طائف: تاریخی ’جمعرات بازار‘ جہاں معاشی سرگرمیاں ثقافتی روایات کے ساتھ جڑی ہیں
طائف شہر کے جنوب میں میسان کمشنری کے علاقے صیادہ بنی مالک میں ’جمعرات بازار‘ کا شمار ان تاریخی ہفتہ وار بازاروں میں ہوتا ہے جو آج بھی اپنی قدیم شناخت و روایات کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
ایس پی اے کے مطابق ’جمعرات بازار‘ ایک ایسا مقام ہے جہاں معاشی سرگرمیاں ثقافتی روایات کے ساتھ جڑی ہیں، جو مقامی شناخت اور روایتی بازار سے وابستہ پائیدار رواج کی عکاسی کرتے ہیں۔
یہ بازار طائف اور الباحہ ریجن کو ملانے والی سیاحتی شاہراہ پرواقع ہے جو میسان کمشنری سے تقریبا 50 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔
بازار خریداری کے علاوہ سماجی تعلقات اور باہمی رابطے کا بھی بہترین ذریعہ ہے۔ کہانیاں اور تجربات ایک نسل سے دوسری نسل کو منتقل ہوتے ہیں۔
یہاں صبح سویرے سے لوگوں کی آمد ورفت شروع ہو جاتی ہے، دکانیں اور سٹالز سج جاتے ہیں جہاں زرعی اجناس، پھل، دالیں، اناج، گھی اور دیگر مقامی مصنوعات دستیاب ہوتی ہیں جبکہ روایتی دستکاری کی مصنوعات بھی فروخت کی جاتی ہیں۔

شعبہ سیاحت سے وابستہ سامی حمود الحارثی نے بتایا’ بازار کی تاریخ سات دہائیوں سے زائد پر محیط ہے، اس بازار نے اپنے روایتی رنگ اور ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھا ہے۔‘
’آج بھی یہ بازارگھریلو صنعتوں اور چھوٹے تاجروں کے لیے ایک اہم ذریعہ معاش ہے۔ کئی خاندان نسل درنسل اسی پیشے سے وابستہ ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا’ بازار میں مقامی مصنوعات بھی بڑی تعداد میں لائی جاتی ہیں، جن میں شہد، گھی، بادام، خوبانی، انجیر اور انار نمایاں ہیں جبکہ بھیڑ بکریاں بھی فروخت کےلیے لائی جاتی ہیں۔‘

میسان کمشنری اور اس کے نواحی علاقوں میں ’سدر، السمر، الصیفی، الطلع اور السلم ‘ اقسام کے شہد کی پیداوار کے لیے بھی خاص شہرت رکھتے ہیں۔
یہی خصوصیات اس بازار کو منفرد اور اسے دیہی و خالص مقامی مصنوعات کا مرکز بناتی ہے، ساتھ ہی یہ علاقائی ثقافت کے تحفظ میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
