Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی عرب اور اردن کی اربیل میں اماراتی قونصل خانے پر ڈرون حملے کی مذمت

سعودی عرب اور اردن نے عراقی کردستان کے شہر اربیل میں متحدہ عرب امارات کے قونصلیٹ پر ڈرون حملے کی مذمت کی ہے۔
عرب نیوز کے مطابق اس سے قبل متحدہ عرب امارات کی جانب سے بھی مذمتی بیان جاری کیا جا چکا ہے۔
عراقی کردستان کی انسداد دہشت گردی سروس کی جانب سے پیر کو بتایا گیا تھا کہ اس نے اربیل کے علاقے میں تین ڈرون گرائے ہیں جن میں سے ایک کا ملبہ یو اے ای کے قونصلیٹ کے قریب گرا۔
یہ بھی بتایا گیا تھا کہ واقعے میں ہلاکت کے حوالے سے کوئی رپورٹ سامنے نہیں آئی۔
سعودی وزارت خارجہ کے ذریعے جاری ہونے والے بیان میں سعودی عرب کی جانب سے عراقی کردستان میں یو اے ای کے قونصلیٹ کو نشانہ بنانے کی ’شدید مذمت‘ کی گئی ہے۔
اسی طرح اردن کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں ’بین الاقوانی قوانین، 1949 کے جنیوا کنونشنز اور 1961کے ویانا کنونشن برائے سفارت کاری کی پاسداری‘ کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔
بیان میں زور دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ فرہم ورک سفارتی مشنز اور عملے کے ارکان کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں۔
اس سے قبل متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا تھا کہ یہ حملہ ’بڑھتی کشیدگی اور علاقائی استحکام و سلامتی کے لیے خطرے کی نشاندہی کرتا ہے۔‘
بیان کے مطابق ’سفارتی مشنز اور ان سے متعلقہ مقامات کو نشانہ بنانا تمام بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔‘
اس میں کردستان کی علاقائی حکومت سے مطالبہ بھی کیا گیا تھا کہ حملے سے متعلق حالات کی تحقیقات کی جائیں اور اس کے ذمہ داروں کی نشاندہی کرنے کے علاوہ ان کا احتساب بھی کیا جائے۔

شیئر: