انڈیا میں سابق میگزین ایڈیٹر ریپ کیس میں مجرم قرار، ’لڑکی نے حق کے لیے آواز بلند کی‘
گوا حکومت نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو ممبئی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا (فوٹو: اے ایف پی)
انڈیا کی ایک عدالت نے تحقیقاتی نیوز میگزین کے سابق ایڈیٹر کو ایک جونیئر ساتھی کے ساتھ ریپ کرنے کے جرم میں سزا سنائی اور ان کی بریت کو کالعدم قرار دے دیا گیا۔ یہ مقدمہ پورے ملک میں توجہ کا مرکز بنا تھا۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق63 سالہ ترون تیج پال، جو تہلکہ میگزین کے بانی اور سابق ایڈیٹر ہیں، پر الزام تھا کہ انہوں نے نومبر 2013 میں گوا کے ایک فائیو سٹار ہوٹل کی لفٹ میں ایک خاتون صحافی کو ریپ کیا۔ انہیں گرفتار کیا گیا اور سات ماہ جیل میں رکھا گیا، بعد ازاں سپریم کورٹ نے انہیں ضمانت دی۔
2021 میں گوا کی ایک ٹرائل کورٹ نے تیج پال کو ریپ، جنسی ہراسانی اور غلط طور پر روکے رکھنے کے الزامات سے بری کر دیا تھا۔
گوا حکومت نے اس فیصلے کو ممبئی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا، جس نے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے جمعرات کو تیج پال کو مجرم ٹھہرایا۔
گوا پولیس کی تحقیقاتی افسر سونیتا ساونت نے فیصلے کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ ’ملزم کو مجرم قرار دیا گیا ہے۔ یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جہاں ایک لڑکی نے اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کی، اس لیے یہ فیصلہ ان تمام خواتین کے لیے بہت اہم ہے جو کسی بھی شعبے میں کام کر رہی ہیں۔‘
انہیں جمعرات کو ہی سزا سنائی جائے گی۔ تیج پال نے الزامات کی تردید کی ہے اور وہ اس فیصلے کے خلاف اعلیٰ عدالت میں اپیل کر سکتے ہیں۔
یہ مقدمہ اس وقت سامنے آیا جب انڈیا میں جنسی زیادتی کے مقدمات کے حوالے سے حکومتی کارکردگی شدید تنقید کی زد میں تھی، خاص طور پر دسمبر 2012 میں نئی دہلی کی بس میں 23 سالہ طالبہ کے اجتماعی ریپ اور قتل کے بعد۔
اس واقعے نے ملک گیر احتجاج اور عالمی سطح پر غم و غصہ کو جنم دیا اور حکومت کو ریپ قوانین سخت کرنے پر مجبور کیا۔
تیج پال کا مقدمہ تہلکہ میگزین کی ساکھ اور اعتبار کے لیے شدید نقصان دہ ثابت ہوا، کیونکہ یہ میگزین تاریخی طور پر خواتین کے حقوق اور سماجی انصاف کا علمبردار رہا تھا۔
