’پانی کی ہر بوند قیمتی‘: خیبر پختونخوا میں مصنوعی ذہانت کیسے کسانوں کی قسمت بدل رہی ہے؟
’پانی کی ہر بوند قیمتی‘: خیبر پختونخوا میں مصنوعی ذہانت کیسے کسانوں کی قسمت بدل رہی ہے؟
پیر 19 جنوری 2026 11:19
محمد باسط خان، اردو نیوز
چارسدہ اور نوشہرہ میں فصلوں کے لیے درکار نمی پر نظر رکھنے کے لیے اے آئی سینسرز کی تنصیب کے بعد کسان کم پانی میں بہتر پیداوار حاصل کرنے لگے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی پاکستان میں پانی کے بحران سے نمٹنے کی جانب اہم قدم ہے۔
خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں جدید ٹیکنالوجی آہستہ آہستہ زراعت کے روایتی طریقوں کو بدل رہی ہے۔
جہاں ماضی میں کسان اندازوں کی بنیاد پر فصلوں کو پانی دیا کرتے تھے، وہیں اب مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی ایک جدید ڈیوائس کسانوں کو واضح طور پر یہ بتا رہی ہے کہ فصل کو کب اور کتنا پانی درکار ہے۔
یہ اے آئی بیسڈ سوئل موئسچر سینسر زمین میں موجود نمی کو جانچتا ہے اور کسان کو بروقت سگنل دیتا ہے کہ آیا فصل کو فوری پانی کی ضرورت ہے یا نہیں۔ اس ٹیکنالوجی کی بدولت اب کسان اندھادھند پانی لگانے کے بجائے ضرورت کے مطابق آبپاشی کر رہے ہیں، جس سے نہ صرف پانی بلکہ اخراجات میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان میں فلڈ آبپاشی کے روایتی طریقے کے باعث 30 فیصد سے زائد پانی ضائع ہو جاتا ہے، جس کا براہِ راست نقصان فصلوں اور کسانوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔
اسی مسئلے سے نمٹنے کے لیے انٹرنیشنل واٹر مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ (IWMI) نے خیبر پختونخوا کے اضلاع چارسدہ اور نوشہرہ میں زمینداروں کو 60 سے زیادہ اے آئی سوئل موئسچر سینسرز فراہم کیے ہیں۔
انٹرنیشنل واٹر مینجمنٹ اور محکمہ زراعت (واٹر مینجمنٹ) کے تعاون سے فراہم کی جانے والی اس اے آئی ڈیوائس کی قیمت تقریباً ایک لاکھ روپے ہے، تاہم یہ ٹیکنالوجی خیبر پختونخوا کے کسانوں کو مفت فراہم کی جا رہی ہے تاکہ پانی کے ضیاع کو کم اور جدید زراعت کو فروغ دیا جا سکے۔
اخراجات کم اور پانی کی بچت زیادہ
نیلی لائٹ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ فی الحال کھیت کو پانی کی ضرورت نہیں، پیلی لائٹ آنے پر تین سے پانچ دن کے اندر پانی دیا جا سکتا ہے: تصویر اردو نیوز
چارسدہ کے کسان محمد جواد بھی ان زمین داروں میں شامل ہیں جن کی پانچ ایکڑ اراضی پر مشتمل گندم کی فصل میں یہ ڈیوائس نصب کی گئی ہے۔
انہوں نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’اس ٹیکنالوجی نے نہ صرف ان کے اخراجات کم کیے بلکہ پانی کے ضیاع کو بھی مؤثر انداز میں روکا۔‘
محمد جواد کا کہنا ہے کہ’اس ڈیوائس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ ہمیں غیر ضروری آبپاشی سے بچاتی ہے۔ کھیت کو اگر ضرورت سے زیادہ پانی دیا جائے تو ایک طرف مالی نقصان ہوتا ہے اور دوسری طرف پیداوار بھی متاثر ہوتی ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’دسمبر تک کسان کھیتوں کو عام طور پر تین یا چار مرتبہ پانی دیتے تھے، لیکن اس ڈیوائس کے بعد انہوں (کسانوں) نے صرف ایک بار کھیتوں کو پانی دیا ہے کیونکہ اس ڈیوائس نے سگنل فراہم کیا کہ فی الحال پانی دینے کی ضرورت نہیں۔‘
ڈیوائس کیسے کام کرتی ہے؟
