Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

25 فیصد اضافے کے بعد خام تیل کی قیمت 119 ڈالر فی بیرل، مزید بڑھنے کا امکان

آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی سطح پر تیل کی سپلائی بری طرح متاثر ہوئی ہے (فائل فوٹو: سبق)
پیر کے روز تیل کی قیمتیں 2022 کے وسط کے بعد سے بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں کیونکہ چند بڑے پیداواری ذرائع نے سپلائی میں کمی کی جبکہ ایران کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کے جنگ کی وجہ سے ترسیل کے نظام میں طویل رکاوٹ کے خدشات بھی بڑھے ہیں۔
عرب نیوز اور برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پیر کو ابتدائی تجارت کے دوران برینٹ کروڈ فیوچرز تیل کی قیمت میں 29 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا اور مجموعی قیمت 119 اعشاریہ 50 امریکہ ڈالر فی بیرل تک پہنچی جبکہ یو ایس ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت 31 اعشاریہ چار فیصد تک بڑھی اور 119 اعشاریہ 48 ڈالر فی بیرل تک گئی۔
اس سے قبل پچھلے ہفتے کے دوران برینٹ کی قیمت میں 27 فیصد اضافہ ہوا جبکہ ڈبلیو ٹی آئی کے نرخ 35 اعشاریہ چھ فیصد تک بڑھے تھے۔
سعودی عرب کے وقت کے مطابق صبح 10 بج کر 48 منٹ تک قیمتوں میں کچھ کمی دیکھی گئی۔ بیرنٹ میں 14 اعشاریہ 17 کمی کے بعد فی بیرل قیمت ایک سو پانچ 105 اعشاریہ 80 ڈالر پر آئی جبکہ ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت 100 اعشاریہ 80 ڈالر تک پہنچی۔
موجودہ صورت حال میں توانائی کے ذرائع کی مارکیٹس خاص طور پر پریشانی سے دوچار ہیں کیونکہ آبنائے ہرمز کے راستے سپلائی بند ہے اور عالمی سطح پر ہونے والی تیل کا پانچ فیصد وہاں سے ہو کر گزرتا ہے۔
ٹینکرز کی نقل و حمل میں پڑنے والی رکاوٹوں اور سکیورٹی کے خطرات سے پہلے ہی سپلائی کی رفتار کو سست کر رکھا ہے، جس سے ایشیائی خریدار خصوصاً وہ جو مشرق وسطیٰ کے خام تیل پر انحصار کرتے ہیں، کو مشکلات کا سامنا ہے۔
او سی بی سی سنگاپور میں مینجنگ ڈائریکٹر واسو مینن کا کہنا ہے کہ ’جب تک آبنائے ہرمز کے راستے تیل کی سپلائی جلد معمول پر نہیں آتی اور علاقائی سطح پر موجود کشیدگی میں کمی نہیں آتی تو قیمتوں کے مزید اوپر جانے کا امکان برقرار رہنے کی توقع ہے۔‘
عراق اور کویت کی جانب سے تیل کی پیداوار میں کٹوتی شروع کر دی گئی ہے جس سے قطر کی پہلے سے ہی کمی کا شکار مائع گیس کی پیداوار میں مزید کمی آئی ہے کیونکہ جنگ کی وجہ سے مشرق وسطیٰ سے ترسیل کا سلسلہ رک گیا تھا۔
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کو بھی تیل کا ذخیرہ کم ہونے پر پیداوار میں کمی لانا پڑے گی۔
قیمتوں میں اضافے کی وجہ آیت اللہ خامنہ ای کی جگہ ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کا ایران کا سپریم لیڈر بننا ہے جس سے ایسا اشارہ ملتا ہے کہ تہران میں موجود سخت گیر رہنما اسرائیل اور امریکہ کے خلاف جنگ کو آگے بڑھائیں گے۔
کموڈٹی تجزیہ کار سیٹورو یوشیدا کا کہنا ہے کہ ’آیت اللہ خامنہ ای کی جگہ ان کے بیٹے کی نئے رہنما کے طور پر تقرری سے امریکی صدر کا ایران میں حکومت تبدیل کرنے کا ہدف مزید مشکل ہو گیا ہے۔‘

شیئر: