کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس مہم سے انسانی زندگیوں کی حفاظت اور بیماریوں سے بچاؤ کی کوششوں کو تقویت ملے گی۔ آنے والے دنوں میں مچھر دانیوں کی یہ تقسیم اندرون ملک بے گھر ہونے والے افراد کے 626 کیمپوں کا احاطہ کرے گی۔
دوسری جانب ایک اور انسانی امدادی آپریشن میں کے ایس ریلیف نے اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کے ساتھ شراکت داری سے نافذ العمل ایک تحفظاتی منصوبے کے تحت، عدن انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ذریعے یمن سے 155 صومالی مہاجرین کو ان کے وطن واپس پہنچایا۔
مہاجرین نے اپنے وطن محفوظ واپسی کی سہولت فراہم کرنے پر سعودی عرب اور کے ایس ریلیف کا شکریہ ادا کیا۔

ایس پی اے کے مطابق یہ وطن واپسی یمن میں کے ایس ریلیف کے اس بڑے پیمانے پر انسانی امدادی پروگرام کا حصہ ہے جس کے تحت سعودی عرب سالہا سال کے تنازعات اور بے گھری سے متاثرہ آبادیوں کو امدادی سہولیات فراہم کرنا جاری رکھے ہوئے ہے۔
سعودی عرب کے ایس ریلیف کے ذریعے یمن کو سب سے زیادہ انسانی امداد دینے والے ممالک میں شامل رہا ہے جو اقوام متحدہ کے اداروں اور بین الاقوامی تنظیموں کے تعاون سے صحت، غذائی تحفظ، پناہ گاہوں، پانی و سینی ٹیشن، تعلیم اور مہاجرین کے تحفظ پر محیط منصوبوں کی مسلسل حمایت و معاونت کر رہا ہے۔
