Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ٹیکنوکریٹ کمیٹی کی تشکیل خوش آئند، غزہ میں جنگ بندی کو برقرار رکھے گی: حماس

فلسطینی تنظیم حماس کے ایک اعلٰی عہدیدار نے غزہ میں انتظامی معاملات سنبھالنے کے لیے ٹیکنوکریٹ کمیٹی کی تشکیل کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جنگ بندی کو برقرار رکھنے اور لڑائی دوبارہ شروع ہونے سے روکنے میں مدد کرے گی۔
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے لیے بالواسطہ مذاکرات میں ثالثی کرنے والے مصر نے 15 رکنی فلسطینی ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا ہے جو کہ ایک ’بورڈ آف پیس‘ کی نگرانی میں کام کرے گی جس کی صدارت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے۔
فلسطینی اسلامی تحریک کے ایک سینیئر رہنما باسم نعیم نے کہا کہ کمیٹی کی تشکیل درست سمت میں ایک قدم ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’یہ جنگ بندی کو مستحکم کرنے، جنگ کی طرف واپسی کو روکنے، تباہ کن انسانی بحران سے نمٹنے اور جامع تعمیرِنو کی تیاری کے لیے بہت اہم ہے۔‘
فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس سنہ 2007 سے غزہ کا مکمل انتظام سنبھال رہی ہے۔
تنظیم نے بارہا کہا ہے کہ وہ غزہ میں مستقبل کی کسی بھی گورننگ اتھارٹی میں کوئی کردار نہیں چاہتی اور اس کی شمولیت کو گورننس کی نگرانی تک محدود رکھے گا۔
باسم نعیم نے کہا کہ حماس غزہ کی پٹی کا انتظام قومی عبوری کمیٹی کے حوالے کرنے اور اس کے کام میں سہولت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب گیند ثالثوں، امریکی ضامن اور بین الاقوامی برادری کے کورٹ میں ہے تاکہ کمیٹی کو بااختیار بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو جنگ بندی کے اگلے مراحل میں ’رکاوٹ‘ ڈالنے کی کوششوں کر رہے ہیں اس لیے ثالث اور ضامن اُن کو ایسا کرنے سے روکیں۔
غزہ کو گزشتہ برس 10 اکتوبر کو جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے ’یلو لائن‘ کے ذریعے تقسیم کر دیا گیا ہے جو حماس کے اختیار کے علاقوں اور اسرائیلی فوج کے اختیار کے علاقوں کے درمیان سرحد کی نشاندہی کرتی ہے۔
واشنگٹن کے اعلیٰ ترین ایلچی سٹیو وِٹکوف نے بدھ کو کہا تھا کہ غزہ میں جنگ بندی دوسرے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔

 

شیئر: