پاکستان میں عیدالفطر سے قبل بیرونِ ملک سفر کرنے والے مسافروں کو اس سال غیرمعمولی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ایک طرف مشرق وسطیٰ میں کشیدہ صورتِ حال کے باعث پروازوں کی تعداد کم ہو چکی ہے تو دوسری جانب دستیاب پروازوں میں پہلے ہی مسافروں کا غیر معمولی رش موجود ہے۔
حکومت کی جانب سے اب کمرشل طیاروں میں استعمال ہونے والے جیٹ فیول کی قیمت میں بڑے اضافے نے فضائی سفر کو مزید مہنگا بنانے کا خدشہ پیدا کر دیا ہے۔
ایوی ایشن اور ٹریول انڈسٹری سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ ’ان تمام عوامل کے مجموعی اثرات خاص طور پر ان پاکستانیوں پر پڑ رہے ہیں جو رمضان کے آخری ایام میں عمرے کی ادائیگی، عید اپنے خاندان کے ساتھ گزارنے یا چھٹیوں کے بعد بیرونِ ملک واپس جانے کے لیے سفر کرنا چاہتے ہیں۔‘
مزید پڑھیں
حکومت کی جانب سے کمرشل طیاروں کے لیے استعمال ہونے والے جیٹ فیول کی قیمت میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔
ایوی ایشن امور کے ماہر سینیئر صحافی طارق ابوالحسن کے مطابق اس فیصلے کے نتیجے میں جیٹ فیول کی قیمت میں تقریباً 82 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ایئرلائنز کے آپریشنل اخراجات میں ایندھن کا چوں کہ سب سے بڑا حصہ ہوتا ہے، تو اس لیے اس اضافے کے اثرات براہ راست مسافروں کے کرایوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
ٹریول انڈسٹری سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ اگر مکمل طور پر مسافروں پر منتقل کیا گیا تو بین الاقوامی پروازوں کے ٹکٹوں میں ہزاروں روپے کا اضافہ ہو سکتا ہے۔‘
پروازیں پہلے ہی کم، دباؤ مزید بڑھ گیا
یہ صورتِ حال ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان سے مشرقِ وسطیٰ جانے والی پروازوں کی تعداد پہلے ہی کم ہو چکی ہے۔ حالیہ دنوں میں علاقائی کشیدگی کے باعث مختلف ہوائی اڈوں سے خلیجی ممالک کی درجنوں پروازیں منسوخ کی جا چکی ہیں جس سے ہزاروں مسافر متاثر ہوئے ہیں۔
ایوی ایشن ذرائع کے مطابق کئی ایئرلائنز نے حفاظتی یا آپریشنل وجوہات کی بنا پر اپنے شیڈول محدود کر دیے ہیں جس کے نتیجے میں دستیاب پروازوں میں سیٹیں کم رہ گئی ہیں۔ اسی وجہ سے جو پروازیں آپریشنل ہیں ان میں پہلے ہی مسافروں کا غیرمعمولی رش دیکھا جا رہا ہے۔

کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے بڑے مراکز میں کام کرنے والے ایجنٹس کا کہنا ہے کہ ’عید سے قبل دبئی، جدہ، مدینہ، دوحہ اور ابوظہبی کے لیے ٹکٹوں کی مانگ غیرمعمولی حد تک بڑھ جاتی ہے۔ تاہم اس سال صورتِ حال مختلف ہے کیوں کہ پروازوں کی کمی کے باعث ٹکٹ حاصل کرنا بھی مشکل ہو رہا ہے۔‘
ٹریول ایجنٹ کیا کہتے ہیں؟
ٹریول ایجنٹس ایسوسی ایشن کے رہنما ندیم شریف کا کہنا ہے کہ ’موجودہ صورتِ حال میں ٹکٹوں کی قیمتوں میں اضافہ ناگزیر نظر آ رہا ہے۔‘
انہوں نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اس وقت مارکیٹ میں دو طرح کا دباؤ ہے۔ ایک طرف پروازیں کم ہیں اور دوسری طرف مسافروں کی تعداد زیادہ ہے۔ اب اگر جیٹ فیول کی قیمت میں اتنا بڑا اضافہ ہو گیا ہے تو ظاہر ہے کہ ایئرلائنز اپنے اخراجات پورا کرنے کے لیے کرایوں میں اضافہ کریں گی۔‘
ندیم شریف کے مطابق عیدالفطر سے قبل پاکستان آنے اور واپس جانے والے مسافروں کی تعداد ہر سال بڑھ جاتی ہے۔
خلیجی ممالک میں کام کرنے والے پاکستانی خاص طور پر رمضان کے آخری دنوں میں چھٹی لے کر گھر آتے ہیں۔ اسی طرح عمرہ کے لیے جانے والوں کی بھی بڑی تعداد ہوتی ہے۔ جب پروازیں محدود ہوں اور کرایے بڑھ جائیں تو سب سے زیادہ پریشانی انہی مسافروں کو ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اس وقت کئی روٹس پر ٹکٹ پہلے ہی مہنگے ہو چکے ہیں اور کچھ مسافروں کو متبادل تاریخوں پر سفر کرنا پڑ رہا ہے۔‘
کراچی کے ایک اور ٹریول آپریٹر نوید وحید کے مطابق ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ براہ راست فضائی سفر کو متاثر کرتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ایئرلائنز کے آپریشنل اخراجات میں سب سے بڑا حصہ فیول کا ہوتا ہے۔ جب فیول کی قیمت اچانک اس حد تک بڑھ جائے تو ایئرلائنز کے پاس کرایے بڑھانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہتا۔‘
ان کے مطابق اس وقت پہلے ہی کئی روٹس پر سیٹیں محدود ہیں۔ روزانہ ایسے بہت سے مسافر مل رہے ہیں جو کہتے ہیں کہ انہیں فوری سفر کرنا ہے لیکن پروازیں دستیاب نہیں۔ اب اگر کرایوں میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو عام مسافر کے لیے بیرون ملک کا سفر کرنا مزید مشکل ہو جائے گا۔
نوید وحید کا کہنا تھا کہ ’عید سے قبل دبئی اور جدہ کے ٹکٹوں کی مانگ سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ اب صورتِ حال یہ ہے کہ اگر کسی کو آخری ہفتے میں ٹکٹ چاہیے تو اسے کافی زیادہ قیمت ادا کرنی پڑ سکتی ہے۔‘
بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی بڑی تعداد
سرکاری اور مختلف بین الاقوامی اداروں کے اندازوں کے مطابق دنیا بھر میں 70 لاکھ سے زائد پاکستانی بیرون ملک مقیم ہیں۔ ان میں سب سے بڑی تعداد مشرق وسطیٰ کے ممالک میں کام کرنے والے محنت کشوں کی ہے جن میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، عمان اور بحرین شامل ہیں۔

علاوہ ازیں برطانیہ، امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور یورپ کے دیگر ممالک میں بھی لاکھوں پاکستانی آباد ہیں۔ ہر سال تہواروں اور چھٹیوں کے دوران ان میں سے بڑی تعداد پاکستان کا سفر کرتی ہے تاکہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ وقت گزار سکیں۔
عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کے مواقع پر پاکستان آنے والے بیرون ملک پاکستانیوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا جاتا ہے۔ خاص طور پر خلیجی ممالک میں کام کرنے والے پاکستانی محنت کش رمضان کے آخری ایام میں چھٹی لے کر اپنے گھروں کا رخ کرتے ہیں۔
ٹریول ایجنٹس کے مطابق اس سال بھی عید سے قبل ٹکٹوں کی مانگ زیادہ ہے، تاہم پروازوں کی محدود دستیابی اور بڑھتے ہوئے کرایوں کے باعث بہت سے افراد کو مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
تمام مسافر متاثر ہوں گے
فضائی کرایوں میں ممکنہ اضافے کا اثر صرف عید کے لیے سفر کرنے والوں تک محدود نہیں رہے گا۔ بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ، علاج کے لیے جانے والے مریضوں اور سیاحت کے لیے سفر کرنے والے افراد بھی اس صورتِ حال سے متاثر ہوں گے۔
پاکستان سے ہر سال ہزاروں طلبہ بیرون ملک یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے سفر کرتے ہیں۔ اسی طرح کچھ مریض علاج کی غرض سے دبئی، ترکی، چین اور دیگر ممالک جاتے ہیں۔
ٹریول انڈسٹری سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ ’ٹکٹ کی قیمتوں میں چند ہزار روپے کا اضافہ بھی کئی مسافروں کے لیے بڑا مالی بوجھ بن سکتا ہے۔‘

ندیم شریف کے مطابق بہت سے لوگ پہلے ہی مہنگائی کے باعث سفری اخراجات مشکل سے برداشت کرتے ہیں۔ ٹکٹ اگر مزید مہنگے ہو گئے تو کچھ لوگ اپنے سفر ملتوی کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔
ایئرپورٹس پر غیر یقینی صورتِ حال
دوسری جانب حالیہ دنوں میں مختلف ہوائی اڈوں پر مسافروں کو غیر یقینی صورتِ حال کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔ بعض پروازوں کی منسوخی یا تاخیر کے باعث مسافروں کو کئی گھنٹے انتظار کرنا پڑا۔
ایوی ایشن ذرائع کا کہنا ہے کہ خطے کی صورتِ حال اور آپریشنل مسائل کے باعث پروازوں کے شیڈول میں تبدیلیاں ممکن ہیں، اس لیے مسافروں کو ہدایت کی جا رہی ہے کہ وہ ایئرپورٹ آنے سے پہلے اپنی پرواز کی معلومات ضرور حاصل کریں۔
ٹریول آپریٹر نوید وحید کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں مسافروں کو پیشگی منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ’کسی مسافر کو اگر عید کے ایام میں سفر کرنا ہے تو بہتر ہے کہ وہ جلد از جلد ٹکٹ بک کروا لے کیوں کہ آخری دنوں میں قیمتیں اور بھی بڑھ سکتی ہیں۔‘

مستقبل میں کیا ہو سکتا ہے؟
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق اگر خطے کی صورتِ حال معمول پر آتی ہے اور پروازوں کی تعداد دوبارہ بڑھتی ہے تو ٹکٹوں کی قیمتوں میں کچھ حد تک استحکام آ سکتا ہے۔ تاہم فی الحال جیٹ فیول کی قیمتوں میں حالیہ اضافے نے فضائی سفر کی لاگت بڑھا دی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہو گا کہ ایئرلائنز اس اضافی لاگت کو کس حد تک مسافروں پر منتقل کرتی ہیں۔
اس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ عیدالفطر سے قبل بیرون ملک سفر کرنے والے پاکستانیوں کو بیک وقت کئی چیلنجز کا سامنا ہے جن میں محدود پروازیں، بڑھتی ہوئی مانگ اور اب ایندھن کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ شامل ہے۔












