Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’ہم اب کہاں جائیں؟‘ برطانیہ سے فرانس بے دخل کیے گئے تارکینِ وطن کا المیہ

برطانیہ اور فرانس کے درمیان موجود معاہدہ انگلینڈ کے جنوبی ساحل تک خطرناک سفر کرنے والے تارکین کی تعداد کو محدود کرتا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
سابق افغان فوجی حیدری حمیداللہ نے اپنے خاندان کے بہتر مستقبل کی امید میں انگلش چینل عبور کرنے کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈالی، مگر چند ہی ہفتوں بعد برطانوی حکام نے انہیں واپس فرانس بھیج دیا۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق، 28 برس کے حمیداللہ، جن کے گول مٹول رخسار اور سیاہ گھنے بال ہیں، کہتے ہیں کہ ’میرے جیسے لوگوں کے لیے دنیا میں کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں ہم محفوظ زندگی گزار سکیں۔‘ اُن کی اہلیہ اور دو بچے پاکستان میں اُن کے منتظر ہیں جو اس سال بالترتیب آٹھ اور دس برس کے ہو جائیں گے۔  وہ سوال کرتے ہیں کہ ’ہم اب کہاں جائیں؟‘
وہ ان 1,087 افراد میں شامل ہیں جنہیں برطانیہ نے زبردستی فرانس واپس بھیجا ہے، یہ اقدام برطانیہ اور فرانس کے ’ون اِن، ون آؤٹ‘ معاہدے کے تحت کیا گیا۔
یہ معاہدہ گزشتہ سال 6 اگست کو نافذ ہوا جس میں بعدازاں ستمبر کے آخر تک توسیع کر دی گئی، جس کے مطابق، برطانیہ ایسے تارکین کی درخواستیں مسترد کر سکتا ہے جو غیر قانونی طور پر انگلش چینل عبور کر کے برطانیہ پہنچیں اور پناہ کے اہل تصور نہ کیے جائیں۔
اس معاہدے کے تحت لندن فرانس سے اتنی ہی تعداد میں ایسے تارکین کو قبول کرتا ہے جنہوں نے چھوٹی کشتیوں کے ذریعے خطرناک راستہ اختیار نہیں کیا ہوتا۔
برطانیہ نے جون کے اختتام تک جبری واپسیوں کے بدلے میں 1,117 دیگر تارکین کو داخلے کی اجازت دی، جنہوں نے فرانس میں درخواست دی تھی۔
برطانیہ اور فرانس کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ انسانی سمگلنگ کے خلاف کارروائی میں مدد فراہم کرتا ہے اور انگلینڈ کے جنوبی ساحل تک خطرناک سفر کرنے والے تارکین کی تعداد کو محدود کرتا ہے۔
گزشتہ سال 41 ہزار سے زائد تارکینِ وطن برطانیہ پہنچے، جو سال 2018 میں ریکارڈ کا اندراج شروع ہونے کے بعد دوسرا سب سے بڑا سالانہ ہندسہ ہے۔
تاہم، دونوں ممالک کی 20 سے زائد فلاحی تنظیموں کا کہنا ہے کہ فرانس اور برطانیہ کا معاہدہ ’اُن لوگوں کو مزید مشکلات کا شکار کرتا ہے جو پہلے ہی جنگ، تشدد، ظلم و ستم، نسانی سمگلنگ اور خطرناک سمندری سفر سے بچ کر آئے ہوتے ہیں۔‘
’ہم کھاتے اور انتظار کرتے رہے‘
حمیداللہ نے پیرس میں اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’اگست 2021 میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد انہیں اپنے خاندان کے ساتھ افغانستان چھوڑ کر پڑوسی ملک پاکستان جانا پڑا۔‘
بعد ازاں وہ اکیلے پاکستان سے روانہ ہوئے اور یورپ پہنچنے کے لیے یونان اور پھر بلغاریہ کے راستے درجن بھر کوششیں کیں، جن میں وہ بالآخر کامیاب ہو ہی گئے۔

گزشتہ سال 41 ہزار سے زائد تارکینِ وطن برطانیہ پہنچے، جو سال 2018 کے بعد دوسرا سب سے بڑا سالانہ ہندسہ ہے (فوٹو: روئٹرز)

