پریہ درشنی مٹو ریپ کیس: جب شواہد چیختے رہے اور نظام خاموش رہا
پریہ درشنی مٹو ریپ کیس: جب شواہد چیختے رہے اور نظام خاموش رہا
جمعہ 23 جنوری 2026 12:14
یوسف تہامی -دہلی
23 جنوری 1996 کو دہلی میں ایک کشمیری پنڈت لڑکی کو ریپ کے بعد قتل کر دیا گیا تھا (فوٹو: اے ایف پی)
آپ میں سے بہت سے لوگوں کو دہلی کی چلتی بس میں ہونے والے ریپ اور قتل کے بارے میں معلوم ہوگا جسے عرف عام میں ’نربھیا کیس‘ کے نام سے جانا جاتا ہے اور اس کے بعد ریپ سے متعلق سخت قانون متعارف کرائے گئے۔
لیکن آج سے 30 سال پہلے کی بات ہے جب 23 جنوری 1996 کو دہلی میں ایک کشمیری پنڈت لڑکی کو ریپ کے بعد گلا گھونٹ کر مار ڈالا گیا۔
اس واقعے نے نہ صرف دہلی کو ہلا کر رکھ دیا بلکہ اس کے بعد ہونے والی قانونی کارروائی نے بہت سے ایسے سوال کھڑے کیے جو اب تک جواب طلب ہیں۔
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں علیحدگی پسند تحریک اپنے عروج پر تھی اور کشمیری پنڈتوں کی جان کو خطرہ تھا چناچہ مٹّو خاندان وادی سے نقل مکانی کر کے جموں چلا گیا اور پھر وہاں سے کچھ لوگ دہلی منتقل ہو گئے۔
اس دن دہلی میں غیر معمولی ٹھنڈک تھی۔ سورج نکل آیا تھا مگر روشنی کمزور اور بے جان تھی۔ اسی خاموش صبح میں، ایک فلیٹ کے بند دروازے کے پیچھے ایک ایسا واقعہ رو نما ہوا تھا کہ برسوں تک ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دینے والی کہانی سامنے آئی۔
پریہ درشنی کے چچا کے فلیٹ کی گھنٹی مسلسل بج رہی تھی، مگر اندر سے کوئی جواب نہیں آ رہا تھا۔ پڑوسیوں کو خدشہ ہوا۔ دروازہ توڑا گیا تو کمرے کا منظر دیکھ کر سب کے دل دہل گئے۔
پریہ درشنی مٹّو فرش پر بے جان پڑی تھیں۔ جسم پر تشدد کے واضح نشانات تھے، کمرہ بکھرا ہوا تھا۔ وہ صرف 25 برس کی تھیں جب ان کا بہیمانہ قتل ہو گیا۔ وہ خود قانون کی طالبہ تھیں اور انصاف پر یقین رکھتی تھیں لیکن اب خود انہیں انصاف چاہیے تھا۔
خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ پولیس آئی، تصاویر لی گئیں، سوالات اٹھے۔
رفتہ رفتہ اس کہانی سے پردہ اٹھنے لگا۔ انڈین میڈیا میں یہ بات سامنے آئی کہ لا کالج میں پریہ درشنی کے سینیئر سنتوش سنگھ پریہ درشنی کو دل دے بیٹھے تھے اور انہیں مختلف طریقوں سے زچ کر رہے تھے۔
تنگ آ کر پریہ درشنی کے گھر والوں نے پولیس میں شکایت کر دی لیکن کوئی اثر نہ ہوا۔ پریہ درشنی نے بار بار پولیس کے دروازے کھٹکھٹائے۔
سنتوش سنگھ اثر و رسوخ رکھنے والا ایک ضدی شخص تھا۔ پولیس میں شکایت کرنا بیکار رہی کیونکہ وہ ایک سینئر آئی پی ایس افسر کا بیٹا تھا۔
جج نے فیصلے میں کہا کہ ’ملزم کے مجرم ہونے کا شبہ ہے مگر شواہد کافی نہیں ہیں۔‘ (فوٹو: اے ایف پی)
دھمکیاں، فون کالز، تعاقب اور خوف کے درمیان زندگی گزرتی رہی اور یہ سب کچھ تحریری شکایات میں درج تھا۔ مگر فائلیں دبتی رہیں، افسر بدلتے رہے اور خطرہ نظرانداز کیا جاتا رہا۔
