Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جوائے ایوارڈز 2026: معروف بین الاقوامی اداکاروں کی شرکت

سعودی دارالحکومت ریاض نے سنیچر17 جنوری کو سالانہ جوائے ایوارڈز کی میزبانی کی جس میں عرب دنیا سے ستاروں اور تخلیقی منصوبوں کو ایک ساتھ لایا گیا۔ یہ تقریب 2022 سے ہر سال منعقد کی جا رہی ہے۔
2026 کی تقریب میں کہانی سنانے اور تخلیقی کام کو سراہنے پر توجہ برقرار رکھی گئی جبکہ گزشتہ سال کے دوران جاری کیے گئے منصوبوں کو بھی نمایاں کیا گیا۔
ایوارڈز موسیقی، سنیما، سیریز، ہدایت کار، کھیل اور انفلوئینسرز کے شعبوں میں پیش کیے گئے۔
کیٹیگریز کے ایوارڈز کے علاوہ تقریب میں خصوصی اعزازات حاصل کرنے والوں کو بھی نوازا گیا جن میں پرسنیلیٹی آف دی ایئر، لائف ٹائم اچیومنٹ اور جوائے اعزازی ایوارڈز شامل تھے۔
گزشتہ تقریبات میں عرب اور بین الاقوامی شخصیات کو فنونِ لطیفہ میں ان کی خدمات کے اعتراف میں اعزازات دیے گئے جن میں میتھیو میککونہے شامل ہیں، جنہیں 2025 میں پرسنیلیٹی آف دی ایئر کا ایوارڈ دیا گیا تھا۔
فلم، موسیقی اور کھیل سمیت مملکت کے تفریحی شعبے میں توسیع کے تناظر میں جوائے ایوارڈز نے دکھایا کہ بڑے ثقافتی پروگرام منعقد کرنے میں ریاض سیزن کا اہم کردار ہے۔

رواں برس فینز کے پسندیدہ نامزد امیدوار جن میں بہت سے سعودی شہری بھی شامل تھے جب جوائے ایوارڈز کے مشہور بنفشی قالین پر چل رہے تھے تو حاضرین نے ان کا بھرپور استقبال کیا۔
اس موقع پر فیشن ایک بار پھر نمایاں رہا اور خطے کی بدلتی ہوئی تخلیقی شناخت کا اہم اظہار بنا۔
ایوارڈ جیتنے والوں میں 14 سالہ سعودی لڑکی رتیل الشھری بھی شامل تھیں، جنہوں نے فیورٹ فیمیل انفلوئنیسر کا ایوارڈ جیتا۔ 

بنفشی قالین پر عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے رتیل نے خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ ’میں جوائے ایوارڈز میں آ کر بہت خوش ہوں۔ میں اس لمحے کا بہت عرصے سے انتظار کر رہی تھی۔ یہاں موجود ہر شخص اس جگہ کا حق دار ہے۔
لبنانی اداکارہ لیلیٰ عبداللہ نے بھی ایوارڈ شو اور تخلیقی آوازوں کے لیے ایک مرکز بنانے کے مملکت کے عزم پر اپنی خوشی  کا اظہار کیا۔
عرب نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’ ایوارڈز میں ‘ثقافت اور لگژری کا ایک خوبصورت امتزاج ہے۔ اس میں خلیجی عرب پہچان اور سعودی انداز جھلکتا ہے، اور یہی چیز اسے واقعی منفرد بناتی ہے۔

یہ تقریب جوش و خروش سے بھرپور تھی جس نے ان فنکاروں اور باصلاحیت افراد کو ایک پلیٹ فارم فراہم کیا جو عرب دنیا میں اپنے تخلیقی خیالات پیش کرنے کے منتظر تھے۔
عرب نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے آسٹریلوی اداکار لیوک آرنلڈ نے اس تقریب میں شرکت پر اپنی خوشی کا اظہار کیا اور کہا ’مجھے سب سے زیادہ جو چیز خوشی دے رہی ہے وہ وہی ہے جو مجھے فلم اور ٹیلی وژن کے بارے میں سب سے زیادہ پسند ہے، یعنی دنیا بھر سے لوگوں کا ایک جگہ جمع ہونا تاکہ کہانیاں سنائیں اور اپنی مہارتیں ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کریں۔‘

ملی بوبی براؤن نے پرسنیلیٹی آف دی ایئر کا ایوارڈ جیتا جبکہ لائف ٹائم اچیومنٹ کا اعزاز اداکار فورسٹ وِٹیکر کو دیا گیا۔
سٹیج پر امریکی پاپ سٹار کیٹی پیری نے اپنے مشہور گانے پیش کیے جبکہ برطانوی گلوکار رابی ولیمز نے بھی ایک شاندار پرفارمنس دی۔
جوائے ایوارڈز 2026 نے ایک مرتبہ پھر دکھا دیا کہ تفریح اور تخلیقی کام میں نئے معیار قائم کرنا ممکن ہے اور جب یہ مقامی ٹیلنٹ اور حمایت سے ہوتا ہے تو سب خوشی سے اس کا جشن مناتے ہیں۔

جب دنیا بھر کے ستارے ریاض کے بنفشی قالین پر آئے تو عرب ثقافت کو واضح طور پر سامنے لایا گیا چاہے وہ فلم ہو، موسیقی یا ڈیجیٹل تخلیق۔
جوائے ایوارڈز اس وسیع ثقافتی تبدیلی کی علامت ہیں جس کی قیادت ریاض عرب دنیا کی تفریحی صنعت میں کر رہا ہے۔

 

شیئر: