سعودی عرب سمیت آٹھ مسلم ملکوں کا ٹرمپ کے ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کا فیصلہ
بیان میں صدر ٹرمپ کی سربراہی میں امن کوششوں کی سپورٹ کا اعادہ کیا گیا (فوٹو: روئٹرز)
سعودی عرب، ترکیہ، مصر، اردن، انڈونیشیا، پاکستان، قطر اور متحدہ عرب امارات نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ کے لیے ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کی دعوت قبول کرلی۔
ایس پی اے کے مطابق وزرائے خارجہ نے بدھ کو ایک مشترکہ بیان میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سربراہی میں امن کوششوں اور ’بورڈ آف پیس‘ کے مشن کی سپورٹ کے عزم کا اعادہ کیا، جس کا اعلان غزہ کے جامع امن منصوبے میں کیا گیا ہے۔
اس مشن کا مقصد مستقل جنگ بندی، غزہ کی تعمیر نو کی سپورٹ، بین الاقوامی قانون کے مطابق فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت اور آزاد ریاست پر مبنی منصفانہ اور پائیدار امن کو فروغ دینا ہے۔
تاکہ خطے کے تمام ملکوں اور عوام کے لیے سلامتی اور استحکام کی راہ ہموار کی جا سکے۔
بیان میں کہا گیا کہ ہر ملک اپنے متعلقہ قانونی اور دیگر ضروری طریقہ کار کے مطابق شمولیت کی دستاویز پر دستخط کرے گا۔
مصر، پاکستان اور متحدہ عرب امارات پہلے ہی بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت قبول کرچکے ہیں۔
قبل ازیں پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے بدھ کو جاری اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ ’صدر ٹرمپ کی جانب سے وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کو دی گئی دعوت کے جواب میں، پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے تحت غزہ امن منصوبے کے نفاذ کی حمایت کے لیے اپنی جاری کوششوں کے حصے کے طور پر بورڈ آف پیس میں شمولیت کا فیصلہ کیا ہے۔‘
’ پاکستان کو امید ہے کہ اس فریم ورک کے قیام کے ساتھ مستقل جنگ بندی کے نفاذ، فلسطینیوں کے لیے انسانی امداد میں مزید اضافے، اور غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے عملی اور ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے۔‘
خیال رہے امریکہ نے ’غزہ ایگزیکٹو بورڈ‘ کے قیام کا اعلان کیا تھا جو ایک وسیع تر ’بورڈ آف پیس‘ کے تحت کام کرے گا۔ یہ بورڈ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیرِصدارت قائم کیا جانا ہے اور غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے ان کے 20 نکاتی منصوبے کا حصہ ہے۔
ایگزیکٹو بورڈ کو مشاورتی حیثیت حاصل ہوگی جس میں ترکیہ کے وزیرِ خارجہ حاکان فدان اور قطری سفارت کار علی الثوادی سمیت مختلف علاقائی اور بین الاقوامی شخصیات شامل ہیں۔
روئٹرز کے مطابق امریکی انتظامیہ کی جانب سے تقریباً 60 ممالک کو بھیجے گئے ایک چارٹر کے مطابق نئے ’بورڈ آف پیس‘ کی رکنیت تین سال سے زیادہ برقرار رکھنے کے خواہاں ممالک کو ایک ارب ڈالر نقد ادا کرنا ہوں گے۔