لیکن جب انہونی ہو گئی تو پھر تفتیش شروع ہوئی مگر ہر قدم پر کوئی نہ کوئی اس پر اثر انداز ہو رہا تھا۔ شواہد موجود تھے، حالات واضح تھے، ماضی چیخ چیخ کر سچ بتا رہا تھا، مگر ثابت ہو رہا تھا کہ اثر و رسوخ سے کیا کچھ نہیں ہو سکتا۔
گواہ ڈرے ہوئے تھے، افسر محتاط، اور نظام سست نظر آ رہا تھا۔ سنتوش کے والد پانڈی چیری سے منتقل ہو کر دہلی آ گئے تھے۔
جب مقدمہ عدالت میں پہنچا تو امید کی ایک باریک سی کرن نظر آئی۔ مگر 1999 میں، وہ کرن بھی بجھا دی گئی۔ جج نے سنتوش کو تمام الزامات سے بری کر دیا تھا۔
جج نے فیصلے میں کہا کہ ’ملزم کے مجرم ہونے کا شبہ ہے مگر شواہد کافی نہیں ہیں۔‘ 450 صفحات کے فیصلے میں دہلی پولیس کی سست روی پر سخت برہمی کا اظہار کیا گیا تھا۔
کمرۂ عدالت میں خاموشی تھی، مگر باہر بے بسی چیخ رہی تھی۔ سب جانتے تھے کہ یہ صرف قتل کا کیس نہیں بلکہ طاقت بمقابلہ سچ کی جنگ ہے۔
پریہ درشنی کے والدین کے لیے وقت وہیں تھم چکا تھا مگر انہوں نے ہار نہیں مانی۔ ایک دروازہ بند ہوا، تو انہوں نے دوسرا کھٹکھٹایا۔ ایک کے بعد ایک سال خاموشی سے گزرتے گئے۔ اب یہ ایک ذاتی جنگ نہیں رہی تھی بلکہ ایک نظام کے خلاف قانونی جنگ بن چکی تھی۔
اور پھر 10 سال بعد پریہ درشنی کے قتل کے کیس کی فائل دوبارہ کھلی۔ سن 2006 میں اچانک کہانی نے پلٹا کھایا۔ طلبہ کی جانب سے اس معاملے کے لیے پھر سے آواز اُٹھائی گئی۔
دہلی ہائی کورٹ نے سماعت جلد از جلد مکمل کرنے کا حکم دیا اور پھر 17 اکتوبر 2006 کو فیصلہ سنا دیا گیا۔
عدالت نے کہا کہ ’تفتیش متاثر ہوئی، انصاف کو دبایا گیا اور طاقت نے قانون کو متاثر کیا ہے۔‘
2010 میں سپریم کورٹ نے سنتوش سنگھ کی سزائے موت کو عمر قید میں بدل دیا (فوٹو: روئٹرز)
سنتوش کمار سنگھ کو قصوروار ٹھہرایا گیا اور انہیں تعزیرات ہند کی دفعات 302 (قتل) اور 376 (ریپ) کے لیے سزائے موت سنائی گئی۔
یہ فیصلہ کسی تھرلر فلم کے کلائمیکس جیسا تھا جب قاتل آخرکار بے نقاب ہو گیا تھا۔ مگر اثر و رسوخ حقیقت پر اثر انداز ہوا۔ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی گئی۔
2010 میں سپریم کورٹ نے سزائے موت کو عمر قید میں بدل دیا۔ اختلاف ہوا، مگر ایک بات اٹل رہی کہ سنتوش مجرم تھا۔
سنتوش سنگھ نے چار سال جیل میں گزارے اور پھر انہیں 2011 میں پرول پر رہا کیا گیا۔ واپسی پر انہوں نے پھر سے پرول کی درخواست دی اور 2012 میں انہیں دلی ہائی کورٹ کی جانب سے ایک ماہ کی پرول پر رہائی مل گئی۔
یہ کہانی ایک قتل پر ختم نہیں ہوتی۔ یہ آج بھی زندہ ہے، قانون کی کتابوں میں، عدالت کی کارروائیوں میں، اور ہر اس سوال میں جو ہم خود سے پوچھتے ہیں کہ اگر ہم وقت پر سن لیتے، تو کیا 23 جنوری کبھی آتی؟
پریہ درشنی مٹّو جان سے گئیں، مگر ان کی کہانی نے نظام کو بے نقاب کر دیا۔ اگر یہ معاملہ نربھیا کیس کے بعد ہوتا تو شاید فیصلہ بھی مختلف ہوتا۔