Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکہ سے مذاکرات ایجنڈے میں شامل نہیں، میزائل حملے جاری رہیں گے: ایران

ایران خلیجی ممالک پر کئی میزائل اور ڈرون حملے کر چکا ہے (فوٹو: اے پی)
ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات ایجنڈے میں شامل نہیں اور ان کی جنگ گیارہویں روز میں داخل ہو گئی ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے منگل کو پی بی ایس کو انٹرویو میں کہا کہ ’میرا نہیں خیال کہ امریکہ ساتھ مذاکرات ہمارے ایجنڈے میں مزید شامل رہیں گے۔‘
انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ پچھلی بار امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے دوران تہران کو ’بہت تلخ تجربے‘ کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف حملوں کا آغاز کیا تھا جس میں وہاں کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای ہلاک ہو گئے تھے، جس کے بعد لڑائی نے زور پکڑا اور مشرق وسطیٰ تک پھیلتی چلی گئی۔
امریکی و اسرائیلی حملے بات چیت کے اس دور سے دو روز قبل ہوئے جس میں واشنگٹن اور تہران تین ادوار کے بعد پھر سے بات کرنے جا رہے تھے۔
اس بات چیت کے حوالے سے عمان کے ثالثوں نے کہا تھا کہ اس میں کافی ’اہم پیش رفت‘ ہوئی تھی۔
ایران کی جانب سے امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کا جواب ڈرون اور میزائل حملوں کے ذریعے دیا جا رہا ہے اور ان کے ذریعے پورے خطے میں اسرائیل اور امریکہ کے اہم مقامات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
ان حالات میں سٹریٹیجک اہمیت رکھنے والی گزرگاہ آبنائے ہرمز کے راستے بحری جہازوں کی آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی ہے جس کے ذریعے دنیا عالمی سطح پر تقریباً 20 فیصد خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔
جنگ شروع ہونے کے بعد ایرانی فورسز نے اس راستے سے گزرنے والے ٹینکرز کو کئی بار نشانہ بنایا ہے۔
انٹرویو میں عباسی عراقچی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران صرف ’اپنا دفاع‘ کر دہا ہے۔
’ہم تیار ہیں، ہم ان پر اپنے میزائلز کے ذریعے حملے کرنے کے لیے تیار ہیں، جب تک یہ ضروری ہیں اور جب تک یہ ہو سکیں۔‘
پیر کے اواخر میں ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا تھا کہ خطے کے کچھ ممالک کے علاوہ دیگر نے بھی ایران سے رابطہ کیا ہے تاکہ جنگ بندی کی طرف بڑھا جا سکے۔
انہوں نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ ’چین، روس، فرانس کے علاوہ خطے کے چند ممالک ہمارے ساتھ رابطے میں ہیں۔‘
’ان میں سے کچھ ممالک جنگ کو روکنے یا جنگ بندی کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں۔‘
فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکخواں کا کہنا ہے کہ فرانس اور اس کے اتحادی آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایک ’دفاعی‘ مشن کی تیاری کر رہے ہیں۔
کاظم غریب آبادی کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ایران نے جارحیت اور جنگ شروع نہیں کی بلکہ ہم اپنا دفاع کر رہے ہیں۔‘

شیئر: