Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان میں فائیو جی سپیکٹرم کی نیلامی مکمل، جمعہ سے محدود سروسز شروع ہوں گی

ائیو جی نیلامی کے بعد مارکیٹ میں فائیو جی سپورٹڈ موبائل فونز کی تعداد میں اضافے کا امکان ہے۔ (فوٹو: وزارت آئی ٹی)
پاکستان میں فائیو جی سپیکٹرم کی نیلامی مکمل ہو گئی ہے اور اب جمعہ سے ملک کے تین ٹیلی کام آپریٹرز کی منتخب سائٹس پر فائیو جی سروسز دستیاب ہوں گی۔
منگل کو اسلام آباد میں فائیو جی سپیکٹرم کی نیلامی کی تقریب منعقد ہوئی جس میں 600 میگا ہرٹز سپیکٹرم کی نیلامی کا اعلان کیا گیا۔ اس میں سے 480 میگا ہرٹز سپیکٹرم فروخت ہوا، جسے تین ٹیلی کام کمپنیاں، جاز، زونگ اور یو فون، نے حاصل کیا۔
تینوں ٹیلی کام آپریٹرز میں سے جاز نے 190 میگا ہرٹز، یو فون نے 180 میگا ہرٹز اور زونگ نے 110 میگا ہرٹز سپیکٹرم خریدا۔ اس سپیکٹرم کی مجموعی نیلامی 507 ملین (50.7 کروڑ) ڈالر میں ہوئی ہے۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے مطابق جمعرات کو مختلف بینڈز کی پوزیشن کے لیے بولی لگائی جائے گی۔
یاد رہے کہ اس وقت پاکستان میں موبائل نیٹ ورک کے لیے صرف 274 میگا ہرٹز سپیکٹرم دستیاب ہے، جسے ماہرین ٹیلی کام آپریٹرز اور صارفین دونوں کے لیے ناکافی قرار دیتے ہیں۔ کم سپیکٹرم کی وجہ سے نیٹ ورک پر دباؤ بڑھ جاتا ہے، انٹرنیٹ کی رفتار سست رہتی ہے اور صارفین کو بہتر کنکشن فراہم کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
فائیو جی لائسنس کے اجرا کے بعد بڑے شہروں کراچی، لاہور، اسلام آباد، پشاور اور کوئٹہ میں تقریباً تین سے چھ ماہ کے اندر مکمل سروسز شروع کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ ٹیلی کام آپریٹرز نے محدود سائٹس پر جمعہ سے سروس فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
تاہم اس صورتحال میں یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ پاکستان میں فائیو جی سپورٹڈ موبائل فونز کی دستیابی کیسی ہے اور شہری انہیں کس طرح حاصل کر سکتے ہیں۔
فائیو جی نیلامی کے بعد مارکیٹ میں فائیو جی سپورٹڈ موبائل فونز کی تعداد میں اضافے کا امکان ہے، جبکہ حکومت بھی لیزنگ پالیسی کے تحت شہریوں کو آسان اقساط پر فائیو جی فون فراہم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے نیلامی کے پیش نظر موبائل فون مینوفیکچررز کو ہدایت دی ہے کہ وہ فائیو جی سپورٹڈ موبائل فونز مارکیٹ میں فراہم کرنا شروع کریں، جس پر کام جاری ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے ہی موبائل فون لیزنگ پالیسی کا اعلان کر چکی ہے، جس میں اب فائیو جی سپورٹڈ فونز کو بھی شامل کیا جائے گا۔
اس پالیسی کے تحت شہری آسان اقساط پر فائیو جی سپورٹڈ موبائل فون خرید سکیں گے۔ موبائل فون لیزنگ پالیسی کا مقصد زیادہ سے زیادہ لوگوں کو فائیو جی فون استعمال کرنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔
حکومتی مسودے کے مطابق موبائل فون کمپنیاں، بینک اور دیگر مالیاتی ادارے اور موبائل آپریٹرز مل کر شہریوں کو یہ فون فراہم کریں گے، جس کے لیے ایک مخصوص طریقہ کار طے کیا جائے گا۔ اس حوالے سے حتمی اعلان بعد میں حکومت کی جانب سے متوقع ہے۔
دوسری جانب اگر اس وقت پاکستان کی موبائل مارکیٹ کا جائزہ لیا جائے تو فائیو جی سپورٹڈ موبائل فونز کی تعداد 10 فیصد سے بھی کم بتائی جا رہی ہے۔
فائیو جی موبائل پیکجز کے حوالے سے چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کا کہنا تھا کہ فائیو جی پیکجز فور جی پیکجز سے زیادہ مہنگے نہیں ہوں گے، اور ایک بار جب مارکیٹ ہم آہنگ ہو جائے تو صارفین کو قابلِ استطاعت اور مناسب قیمتوں پر فائیو جی سروسز دستیاب ہوں گی۔
اسلام آباد کی بلیو مارکیٹ میں موبائل فونز کے کاروبار سے وابستہ تاجر ریحان کلیم کے مطابق ان کے پاس بڑی کمپنیوں کے صرف اپر ماڈلز ہی فائیو جی سپورٹڈ ہیں، جن کی قیمت تقریباً ایک لاکھ روپے سے شروع ہوتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ فائیو جی سروس کی افادیت اسی وقت ممکن ہے جب صارفین کے پاس فائیو جی سپورٹڈ موبائل فونز موجود ہوں، اور حکومت کی لیزنگ پالیسی اس خلا کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
اسلام آباد میں منعقدہ فائیو جی نیلامی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی کے اس انقلاب کو نظر انداز کرنا پاکستان کے لیے ممکن نہیں۔ ان کے مطابق نہ صرف ملک فائیو جی کے دور میں داخل ہو گا بلکہ فور جی سروسز میں بھی بہتری آئے گی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ وزیراعظم نے رائٹ آف وے چارجز ختم کر دیے ہیں، جس سے فائبرائزیشن کا عمل تیز ہو گا اور آئندہ چار سے پانچ ماہ میں فور جی سروس میں نمایاں بہتری دیکھنے کو ملے گی۔

شیئر: