Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

غزہ جنگ بندی منصوبے کے دوسرے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے: سٹیو وِٹکوف

امریکہ نے بدھ کے روز کہا کہ وہ غزہ کی جنگ بندی کے منصوبے کے اگلے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے، جس میں حماس کو غیر مسلح کرنا، جنگ سے تباہ حال علاقے کی تعمیرِ نو، اور فلسطینی ماہرین پر مشتمل ایک گروپ کا قیام شامل ہے جو امریکی نگرانی میں غزہ کے روزمرہ امور چلائے گا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچی سٹیو وِٹکوف نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ جنگ بندی کا معاہدہ اپنے دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جس میں غزہ میں ایک ٹیکنوکریٹک حکومت کا قیام بھی شامل ہے۔
تاہم وِٹکوف نے اس بات کی کوئی تفصیل نہیں دی کہ غزہ کی حکمرانی کے لیے قائم کی جانے والی نئی عبوری فلسطینی انتظامیہ میں کون شامل ہوگا۔ وائٹ ہاؤس نے بھی فوری طور پر مزید معلومات فراہم نہیں کیں۔
سٹیو وِٹکوف نے کہا کہ امریکہ توقع کرتا ہے کہ حماس معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کے مطابق فوری طور پر آخری ہلاک شدہ یرغمالی کی لاش واپس کرے گی۔
اگرچہ بدھ کا اعلان ایک اہم پیش رفت کی نشاندہی کرتا ہے، تاہم غزہ میں نئی حکومت اور جنگ بندی کو کئی بڑے چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں معاہدے کی نگرانی کے لیے ایک بین الاقوامی سکیورٹی فورس کی تعیناتی اور حماس کو غیر مسلح کرنے کا مشکل عمل شامل ہے۔
ٹیکنوکریٹک کمیٹی کے لیے نامزد افراد حماس کے غزہ پر 18 سالہ اقتدار کے خاتمے کے ایک وسیع تر منصوبے کا حصہ ہیں۔ ان کے نام جاری نہیں کیے گئے، تاہم وہ غزہ کے روزمرہ امور چلائیں گے۔
ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے کے تحت طے پانے والی جنگ بندی اکتوبر میں نافذ ہوئی اور اس سے بڑی حد تک لڑائی رک گئی۔ معاہدے کے پہلے مرحلے میں، حماس نے اپنے پاس موجود ایک کے سوا تمام یرغمالیوں کو رہا کیا، جس کے بدلے اسرائیل نے سینکڑوں فلسطینیوں کو رہا کیا۔
سٹیو وِٹکوف کے مطابق دوسرے مرحلے کے تحت قائم کی جانے والی ٹیکنوکریٹک کمیٹی کو غزہ میں 20 لاکھ سے زائد فلسطینیوں کو عوامی خدمات فراہم کرنے کی ذمہ داری سونپی جائے گی، تاہم اسے بڑے چیلنجز اور کئی سوالات کا سامنا ہے، جن میں اس کے طریقۂ کار اور مالی وسائل سے متعلق امور شامل ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے اندازے کے مطابق تعمیرِ نو پر 50 ارب ڈالر سے زائد لاگت آئے گی۔ یہ عمل برسوں پر محیط ہوگا، اور اب تک بہت کم مالی وسائل کا وعدہ کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ ایک فوری چیلنج یہ بھی ہے کہ حماس کی تقریباً دو دہائیوں پر مشتمل حکمرانی اور اسرائیل کے ساتھ بار بار ہونے والی جھڑپوں کے بعد بنیادی خدمات کا کنٹرول کس طرح سنبھالا جائے گا۔

شیئر: