Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران میں مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا سپریم لیڈر مقرر کرنے کا اعلان

مجتبی خامنہ ای کو فیصلہ کن ووٹ کی بنیاد ہر سپریم لیڈر منتخب کیا گیا ہے۔
ایران کی ایکسپرٹس کی اسمبلی( مجلسِ خبرگان رہبری) نے پیر کو آیت اللہ علی خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا سپریم لیڈر مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق اس فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ تنازع کے ایک ہفتے بعد بھی ہارڈ لائنر، تہران میں مضبوطی سے حکمرانی کر رہے ہیں۔
اسمبلی نے تہران کے وقت کے مطابق نصف شب کے بعد جاری بیان میں کہا’ فیصلہ کن ووٹ کے ذریعے ایکسپرٹس کی اسمبلی نے آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کو اسلامی جمہوریہ ایران کا تیسرا سپریم لیڈر منتخب کیا ہے۔‘
یہ عہدہ مجتبیٰ خامنہ ای کو ریاست کے تمام معاملات میں حتمی رائے کا اختیار دیتا ہے۔
اسمبلی کا بیان ایران کے سرکاری ٹی وی پر پڑھ کر سنایا گیا جس میں کہا گیا کہ ’جنگی حالات اور دفاتر پر بمباری کے باوجود اسلامی نظام کی قیادت کے انتخاب اور تعارف کے عمل میں ایک لمحے کی تاخیر نہیں ہوئی۔‘
مجتبیٰ خامنہ ای کی تقرری ممکنہ طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ناراضی کا باعث بنے گی جہنوں نے اتوار کو کہا تھا کہ خامنہ‌ای کے بیٹے مجتبیٰ، اُن کے لیے ’ناقابلِ قبول‘ انتخاب ہیں۔
اسرائیل نے نئے سپریم لیڈر کے اعلان سے قبل دھمکی دی تھی کہ جو بھی منتخب ہوگا اسے نشانہ بنایا جائے گا۔
ایکس پر فارسی میں ایک پوسٹ میں اسرائیلی فوج نے خبردار کیا تھا کہ وہ ہر اُس شخص کا پیچھا کرے گی جو آیت اللہ علی خامنہ‌ای کے جانشین کو مقرر کرنے کی کوشش کرے یعنی اُس روحانی کونسل کا حوالہ دیتے ہوئے جو اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے انتخاب کی ذمہ دار ہے۔
سپریم لیڈر کا انتخاب کیسے کیا جاتا ہے
 ایرانی قانون کے تحت ’اسمبلی آف ایکسپرٹس‘ (خبرگانِ رہبری) نامی 88 رکنی پینل نئے سپریم لیڈر کا انتخاب کرتا ہے۔
یہ پینل مکمل طور پر شیعہ علماء پر مشتمل ہوتا ہے جنہیں ہر آٹھ برس بعد عوامی ووٹوں سے منتخب کیا جاتا ہے تاہم ان کی امیدواری کی منظوری ’گارڈین کونسل‘ دیتی ہے۔
یہ ادارہ امیدواروں کو نااہل قرار دینے کے حوالے سے شہرت رکھتا ہے۔ اس کی مثال سابق صدر حسن روحانی ہیں جنہیں مارچ 2024 میں اس اسمبلی کے انتخاب لڑنے سے روک دیا گیا تھا۔
 سپریم لیڈر کے وسیع اختیارات
سپریم لیڈر ایران کے پیچیدہ اقتدار کی تقسیم والے مذہبی نظام کا محور ہوتا ہے اور تمام ریاستی امور پر حتمی فیصلے کا اختیار رکھتا ہے۔ وہ ملک کی افواج اور طاقتور پاسدارانِ انقلاب کا کمانڈر انچیف بھی ہوتا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب وہ نیم فوجی قوت ہے جسے امریکہ نے سنہ 2019 میں دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا۔ یہ فورس مشرق وسطیٰ میں ’مزاحمتی بلاک‘ کی قیادت کرتی ہے اور ایران کے معاشی اثاثوں پر بھی گہرا اثر و رسوخ رکھتی ہے۔
نئے سپریم لیڈر مجتبی خامنہ ای کون ہیں؟
مجتبیٰ خامنہ ای آٹھ ستمبر 1969 کو ایرانی صوبے مشرقی آذربائیجان کے علاقے خامنہ میں پیدا ہوئے تھے۔ اسی مناسبت سے ان کے خاندان کو خامنائی یا خامنہ ای کہا جاتا ہے۔  
17 سال کی عمر میں، انہوں نے مختصر عرصے کے لیے ایران، عراق جنگ میں خدمات انجام دیں۔
انہوں نے 1990 کی دہائی کے اواخر میں ہی عوام کی توجہ حاصل کرنا شروع کی، جس وقت تک ان کے والد کی بطور سپریم لیڈر عمل داری مضبوطی سے قائم ہو چکی تھی۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے قم سے دینی تعلیم حاصل کی ۔ انہوں نے اپنا زیادہ تر کریئر عوامی عہدوں سے الگ لیکن اقتدار کے قریب اپنے والد سپریم لیڈر کے دفتر میں کام کرتے ہوئے گزارا ہے۔ 
وہ ایران کی سکیورٹی فورسز اور وسیع کاروباری نیٹ ورکس کے اندر اثر ورسوخ رکھتے ہیں۔

 

شیئر: