غزہ کا انتظام سنبھالنے والے فلسطینی ٹیکنوکریٹس کا قاہرہ میں پہلا اجلاس
حماس کے سینئر رہنما باسم نعیم نے کہا کہ ‘اب گیند ثالثوں، امریکی ضامن اور عالمی برادری کے کورٹ میں ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
جنگ کے بعد غزہ کا انتظام سنبھالنے والی فلسطینی ٹیکنوکریٹس کی کمیٹی نے جمعے کے روز مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں اپنا پہلا اجلاس منعقد کیا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ کمیٹی بدھ کے روز اس وقت تشکیل دی گئی تھی جب امریکہ کی ثالثی میں طے پانے والے غزہ جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کا آغاز ہوا۔ اس کمیٹی میں 15 ٹیکنوکریٹس شامل ہیں جنہیں فلسطینی علاقے میں روزمرہ امور چلانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
یہ اجلاس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد ہوا جس میں انہوں نے غزہ کے لیے ایک ’بورڈ آف پیس‘کے قیام کا اعلان کیا، جو امریکہ کی حمایت سے ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کا ایک اہم جزو ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ بورڈ کے ارکان کا اعلان جلد کیا جائے گا اور وہ خود اس کی صدارت کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ یہ اب تک کا سب سے عظیم اور باوقار بورڈ ہے جو کسی بھی وقت، کسی بھی جگہ تشکیل دیا گیا ہو‘
امن منصوبے میں غزہ میں سکیورٹی یقینی بنانے اور جانچ پڑتال کے بعد منتخب فلسطینی پولیس یونٹس کی تربیت کے لیے ایک بین الاقوامی استحکام فورس کی تعیناتی بھی شامل ہے۔
حماس کے سینئر رہنما باسم نعیم نے کہا کہ ‘اب گیند ثالثوں، امریکی ضامن اور عالمی برادری کے کورٹ میں ہے کہ وہ اس کمیٹی کو بااختیار بنائیں۔‘
امریکہ کی حمایت یافتہ غزہ امن منصوبہ پہلی بار 10 اکتوبر کو نافذ ہوا، جس کے نتیجے میں حماس کے زیرِ حراست تمام یرغمالیوں کی واپسی ممکن ہوئی اور محصور علاقے میں فلسطینی مزاحمتی گروہ اور اسرائیل کے درمیان لڑائی کا خاتمہ ہوا۔
منصوبے کا دوسرا مرحلہ اب جاری ہے، تاہم امدادی سامان کی کمی اور تشدد کے مسلسل الزامات کی وجہ سے صورتِ حال غیر واضح ہے۔ جنگ بندی کے آغاز کے بعد سے اسرائیلی افواج 451 فلسطینیوں کو ہلاک کر چکی ہیں۔
