Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی کابینہ: غزہ امن منصوبے کے دوسرے مرحلے اور ٹرمپ کے’ بورڈ آف پیس‘ کا خیرمقدم

کابینہ کا اجلاس ریاض میں شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی زیر صدارت ہوا (فوٹو: ایس پی اے)
سعودی کابینہ نے علاقائی اور بین الاقوامی صورتحال کا جائزہ لیا ہے، غزہ میں جامع امن منصوبے کے دوسرے مرحلے، غزہ پٹی کی انتظامیہ کے لیے فلسطینی قومی کمیٹی کے کاموں کے آغاز کا خیرمقدم کیا گیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے’ بورڈ آف پیس‘ کے قیام کے اعلان کا بھی خیرمقدم کیا اور اس حوالے سے بین الاقوامی کوششوں کو سراہا۔
سعودی خبررساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق کابینہ کا اجلاس منگل کو ریاض میں شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی زیر صدارت ہوا۔
 
اجلاس کے آغاز میں کابینہ کو ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو عمان کے فرمانروا سلطان ھیثم بن طارق کے مکتوب اور شام کے صدر احمد الشرع کے ٹیلی فونک رابطے کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔
اجلاس نے غزہ میں جنگ بندی کو برقرار رکھنے، خلاف ورزیوں کو روکنے اور انسانی بنیادوں پرامدادی اشیا کی ترسیل میں یقینی بنانے کے ساتھ فلسطینی نیشنل اتھارٹی کو اپنی ذمہ داریاں دوبارہ شروع کرنے کی راہ ہموار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
ان اقدامات کا مقصد ج اسرائیلی قبضے کا خاتمہ، اقوام متحدہ کی قرار دادوں،عرب امن اقدام  اور دو ریاستی حل کے اصول کے مطابق ایک آزاد فلسطینی ریاست کا حصول ہے۔
 وزیر اطلاعات سلمان الدوسری نے ایس پی اے کو بتایا ’اجلاس میں سعودی عرب کی جانب سے جمہوریہ شام میں جنگ بندی کے معاہدے اورشامی ڈیموکریٹک فورسز کا ریاست کے ساتھ انضمام کا خیر مقدم کیا۔‘
کابینہ نے اس یقین کا اظہار کیا کہ یہ عمل جمہوریہ شام کی خودمختاری، عوام اور ریاست کی فلاح وترقی کے لیے اہم ہے۔
اجلاس نے یمنی بحران کے خاتمے اور ریاض کانفرنس کے ذریعے جنوبی مسئلے کے مستقبل کو حل کرنے کے لیے جاری کوششوں کا بھی جائزہ لیا۔
مملکت کی جانب سے جمہوریہ یمن میں شروع کیے جانے والے مختلف ترقیاتی منصوبوں کو سراہا گیا۔
کابینہ نے مملکت کی اقتصادی شراکت داری کو مضبوط بنانے کے حوالے سے تازہ ترین پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ 
ریاض میں منعقدہ فیوچر منرلز فورم کے پانچویں ایڈیشن کی کامیابی کو سراہا جس میں 91 ممالک شریک تھے۔ فورم میں 100 ارب ریال کے سے زیادہ کے 132 معاہدے اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔
اجلاس نے مملکت کی معیشت میں تیل کے ماسوا آمدنی میں اضافے کو سراہا جس میں گزشتہ پانچ برسوں میں 5 سے 10 فیصد سالانہ کی شرح نمو ریکارڈ کی گئی ۔
اجلاس میں ایجنڈے میں شامل امور بھی زیر بحث آئے۔ متعدد ممالک کے ساتھ مختلف امور میں تعاون کی مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کی بھی منظوری دی گئی۔

 

شیئر: