Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جرمنی: منونخ میں شہریوں پر گاڑی چڑھانے اور ماں بیٹی کو ہلاک کرنے پر افغان شہری کو عمر قید کی سزا

مجرم نے جان بوجھ کر 1400 افراد پر مشتمل ٹریڈ یونین کے جلوس پر گاڑی چڑھائی (فوٹو: اے ایف پی)
جرمنی کی ایک عدالت نے جمعرات کے روز گزشتہ سال میونخ میں شہریوں پر کار چڑھا دینے میں ملوث ایک افغان شہری کو عمر قید کی سزا سنا دی۔ اس حملے میں ایک دو سالہ بچی اور اس کی ماں جان سے گئی تھیں جبکہ درجنوں افراد زخمی ہوئے تھے۔
میونخ کی عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ قرار دیا کہ یہ جرم ’غیر معمولی طور پر سنگین‘ ہے، جس کے باعث 25 سالہ مجرم کے لیے مستقبل میں رہائی حاصل کرنا نہایت مشکل ہو جائے گا، جس کا نام صرف فرہاد این بتایا گیا ہے۔
مجرم کے خلاف جنوری سے مقدمہ چل رہا تھا، جس میں اس پر الزام تھا کہ اس نے جان بوجھ کر 1400 افراد پر مشتمل ٹریڈ یونین کے جلوس پر گاڑی چڑھا دی۔ وقوعہ کے وقت اس کی عمر 24 سال تھی۔
استغاثہ نے عدالت سے مطالبہ کیا تھا کہ مجرم کو عمر قید کی سزا دینے کے ساتھ ساتھ اس پر اضافی چارجز بھی عائد کی جائیں تاکہ اس کی قبل از وقت رہائی کے امکانات مزید کم ہو جائیں۔
یہ حملہ گزشتہ سال کے عام انتخابات سے قبل غیر ملکی شہریوں کی جانب سے کیے گئے متعدد حملوں میں سے ایک تھا، جس نے امیگریشن اور سکیورٹی کے حوالے سے بحث کو مزید بھڑکا دیا تھا۔
فرہاد این پر قتل کے دو الزامات کے علاوہ ابتدائی طور پر 44 افراد کے قتل کی کوشش کے مقدمات بھی قائم کیے گئے تھے، تاہم بعد میں ان میں سے نصف الزامات کو جسمانی نقصان پہنچانے کے مقدمات میں تبدیل کر دیا گیا، جن میں سے 19 سنگین نوعیت کے تھے۔
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب شہر میونخ سکیورٹی کانفرنس کی میزبانی کی تیاری کر رہا تھا، جو سیاست اور دفاع کے شعبوں کی اعلیٰ شخصیات کا ایک اہم اجتماع ہوتا ہے۔
ایک منی کوپر گاڑی کو مظاہرے کے شرکا پر چڑھایا گیا، جس نے ایک 37 سالہ خاتون اور اس کی کمسن بیٹی کو تقریباً 10 میٹر دور اچھال دیا۔ دونوں کو سر پر شدید چوٹیں آئیں اور وہ چند ہی دن بعد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسیں۔
استغاثہ کے مطابق ایک عینی شاہد نے بتایا کہ لوگ ’دائیں بائیں اس طرح اُچھل رہے تھے جیسے بولنگ ایلے میں پنیں گرتی ہیں۔‘
چارج شیٹ کے مطابق گاڑی 23 میٹر (75 فٹ) چلنے کے بعد اس لیے رُک گئی کیونکہ اس کے اگلے پہیے زمین سے اٹھ گئے تھے، اور گاڑی کے آگے اور نیچے لوگ زخمی پڑے تھے۔

آن لائن انتہاپسندی

استغاثہ کا کہنا ہے کہ فرہاد این نے ’مذہبی محرک‘ کے تحت یہ حملہ کیا اور شہریوں پر گاڑی چڑھانے کے بعد اس نے ’اللہ اکبر‘ کا نعرہ بھی بلند کیا۔
تاہم یہ خیال نہیں کیا جاتا کہ اس کا کسی منظم جہادی تنظیم یا داعش سے کوئی تعلق تھا۔

میونخ کی عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ قرار دیا کہ یہ جرم ’غیر معمولی طور پر سنگین‘ ہے (فوٹو: روئٹرز)

وکلائے صفائی نے عدالت سے درخواست کی کہ مجرم کو جیل کی بجائے نفسیاتی بحالی کے مرکز میں بھیجا جائے، لیکن عدالت کے مقرر کردہ ماہرین نے قرار دیا کہ مجرم کے ذہنی مسائل اس کے جرم کی شدت کو کم نہیں کرتے۔
فرہاد این  سال 2016 میں 15 سال کی عمر میں بغیر سرپرست کے جرمنی پہنچا تھا۔
اس کی پناہ کی درخواست مسترد کر دی گئی تھی، لیکن اسے ملک میں رہنے اور کام کرنے کی اجازت مل گئی تھی۔
پولیس کے مطابق وہ سکیورٹی کے شعبے میں کام کرتا تھا اور فٹنس ٹریننگ اور باڈی بلڈنگ میں خاصی دلچسپی رکھتا تھا۔
یہ حملہ فروری 2025 کے عام انتخابات سے چند روز قبل پیش آیا تھا، جن میں انتہائی دائیں بازو کی جماعت آلٹرنیٹو فار جرمنی نے 20 فیصد سے زائد ووٹ لے کر اپنی تاریخ کی بہترین کارکردگی دکھائی۔
مرکزی دائیں بازو کی جماعت سی ڈی یو/ سی ایس یو پہلے نمبر پر آئیں اور اس کے رہنما فریڈرک مرز چانسلر بنے، جنہوں نے آلٹرنیٹیو فار جرمنی کے بڑھتے اثر کو روکنے کے لیے امیگریشن پر سخت مؤقف اپنانے کا وعدہ کیا۔
تاہم اس کے بعد سے سی ڈی یو/ سی ایس یو کی مقبولیت میں نمایاں کمی آئی ہے جبکہ آلٹرنیٹو فار جرمنی نے رائے عامہ کے جائزوں میں مسلسل برتری حاصل کی ہے۔

شیئر: