قصیم ریجن میں تاریخی مرکز ’ قبہ‘ جدید یادگار میں تبدیل
قبہ، قصیم کے علاقے میں داخلے کا مرکزی دروازہ بھی کہلاتا ہے (فوٹو: ایس پی اے)
مملکت کے قصیم ریجن میں ماضی میں تاریخی کاروانوں کا مرکز قبہ، اب ایک ایسی سیاحتی منزل میں تبدیل ہو چکا ہے جو ثقافتی تعلق کو بڑھاتی ہے اور قومی شناخت کو مضبوط کرتی ہے۔
الاسیاح کمشنری میں بریدہ سے 150 کلومیٹر کے فاصلے پر شمال مشرق میں واقع قبہ، قصیم کے علاقے میں داخلے کا مرکزی دروازہ بھی کہلاتا ہے، جو اِسے حائل، ریاض، مشرقی صوبے اور حدودِ شمالیہ سے جوڑ دیتا ہے۔
تاریخی اعتبار سے یہ عراق سے آنے والے تجارتی راستوں کے لیے رسدگاہ کا اہم مرکز ہوا کرتا تھا لیکن مملکت کے متحد ہونے کے زمانے کے دوران یہ رفتہ رفتہ ایسی برادری میں تبدیل ہوگیا جس نے وہیں پر رہائش اختیار کر لی۔
اس مقام کا سب سے اہم سنگِ میل شاہ عبدالعزیز کا تاریخی محل ہے جسے سنہ 1932 میں تعیمیر کیا گیا تھا۔
اس کا رقبہ 15000 سکوائر میٹر ہے اور اینٹوں اور گارے سے بنے ہوئے اِس قلعے کے پانچ دفاعی مینار ہیں جن سے آنے جانے والوں پر نظر رکھی جاتی تھی۔ ان کے علاوہ محل میں مہمانوں کے کمرے، انتظامی دفاتر اور ایک مسجد بھی ہے۔

پرانی گورنریٹ کی عمارت کے ساتھ ساتھ یہاں ایک روایتی مارکیٹ بھی ہے۔ سعودی ریاست کی بنیادیں رکھے جانے والے زمانے کے دوران یہ سائٹ اِس ریجن کی تاریخی اور دفاعی اہمیت کا ثبوت بھی ہے۔
معاشی لحاظ سے قبہ، نقل و حمل کے ایک جدید اور صنعتی مرکز میں تبدیل ہو چکا ہے۔
یہیں پر مرکز البعیثہ بھی واقع ہے جو ایک اہم قومی منصوبہ ہے جہاں الیومنیم کی کچ دھات کی پیداوار ہوتی ہے۔ اس وجہ سے بھی مقامی معیشت کافی متنوع ہو چکی ہے۔

قبہ میں ایک مضبوط زرعی بنیاد بھی ہے جو کھجوروں اور موسمی فصلوں کا گڑھ ہے۔ اس کی وسیع و عریض چرا گاہیں مویشیوں اور اونٹوں کی افزائشِ نسل کے شعبے لیے بہت معاون ثابت ہوتی ہیں۔
قبہ اپنے انفراسٹرکچر اور خدمات کو مسلسل بہتر کر رہا ہے تاکہ سعودی وژن 2030 سے ہم آہنگ ہو کر وہ علاقائی مراکز کو بااختیار بنائے۔

اپنے زرخیز آثارِ قدیمہ کے ورثے کی بدولت اور کان کنی کے جدید طریق اور ذرائع نقل و حمل کو استعمال میں لانے سے قبہ کا کردار قومی معیشت میں اہم حیثیت اختیار کر چکا ہے اور یہ مملکت کی شمالی راہداریوں سے تجارت کے لیے ایک مضبوط مرکز بن چکا ہے۔