یہ اے آئی بیسڈ سوئل موئسچر سینسر زمین میں موجود نمی کو جانچتا ہے اور کسان کو بروقت سگنل دیتا ہے: تصویر اردو نیوز
انٹرنیشنل واٹر مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ خیبر پختونخوا کے ترجمان کفایت زمان نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’یہ اے آئی پر مبنی سوئل موئسچر سینسر ہے جو سمارٹ زراعت کی جانب ایک اہم قدم ہے۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’ہم نہ صرف کسانوں کو یہ ڈیوائس فراہم کرتے ہیں بلکہ انہیں اس کے استعمال کی مکمل تربیت بھی دیتے ہیں تاکہ وہ خود اسے نصب اور استعمال کر سکیں۔ یہ ڈیوائس ٹریفک سگنل کے نظام پر کام کرتی ہے اور یہ ابتدائی طور پر گندم کی فصل میں نصب کی گئی ہے۔ اس میں تین تاریں مختلف گہرائیوں پر لگائی جاتی ہیں یعنی 30، 45 اور 60 سینٹی میٹر تاکہ زمین کی مختلف سطحوں پر نمی کی مقدار جانچی جا سکے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’ڈیوائس میں نصب نیلی، پیلی اور لال لائٹس بالکل ٹریفک سگنلز کی طرح اشارہ دیتی ہیں۔
نیلی لائٹ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ فی الحال کھیت کو پانی کی ضرورت نہیں، پیلی لائٹ آنے پر تین سے پانچ دن کے اندر پانی دیا جا سکتا ہے، جبکہ لال لائٹ اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ فصل کو 24 گھنٹوں کے اندر پانی دینا ضروری ہے۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’ماضی میں کسان وقت سے پہلے پانی دے دیتے تھے، جس سے ڈیزل، بجلی اور محنت سب کا اضافی خرچ ہوتا تھا، جبکہ اب یہ اخراجات نمایاں طور پر کم ہو گئے ہیں۔‘
ایک اور کسان نور حبیب نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’پہلے ہم مہینے میں دو یا تین مرتبہ پانی دیتے تھے، ہمیں یہ معلوم ہی نہیں ہوتا تھا کہ واقعی پانی کی ضرورت ہے بھی یا نہیں۔ ایک پار آبپاشی پر تقریباً چار ہزار روپے خرچ آتا تھا، لیکن اب اخراجات میں پچاس فیصد تک کمی آ گئی ہے۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’ماضی میں ٹیوب ویل چلانے پر آس پاس کے لوگ گھریلو پانی کی کمی کی شکایت کرتے تھے، لیکن اب درست وقت پر آبپاشی کی وجہ سے یہ شکایات بھی تقریباً ختم ہو گئی ہیں۔‘
پر کراپ، پر ڈراپ
کسانوں کے مطابق ٹیکنالوجی نے نہ صرف ان کے اخراجات کم کیے بلکہ پانی کے ضیاع کو بھی مؤثر انداز میں روکا: تصویر اردو نیوز
محکمہ واٹر مینجمنٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر واجد علی نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’یہ ڈیوائس اے آئی سے منسلک ہے اور موبائل فون کے ذریعے کسان کو اطلاع دیتی ہے کہ فصل کو کب اور کتنا پانی دینا ہے۔‘
ان کے مطابق یہ ٹیکنالوجی یورپ میں کافی عرصے سے استعمال ہو رہی ہے، جبکہ پاکستان میں 2020 کے بعد متعارف ہوئی۔ دنیا کے کئی ممالک میں فلڈ آبپاشی کو جرم تصور کیا جاتا ہے کیونکہ پانی کی قلت ایک عالمی مسئلہ بن چکا ہے۔
واجد علی کا کہنا تھا کہ ’محکمے کا نعرہ ’پر کراپ، پر ڈراپ‘ ہے، یعنی پانی کی ہر بوند سے زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کی جائے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’اس ٹیکنالوجی کو اگر وسیع پیمانے پر اپنایا جائے تو نہ صرف پانی کی بچت ممکن ہے بلکہ پاکستان کو خوراک میں خود کفالت کی طرف لے جانے میں بھی یہ ایک اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔‘