عسیر کی سادہ روایت: جب ’کھجوروں، پانی اور دودھ‘ سے افطار کیا جاتا تھا
عسیر کے رہائشی رمضان کی یادوں کو تازہ کرنے کے لیے پرانے مکانات، تاریخی حویلیوں اور قلعوں میں اکٹھے ہوتے ہیں تاکہ افطار اور سحری اکٹھے کر سکیں۔ یہ محفلیں سادگی اور بھائی چارے کی اس فضا کو دوبارہ زندہ کرتی ہیں جو ان کے آباؤ اجداد کی زندگیوں کی پہچان تھی۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق خمیس مشیط گورنریٹ میں واقع آل جرمان محلات کے دورے کے دوران مقامی افراد نے گزرے ہوئے رمضان کی یادیں بیان کیں۔ وہ باقاعدگی سے ان تاریخی محلات میں اکٹھے ہوتے ہیں تاکہ اُن سماجی اور روحانی روایات کو یاد کر سکیں جو کبھی اس مقدس مہینے کی پہچان ہوا کرتی تھیں۔
ثقافتی انیشیٹیو کے تحت ان محلات کو بحال کیا گیا ہے اور انہیں روشنیوں سے آراستہ کیا گیا ہے تاکہ یہاں ایسی محفلوں کا انعقاد کیا جا سکے۔
اب ان مقامات پر افطار اور سحری کی تقاریب منعقد ہوتی ہیں جن میں علاقے کے بزرگ شریک ہوتے ہیں، گاؤں کے پرانی مساجد میں باجماعت نماز ادا کی جاتی ہے، اور تعلیمی نشستیں بھی ہوتی ہیں جو نئی نسل کا اپنے ثقافتی ورثے سے تعلق مضبوط بناتی ہیں۔
مقامی رہائشی راشد علی بن جرمان نے بتایا کہ ماضی میں رمضان ایک معمول کے دن کی طرح ہوتا تھا۔ کسان اپنے کھیتوں میں کام کرتے تھے اور چرواہے افطار تک اپنے ریوڑوں کی دیکھ بھال کرتے اور انہیں چراتے رہتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ’خاندان چند کھجوروں، پانی اور دودھ کے ساتھ اکٹھے افطار کرتے تھے۔ اگر روٹی میسر ہوتی تو وہ مقامی گندم، جو یا مکئی سے بنائی جاتی اور تندور میں یا انگاروں پر ایک طریقے سے پکائی جاتی جسے ’مرمودہ‘ کہا جاتا ہے۔ گوشت بہت کم ملتا تھا۔ اس کے بعد لوگ مل کر مغرب اور عشا کی نماز ادا کرتے اور اگلے دن کی تیاری کے لیے جلدی سو جاتے تھے۔‘
80 سالہ محمد رفیع بن رویب نے یاد کرتے ہوئے کہا کہ رمضان کے آغاز کا اعلان کس طرح کیا جاتا تھا۔ لوگ بلند مقامات سے نئے چاند کا مشاہدہ کرتے تھے اور خوشی کے اظہار کے طور پر فائرنگ کر کے کمیونٹی کو اطلاع دیتے تھے۔

انہوں نے مملکت میں موجودہ دور میں حاصل ہونے والے امن اور سکون کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ رمضان کا ماحول باہمی یکجہتی اور ہمدردی کی اقدار کو مزید مضبوط بناتا ہے۔