جون 2022 میں آسٹریا میں پولیس نے انہیں روک لیا، جس کے بعد ان کی پناہ کی درخواست دو مرتبہ مسترد کر دی گئی۔
انہوں نے فروری میں یورپی یونین میں تحفظ کے لیے تمام قانونی اپیلیں مسترد ہونے کے بعد یورپی یونین سے باہر قسمت آزمانے یعنی فرانس سے برطانیہ تک چینل عبور کرنے کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے فرانس کے بندرگاہی شہر ڈنکرک میں انسانی سمگلروں کو 1500 یورو (تقریباً 1700 ڈالر) ادا کیے تاکہ ایک چھوٹی کشتی (ڈنگی) کے ذریعے دنیا کی مصروف ترین بحری گزرگاہوں میں سے ایک عبور کر کے انگلینڈ پہنچ سکیں۔ فرانسیسی پولیس نے ان کی پہلی ایسی کوشش ناکام بنا دی۔
تاہم اپریل میں، آٹھ گھنٹے ساحل پر چھپ کر انتظار کرنے اور پھر پانی میں کھڑے رہنے کے بعد وہ اور دیگر افراد ایک چھوٹی کشتی میں خاموشی سے سوار ہو گئے اور سمندر پار روانہ ہو گئے۔
وہ جب برطانوی شہر ڈوور پہنچے تو حکام نے خواتین اور بچوں کو ہوٹلوں میں بھیج دیا، جبکہ اُن جیسے اکیلے سفر کرنے والے مردوں کو گرفتار کر لیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ’مجھ سے پوچھ گچھ کرنے والے حکام نے کہا کہ مجھے یہاں نہیں ہونا چاہیے۔‘
بعد ازاں انہیں لندن کے قریب ہیتھرو ایئرپورٹ کے نزدیک ایک حراستی مرکز میں تقریباً 350 دیگر افراد کے ساتھ رکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم سب بہت زیادہ افسردہ تھے۔‘
ان کے مطابق، ہم صرف کھاتے، انتظار کرتے اور کچھ نہیں کرتے تھے۔ وہاں صرف ایک ٹی وی تھا اور اُس پر بھی ایک ہی چینل نشر ہوتا تھا۔
حمیداللہ نے بتایا کہ انہیں ایک وکیل فراہم کیا گیا جس سے ان کی صرف 30 منٹ بات ہوئی۔
لیکن 51 دن بعد انہیں واپس فرانس بھیج دیا گیا، اور اب انہیں خدشہ ہے کہ انہیں جلد آسٹریا بھی بھیجا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کوئی جرم نہیں کیا۔
انہوں نے طالبان کے خلاف برسرِپیکار رہنے والی مغربی افواج کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نے آپ کی افواج کے شانہ بشانہ لڑائی کی۔‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’میں مایوس ہو چکا ہوں، میں مکمل طور پر مایوس ہو چکا ہوں۔‘
’خود کو ایک شے محسوس کرتا ہوں‘
یمنی بھائیوں یونس (33 سال) اور یاسین (24 سال) کا کہنا ہے کہ ’وہ سال 2023 میں حوثی باغیوں کی قید سے فرار ہوئے، جنہوں نے آٹھ سال قبل ان کے ملک کے دارالحکومت پر قبضہ کر لیا تھا۔‘
یونس نے بتایا کہ دونوں بھائی آنکھوں کی ایک موروثی بیماری میں مبتلا ہیں اور انتقامی کارروائی کے خوف سے اپنا خاندانی نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے، اور وہ یورپ آنے سے قبل ڈیڑھ سال تک مصر میں رہے۔
ان کے مطابق، فرانس پہنچنے کے بعد انہیں منشیات فروشوں کی جانب سے جان سے مارنے کی دھمکیاں ملیں، جس کے بعد انہوں نے اپنی بہن سے ملنے کے لیے چینل عبور کرنے کا فیصلہ کیا، جو برطانوی شہریت رکھتی ہیں۔

سابق افغان فوجی حیدری حمیداللہ کو بھی زبردستی برطانیہ سے فرانس بے دخل کیا گیا (فوٹو: گیٹی)

ابتدا میں جب تقریباً 60 مسافروں پر مشتمل ان کی کشتی اپریل میں 15 گھنٹے کے سفر کے بعد برطانیہ پہنچی، تو انہیں ایک استقبالیہ مرکز لے جایا گیا جہاں انہیں کیک اور مالٹے کا جوس دیا گیا۔ اس کے بعد ان سے تفتیش کی گئی۔
یونس نے کہا کہ ’وزارتِ داخلہ کے ایک اہلکار نے مجھے بتایا کہ میں ایک مجرم ہوں اور غیر قانونی طور پر آیا ہوں۔‘
میں نے اسے بتایا کہ ’میں نے ویزا حاصل کرنے کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہو سکا، اور میرے پاس کوئی اور راستہ نہیں تھا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ان کی بہن اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود ان کی کوئی مدد نہ کر سکیں، اور کئی ہفتوں کی حراست کے بعد انہیں مئی کے آخر میں ہوائی جہاز کے ذریعے واپس فرانس بھیج دیا گیا۔‘
وہ وسطی فرانس میں ایک پناہ گزین مرکز میں مقیم اب یہ انتظار کر رہے ہیں کہ آیا انہیں فرانس میں رہائش رکھنے کی اجازت ملے گی یا نہیں۔ انہوں نے وہاں سے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں بہت زیادہ افسردہ ہوں۔ میں خود کو کسی آبجیکٹ کی طرح محسوس کر رہا ہوں۔‘

شیئر: